فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر337

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر337
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر337

  

اقبال شہزاد صاحب نے بتایا کہ فی الحال ایک بوتل خون وہ دے چکے ہیں۔ ان کے دو عزیز بھی دو بوتلیں دے رہے ہیں۔ مزید خون دینے کے لیے اسٹوڈیو سے ہمارے اسٹاف کے لڑکے اور دوسرے لوگ بھی پہنچ چکے ہیں۔

ہم یہ پہلے بتا چکے ہیں کہ اس زمانے میں فلمی دنیا ایک خاندان کی طرح تھی۔ سب ایک دوسرے سے ملتے تھے۔ محبت کرتے تھے۔ ہمدردی رکھتے تھے اور دکھ درد میں ایک دوسرے کے کام آتے تھے۔ بعد میں ہمیں مختلف اوقات میں خون کی سترہ اٹھارہ بوتلیں فراہم کی گئی تھیں اور خون دینے والوں کی کبھی کمی نہیں پڑی بلکہ بہت سے لوگوں کو شکریہ کے ساتھ لوٹا دیا گیا۔ اقبال شہزاد نے اس وقت ہمیں دوبوتل خون دیا تھا۔ چھ سات مہینے بعد ہم دوبارہ اچانک السر برسٹ ہوجانے کے باعث ہسپتال پہنچے تو انہوں نے پھر ہمیں دو بوتل خون فراہم کردیا تھا۔ وہ اکثر مذاق میں کہا کرتے تھے کہ’’ آفاقی۔ تمہاری رگوں میں میرا خون دوڑرہا ہے جس کی وجہ سے اب تم ایک بہتر انسان بن چکے ہو‘‘۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر336 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

کبھی انہیں ہم سے شکایت پیدا ہوتی تو وہ کہتے ’’یار تم اتنے کمینے ہوگئے ہو؟‘‘

ہم فوراً جواب دیتے ’’میر صاحب۔ جب سے آپ نے خون دیا ہے ہم ایسے ہوگئے ہیں۔‘‘

’’کیا مطلب ہے؟ کیا میرا خون خراب ہے؟‘‘ وہ مصنوعی غصے سے پوچھتے۔

’’ارے نہیں۔ بات یہ ہے کہ ہمیں تو انیس بوتل خون دیا گیا تھا۔ نہ جانے کس کس کا خون ہمارے جسم میں دوڑ رہا ہے۔ یوں سمجھئے کہ کاک ٹیل سی بن گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ ہماری خصلت میں کچھ نہ کچھ فرق تو پڑا ہوگا۔‘‘

ڈاکٹر ولیم کی نگرانی میں ہمیں خون لگا دیا گیا اور ہم چُپ چاپ بے حس و حرکت لیٹ گئے۔ اس کے بعد خون دینے کا یہ سلسلہ کئی روز تک جاری رہا۔ ہمیں باری باری خون اور گلوکوز دیا جاتا رہا۔ دوسرے دن اس بات کی بھی تصدیق ہوگئی کہ ہمیں شدید قسم کا السرہے۔ معدے کے اندر ایک بڑی رگ اچانک پھٹ گئی ہے جس کی وجہ سے نلکے کی طرح خون بہنا شروع ہوجاتا ہے۔ اس خون کو روکنا سب سے ضروری کام ہے۔

اقبال شہزاد نے پوچھا ’’ڈاکٹر۔ آپ اس کا آپریشن کیوں نہیں کردیتے؟‘‘

ڈاکٹر نے جواب دیا ’’شدید السر کے مریضوں کا آپریشن کرتے ہوئے بہت احتیاط اور چھان بین سے کام لینا پڑتا ہے کیونکہ السر کے 75 فیصد آپریشن میں مریضوں کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ اس لیے مجبوری کے سوا ہم آپریشن سے پرہیز کرتے ہیں‘‘

یہ لگ بھگ پینتالیس سال پہلے کی بات ہے۔ اب تو دنیا نے اور میڈیکل سائنس نے بہت زیادہ ترقّی کرلی ہے۔

شہزاد صاحب کچھ دیر ہمارے پاس بیٹھے رہے۔ اس دوران میں ہمارا چھوٹا بھائی علی عمران بھی پہنچ گیا۔ ان دنوں وہ کراچی میں امریکی تعلیمی فاؤنڈیشن میں کام کرتا تھا اور ہماری بیماری کی خبر سن کر نائٹ کوچ سے لاہور پہنچ گیا تھا۔ ہم سے بڑے بھائی سلطان بھی حیدرآباد سے کراچی اور وہاں سے بذریعہ ہوائی جہاز لاہور پہنچ گئے تھے۔

اس زمانے میں حیدرآباد سے براہ راست فضائی سروس میّسر نہ تھی۔ تمام بہن بھائی لاہور میں اکٹھے ہوگئے تھے اور باری باری ہماری خبرگیری کے لیے آتے تھے۔ دوست احباب اور فلم والوں کا بھی تانتا بندھا ہوا تھا۔ ہم تو خیرغنودگی کے عالم میں سوتے جاگتے رہتے تھے اور ہسپتال کی انتظامیہ کی طرف سے ملاقاتیوں پرسخت پابندی عائد تھی۔ اس کے باوجود فلم والے اور فلم والیاں کسی نہ کسی طرح ہمارے پاس پہنچ کر مزاج پُرسی کرلیا کرتے تھے۔ یہ تو ہمیں نرسوں نے بعد میں بتایا کہ ان دنوں ہسپتال میں بہت رونق ہوگئی تھی اور فلم والوں کا میلہ سا لگا رہتا تھا۔ فلمی دنیا کی ہر قابل ذکر ہستی ہسپتال کا پھیرا لگا چکی تھی۔ بعض فنکار کئی کئی بار آئے اور دور ہی سے ہمیں محو خواب دیکھ کر لوٹ گئے۔ ہسپتال والوں کو اس ہجوم کی وجہ سے پریشانی تو ہوئی مگر دیرینہ آرزوئیں بھی پوری ہوگئیں۔ پاکستان کی فلمی دنیا کے ممتاز افراد کو یوں نزدیک سے دیکھنا اور ان سے باتیں کرنا عام حالات میں تو ان لوگوں کے لیے ایک خواب ہی تھا جو ہماری بیماری کی وجہ سے حقیقت میں بدل گیا تھا۔

فلم والے وقت کی پابندی نہیں کرتے اور کرتے بھی توکیسے۔ جس کو جس وقت فرصت ملتی تھی وہ ہماری خبر لینے چلا آتا تھا۔ ہم دوائیوں کے زیراثر بھی سوتے جاگتے رہتے تھے۔ کبھی آنکھ کھل جاتی تو سامنے کوئی شناسا کھڑا نظر آجاتا۔ کبھی کوئی ہیروئن تشویش سے کھڑی گھورتی نظر آتی ۔ ہمیں آنکھیں کھولتے دیکھ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل جاتی اور وہ ہماری مزاج پرسی بھی کرلیا کرتی ۔ ہسپتال والوں پر اس کابہت رعب پڑ گیا تھا جس کی وجہ سے مستقبل میں ہمارے لیے کافی سہولتیں پیدا ہوگئیں اور کچھ پریشانیاں بھی پیش آئیں۔

ہماری بیماری کا یہ سلسلہ ایک ڈیڑھ سال تک جاری رہا تھا جس کی وجہ سے یو سی ایچ میں آمدورفت ہمارے معمول میں داخل ہوگئی تھی۔ اس کا احوال آپ آگے بھی سنیں گے۔

دس بارہ دن گزرنے کے بعد ڈاکٹر ولیم نے ہمیں یہ خوشخبری سنا دی کہ آپ کے السر پر قابو پالیا گیا ہے اور آپریشن کی ضرورت پیش نہیں آئے گی مگر کم از کم چھ ماہ آپ کو کھانے پینے میں سخت پرہیز کرنا پڑے گا۔ ٹینشن اور تھکاوٹ پیدا کرنیوالے کاموں سے بھی دور رہنا ہوگا۔ آئندہ دو ماہ تک مکمّل آرام کرنا ہوگا وغیرہ وغیرہ۔

ہماری حالت رفتہ رفتہ بہترہوگئی تھی۔ چلنے پھرنے بھی لگے تھے۔ ہنسی مذاق کرنے کی طاقت بھی عود کر آئی تھی جس کی وجہ سے خاصی دلچسپی رہتی تھی۔ جب مرض کی شدت ختم ہوئی اور ہوش ٹھکانے آئے تو ہم نے اپنے آس پاس کی چیزوں کا بہ غور جائزہ لینا شروع کیا۔ معلوم ہوا کہ اس ہسپتال میں نرسیں تعلیم یافتہ‘ مہذّب‘ خوش شکل اور بہت بااخلاق ہیں۔ ایک خاتون گہری سانولی رنگت کی تھیں مگر ناک نقشہ اور ملاحت ایسی کہ بس دیکھتے ہی رہو۔ نازک اندام اور اسمارٹ تھیں مگر ہم نے انہیں کبھی بولتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ ان کی ڈیوٹی اکثر رات کے وقت ہوتی تھی۔ ہماری حالت کچھ بہتر ہوئی تو ہم مسلسل لیٹے رہنے سے عاجز آگئے۔ کوئی بات کرنے والا بھی نہیں تھا۔ رات کے وقت اکثر ہماری آنکھ کُھل جاتی تھی اور ہم بہت دیر تک جاگتے رہتے تھے۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر338 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -فلمی الف لیلیٰ -