سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 35

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 35
سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 35

  

ابھی اس کا گھوڑا ٹہلایا جا رہا تھا اور وہ سراپردہ خاص میں کھڑا بنائے ہوئے گول انگاروں سے ہاتھ سینک رہا تھا اور خادم بکتر کھول رہے تھے کہ وہ نوجوان صلیبی سردار پیش کیا گیاجس کا رنگ سفید،آنکھیں نیلی اور خود سے نکلے ہوئے بالوں کے گچھے سرخ تھے۔سفید بکتر میں وہ ایک کمسن لڑکے کی طرح کھڑا ہوا خوف سے کانپ رہا تھا۔ہیرے کی صلیب پر نظر پڑتے ہی اس کا دل دھڑک اٹھا۔اس نے تھوڑی دیر خاموش رہ کر اپنی آنکھیں اس کی شرمیلی آنکھوں میں ڈال دیں۔

’’میرے قریب آؤ ‘‘

’’ڈرو نہیں ‘‘

’’تم کچھ کہنا چاہتے ہو ۔۔۔کہو ‘‘

’’میں ۔۔۔میں نے جب تک آپ کو دیکھا نہیں تھا آپ کے نام سے خوف لگتا تھا۔لیکن اب۔۔میں آپ کے سامنے ہوں مجھے یقین ہے کہ آپ مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔‘‘

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 34 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ہم تو ایک چیونٹی کو بھی نقصان یا فائدہ پہنچانے کی قدرت نہیں رکھتے اور اگر ہمیں خدا قوت عطا بھی کر دے تو ایلینور کی بیٹی کو ہم سے فائدہ۔۔صرف فائدہ ہی پہنچے گا‘‘ ایلینور کی بیٹی کی فولادی موزوں میں جکڑی ہوئی سبک پنڈلیاں کانپنے لگیں اور اس نے آگے بڑھ کر جین کے سرپر ہاتھ رکھ دیا اور سر سے پاؤں تک عام شامی لڑکیوں کی طرح شرم کا مجسمہ بن گئی۔اس نے جین کو اپنے پاس تخت پر بٹھا لیااور سلطان کی آواز گونجی ۔

’’طغرل‘‘

’’دین پناہا‘‘

شہزادی جین کے ہم رکابوں کو آرام سے رکھو۔زخمیوں کو طبیب خاص کی نگرانی میں دے دو اور ملک العادل کی کنیزوں کو حکم پہنچا دوکہ شاہزادی کی خدمت میں حاضر ہوں ۔‘‘

ہر چندکہ رات بھڑنے لگی تھی تاہم ان امیروں کو طلب کیا گیا جو سامان بادشاہی کے امین تھے۔قیام گاہِ شاہی کی پشت پروہ دوسرا پردہ نصب کیا گیا جس کے تین درجے تھے اور تما م شہتیر چاندی کے تھے۔چھت اور دیواروں دیبائے رومی تھیں،پردے یمنی چادروں کے تھے اور فرش بے نظیر قالینوں کا تھا اور جسے بغداد کے امیر المومنین نے فتح بیت المقدس کے وقت تحفہ میں بطور عنایت کیا تھا۔اس نے سونے کا وہ پلنگ بچھایا گیا جسے آرمینیہ کے بادشاہ روپن نے نذرمیں گزارا تھا۔زریں و سیمیں کرسیاں وتپائیاں،انگیٹھیاں،فانوس،آفتابے اور زرکار شیسے کے آلات وظروف سجائے گئے جو سلطان مقدونیہ نے خراج میں پیش کئے تھے۔مغرب کے حسین ترین کنیزیں مشرق کے بھاری جوڑوں اور جڑاؤ زیوروں میں جگمگاتی ہوئی خدمت کو حاضر ہوئیں۔بنفس و نفیس شاہزادی جین کی رفاقت کو اٹھا ۔اصرارکرکے کھانا کھلوایا اور کنیزوں کی دلجوئی کی تاکید کر کے واپس ہوا۔ساری رات بیداررہ کر اور لشکر کو ہوشیار رکھ کر ایک کشمکش میں گزاردی۔

صبح ہوتے ہی بیان کیا گیا کہ سلطنت انگیشہ اور دولت صقلیہ کے چندمشہور امیر بھی شاہزادی کے ہمرکابوں کے ساتھ گرفتار ہوئے ہیں۔جنہیں شاہزادی کی بارگاہ میں بازیاب ہونے کا حکم دیاگیا۔

جین کنیزوں کے جھرمٹ میں زرد کفتان پر صلیب پہنے سلام کو حاضر ہوئی۔غلاموں نے وہ کشتیاں پیش کی جوممالک اسلامیہ کے بیش بہار زیورات،ملبوسات اور نوادرات سے لبریز تھیں۔تما م نعمتوں کوصندوق میں بند کیا گیا۔ڈیوڑھی پر سوار وں کے گھوڑے ہنہنانے لگے جنہیں شاہزادی کے جلومیں چلنے کیلئے منتخب کیا گیا تھا۔پھر طغرل نے عیسائی امیرں کو پیش کیا۔جو خالی نیام پہنے زخموں پر پٹیاں باندھے،بے یقین آنکھیں کھولے گونگوں کی طرح کھڑے تھے۔جین روانگی کیلئے آہنی لباس پہنے سراپردہ خاص کے دوسرے درجے میں چلی گئی اور ملک العادل باریاب ہوئے ۔رچرڈکا فوراًخط پیش کیا۔جس پر نگاہ ڈالتے ہی مزاج مکدر ہو گیا۔کاتب طلب ہوا۔عیسائی امراء اور مسلمان سرداروں کی موجودگی میں جواب لکھوادیا۔

’’خدا کے ناچیز بندے،رسول ﷺکے ادنیٰ خادم،بادشاہوں کے بادشاہ یوسف ابن ایوب صلاح الدین غازی کی طرف سے جزیرہ انگلستان کے فرمانردارکے نام

تمہارے خط سے جس گستاخی کی بو آتی ہے۔وہ درحقیقت ہماری اس مشرق روایتی خاکساری کی دین ہے۔جسے ہم جزوِشرافت اور خاصۂ انسانیت خیال فرماتے ہیں اور جس کے اظہار پر ہم نادم نہیں ہیں۔

تحریر کی ہوئی یہ خواہش کہ ہم اپنے مقام سے اتر کر تمہاری صف میں کھڑے ہوجائیں اور گفت وشنید فرمائیں،منظور نہیں کی جا سکتی ،اس لئے کہ جزیرۂ انگلستان جیسی سلطنت رکھنے والے کتنے ہی حکمران تخت سے اتر کر پا پیادہ چل کر ہمارے سفیروں کا استقبال کرتے ہیں۔تم افرنجی لشکر کے سپہ سالار ہو تمہارے اس شرف کا لحاظ کیا گیااور عساکراسلامی کے سالارِاعظم کو اس کے مراتب کا خیال نہ فرماتے ہوئے تم سے گفتگو کا حکم دیا گیا۔ورنہ کسی ہمر کاب اور باجگداز کو اس خدمت پر مامور کیا جاتا۔

ہم تم کو شرف ملاقات سے محروم رکھتے ہیں اس لئے کہ ہمارے خون میں شامل مہمان نوازی کو چھوٹی سی ریاست کا مغرور بادشاہ اپنی بزرگی اوربر تری پر محمول کر سکتاہے اور اس کی زبان بے لگام ہو سکتی ہے۔

تم اپنے خوشامدی درباریوں اور متعصب مورخوں کی طرح عکہ کی فتح کا بڑی دھوم دھام سے ذکر کرتے ہو۔اگر تمہارا خیال صحیح ہے تو تم اور تم جیسے دوسرے بادشاہ مسیحی دنیا کی ساری قوت سمیٹ کر ہزاروں میل کا سفر طے کر کے صرف عکہ فتح کرنے نہیں آئے تھے۔گمان غالب ہے کہ تم بیت المقدس کی بازیابی کے ارادے سے آئے تھے لیکن نتیجہ کیا ہوا؟ افرنجیوں کے ناعاقبت اندیش سپہ سالار نے چارلاکھ۔۔۔شاہسواروں کی آتش جہادکو عکہ کی طوفانی اور لایعنی لڑائیوں میں خاکستر کر دیا ۔اسلامیوں کے ناخدا نے چار لاکھ تلواروں کے طوفان سے بیت المقدس کے سفینے کو محفوظ رکھ کر عکہ کے ساحلوں میں ہی ایسے غرق کر دیا،اورعکہ کی’’فاتح‘‘ فوجیں بیت المقدس کے جوار میں پڑی ہوئی واپسی کی گھڑیوں کا انتظار کر رہی ہیں۔

ملغوب الغضب بادشاہ!افرنجی لشکر اگر ہمارے کسی سپاہ سالار کے ہاتھ میں ہوتا تو وہ عکہ کو مقامی فوجوں کے حوالے کر کے عسقلان پر یلغار کرتا اور عسقلان سے بیت المقدس تک کے سارے علاقے کو جوش جہادسے پاگل آہن پوش اور بینطیرسواروں سے بھر دیتا اور پانچ بادشاہوں کے کمان میں سارا لشکر بیت المقدس کی فیصلوں پر چڑھا دیتا لیکن ایسا اس لئے نہیں ہوسکا کہ مسیحی دنیا کا کوئی ایک بادشاہ کسی کا لشکر کے ساتھ عساکرایوبی کے سامنے آنے کی ہمت نہیں رکھتا۔

عزیزم!تمھاری جتنی عمر ہے اتنی ہم نے لڑائیاں لڑی ہیں اور جیتی ہیں۔ہم نے دیکھا ہے۔تم نے سنا ہو گا کہ فاتح فوجیں مفتوح پر اس طرح گرتی ہیں جیسے پیاسا گھوڑا چشمے کی طرف چلتا ہے لیکن تمھاری فاتح فوجیں دنیا کے سب سے بڑے بحری بیڑے کی حفاظت میں ہموار راستوں پر ایک دن ڈھائی سیل چلنے سے عاجز ہیں۔

بادشاہ فاتح،مفتوح کو اپنی بہنیں نہیں پیش کرتے۔تم ایسے فاتح ہو کہ مفتوح کو ایسی ہتک آمیز رشوت دے ڈالنے پر مجبور ہو گئے اور ہم ایسے مفتوح ہیں کہ ایسی خوبصورت لالچ پر بھی غالب آگئے۔

تم نے یافا اور ارسوف کے معرکوں کا ذکر کیا ہے۔اور اپنی فتوحات پر فخر کیا ہے۔خود اپنے قول کے مطابق تم عکہ سے ڈیڑھ لاکھ چیدہ شجاعوں کے فاتح لشکر کے ساتھ نکلے تھے۔یا فاپر تم نے اپنی طاقت کا جائزہ لیااور اس بات پر مجبورہوئے کہ عکہ جاؤ اور باقی ماندہ فاتح فوج کو سلام لاؤ ۔تم عکہ میں مقدس صلیب کا واسطہ دیا۔مہد مسیح کی قسمیں دلائیں اور ایک لاکھ سواروں کے ساتھ یافہ پر نزول کیا۔اس حساب کی رو سے اس وقت تمہارے پاس ڈھائی لاکھ لشکر ہونا چاہیے لیکن تمہارا اور تمھارے قاصدوں کا بیان ہے کہ تمہارے ٖصرف ڈیڑہ لاکھ سوار ہیں تو پھر باقی ایک لاکھ سوار کیا ہوئے!کہیں ہماری مفتوح فوجوں کی تلواروں کا غلاف تو نہیں ہو گئے۔

سپہ سلار!تمہارے گھوڑے ہمارے گھوڑوں سے مضبوط ہیں۔آہنی پاکھروں سے آراستہ ہیں،تمہارے سوار قومی اور لانبے ہاتھ پیروں کے علاوہ خود پوش اور بکتر سے پیراستہ ہیں۔اور تمہاری تعداد ہر جگہ اور ہر معرکے میں ہماری تعداد سے کہیں زیادہ رہی ہے۔پھر ہم جو تمہاری طرح انسان ہیں ہلکے ہتھیاروں چھوٹے گھوڑوں اور ان سواروں کے ساتھ جوا یک حسبت میں اپنے بیوی بچوں تک پہنچ سکتے ہیں تمہاری مکمل تباہی کا منصوبہ بنا کر کس طرح یافا اور اروف میں معرکہ آرا ہوسکتے تھے۔ہم نے عکہ کی طرح کی یہاں بھی تم کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کی کوشش کی اور خدا کے فضل سے کامیاب ہوئے۔تمہاری مکمل تباہی بیت المقدس کے میدانوں میں مقدر ہو چکی ہے۔جہاں کئی لاکھ غازیوں کی تلواریں تمہاری انتطار کر رہی ہیں۔یافااور ارسوف کے میدانو ں میں جن شہیدوں کی لاشیں تم نے پائی ہیں وہ ہمارے عام سپاہی ہیں۔تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو گاکہ جب ہمارا نائب اسلطنت اور سالار اعظم ملک العادل تم سے ملنے تنہا قیام گاہ پر گیاتو اس کے ساتھ پانچ ہزار سوار ایسے تھے جن کے ریشمیں اور اونی کفتانون پر سونے کے تاروں کا کام تھا،ان کے کمر بندطلائی تھے۔ان کے مہمیززریں تھے،ان کے ہتھیار جڑاؤ تھے اور ان کے خود میں عقاب کر پردوں کی کلغیاں تھیں۔لیکن وہ ہمارے عام سپاہی تھے۔ہر معرکے میں ہم نے ایسے سپاہی کھوئے ہیں لیکن ان کی تعداد تمہارے مقتولین کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔پوری تیسری صلیبی لڑائی میں ہمارے لشکر کا کوئی بھی نامی گرامی سردار نہ زخمی ہوا اور نہ شہید ۔سوائے ایک کے جو عکہ میں گرفتار ہو گیا۔اس لئے کہ ہم نے تم سے ابھی تک کوئی فیصلہ کن لڑائی نہیں لڑی‘‘(جاری ہے )

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ. . . قسط 36 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فاتح بیت المقدس