”زینب کیلئے انصاف مانگنے نکلی تھی تب تو بڑی۔۔۔“ کراچی کے ساحل پر پکنک مناتی ماہرہ خان نے ایسا لباس پہن کر تصاویر شیئر کر دیں کہ پاکستانیوں کے غضب کا نشانہ بن گئیں، سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہو گیا

”زینب کیلئے انصاف مانگنے نکلی تھی تب تو بڑی۔۔۔“ کراچی کے ساحل پر پکنک مناتی ...
”زینب کیلئے انصاف مانگنے نکلی تھی تب تو بڑی۔۔۔“ کراچی کے ساحل پر پکنک مناتی ماہرہ خان نے ایسا لباس پہن کر تصاویر شیئر کر دیں کہ پاکستانیوں کے غضب کا نشانہ بن گئیں، سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہو گیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان میں سردی کا زور ٹوٹ چکا ہے اور ان دنوں میں دھوپ میں نکلنے کا لطف آ جاتا ہے جبکہ کراچی میں تو ساحل سمندر پر جانے والے افراد کیلئے یہ دن انتہائی زبردست ہیں۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔”جس جس نے سرفراز کا آج انٹرویو سنا ہو گا وہ۔۔۔“ عاقب جاوید پہلے ٹی 20 میں شکست سے آگ بگولہ ہو گئے، کپتان کا انٹرویو سننے کے بعد ایسی بات کہہ دی کہ سرفراز احمد بھی شرمندہ ہو جائیں گے

بہت سے دیگر لوگوں کی طرح ماہرہ خان اور ان کے دوستوں نے بھی ساحل سمندر پر وقت گزارنے کا فیصلہ کیا اور وہاں پہنچ کر تصاویر بھی بنوائیں لیکن جیسے ہی تصاویر سوشل میڈیا پر آئیں تو ماہرہ خان کا لباس دیکھ کر پاکستانی غضبناک ہو گئے اور انہیں خوب آڑے ہاتھوں لیا۔

ماہرہ خان نے ”رِپڈ جینز“ یعنی پھٹی ہوئی جینز پہن رکھی تھی جو کہ ایک فیشن ہے لیکن ”کی بورڈ وارئیرز“ یہ برداشت نہ کر سکے اور ایسی ایسی باتیں کہہ دیں جو انہوں نے خواب میں بھی نہ سوچی ہوں گی۔

ایک صارف نے لکھا ”ہمیں اس کیلئے نئی پینٹ خریدنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ اس کی حقدار ہے۔ اس کی پھٹی ہوئی پینٹ اور غربت تو دیکھو۔ یہ خوبصورت نظر آنے کیلئے سخت محنت کر رہی ہے لیکن ایمانداری کی بات یہ ہے کہ یہ بالکل بھی خوبصورت نہیں ہے۔۔۔“

ایک صارف نے رنبیر کپور کیساتھ سگریٹ پیتے ہوئے تصاویر لیک ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ”ماہرہ خان کے ہاتھ میں سگریٹ کے بجائے گلاس؟ اوہ سگریٹ کے بعد یہ ایک قدم اور آگے بڑھ گئی ہے۔۔۔۔ اگر آپ سمجھ رہے ہیں کہ میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں“

ایک اور صارف نے لکھا ”بہن جی۔۔۔ آپ پاکستان میں ہیں۔۔۔ کچھ تو لحاظ کرو۔۔۔ ہماری قوم میں آپ کو اس طرح دیکھ کر میں اپنی بیٹیوں سے کیا کہوں گا؟“

ایک صارف نے ماہرہ خان کی حمایت میں لکھا ”برائے مہربانی ’بے غیرتی‘ وغیرہ والے کمنٹ نہ کریں۔ یہ ان کی گلیمر کی دنیا ہے۔ خود تک سارا دن لڑکیاں تاڑتے ہیں یہاں بھی لڑکیوں کو متاثر کرنے کیلئے شریف بن جاتے ہیں“

ماہرہ خان کچھ روز قبل شوکت خانم میموریل ہسپتال کی فنڈ ریزنگ کیلئے دبئی بھی گئی تھیں جہاں انہوں نے خوبصورت لباس پہن کر تقریب میں شرکت کی تھی۔ بس اسی کا حوالہ دیتے ہوئے ایک اور صارف نے لکھا ”میرے خیال سے عمران خان کو اس غریب عورت کو بھی کچھ فنڈز دیدینے چاہئیں تاکہ وہ کم از کم شرٹ تو خرید لے۔۔۔ بیچاری بنیان پہن کر ہی آ گئی ہے۔۔۔“

ایک اور صارف کا کہنا تھا ”اس دوہرے معیار سے مجھے نفرت ہے۔۔۔ جب وہ زینب کیلئے انصاف مانگنے آئی تو شلوار قمیص پہنی اور سر پر دوپٹہ بھی اوڑھا۔۔۔ جب ننگا ہونا ہے تو پوری طرح ہو جاﺅ ناں۔۔۔ یہ ڈرامے بازی کیسی“

ایک اور صارف نے ماہرہ کی حمایت کی کہ ”یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ جب چاہے جو پہننا چاہے، اسے اس کی اجازت دیدی جائے۔ میں جانتی ہوں، حیران کن خیال ہے، کیا ایسا نہیں ہے؟“

ایک اور صارف نے لکھا ”بھائی کچھ بھی مت پہنے لیکن یہ ٹوپی ڈرامہ بند کر دے۔۔۔ نیویارک کی سڑکوں پر ننگی، کراچی کے ساحل پر ننگی، نیشنل ٹی وی پر سر پر دوپٹہ، پھر اتار دے نا، کیوں یہ سب کو پاگل بنا رہی ہے۔ ایک ہفتہ ہوا، دیکھ لو زینب کیلئے یہ انصاف مانگ رہی تھی۔ وہاں بھی یہی کپڑے پہن کر آتی، وہاں پر مسلمان کا روپ دھار لیتے ہیں۔ ویڈیو دیکھو مردوں کیساتھ ساحل پر ہے۔ لیکن جب قومی ٹی وی پر آتے ہیں تو دوپٹے سر پر آ جاتے ہیں“

ایک صارف نے حمایت کرنے والوں کو ہی آڑے ہاتھوں لے لیا اور لکھا ”انہیں ان کی مرضی کرنے کی آزادی دیدو، ہی ہمارے معاشرے کا اصل مسئلہ ہے“

ایک صارف نے تو لوگوں کی باتوں سے تنگ آ کر پیج کا نام تبدیل کرنے کا مشورہ ہی دے ڈالا اور لکھا ”عباس خان! اس پیج کا نام اسلامی بہن بھائی ہونا چاہئے، یا شائد اسلام کے ٹھیکیدار بھی ہو سکتا ہے۔۔۔ جیو اور جینے دو“

اس صارف کو ایک اور شخص نے جواب دیتے ہوئے لکھا ”اگر اسلام میں اس لباس کی اجازت ہے تو برائے مہربانی آپ پہن کر صبح اپنی تصویر اپ لوڈ کر دینا، میں اسے لائیک کروں گا، وعدہ ہے۔ آزادی ہے اسلام میں، ننگا پن نہیں“

ایک اور صارف کا کہنا تھا ”میں اس کے لباس کے خلاف نہیں ہوں۔۔۔ مجھے دوہرے معیار سے نفرت ہیں،سیاستدانوں کی بیٹیاں اور اداکارائیں، بھارت، امریکہ اور دبئی جا کر اپنے کپڑے اتار دیتی ہیں۔ کیوں؟ یہ ہی عزت ہے، اتنی شرم محسوس ہوتی ہے اپنی پاکستانی شلوار قمیص میں تو جیسے پاکستان میں آتی ہیں یا نیشنل ٹی وی پر تو سر پر دوپٹہ آ جاتا ہے۔ نیویارک اور دبئی کے ساحل پر ننگے گھومو لیکن پاکستان میں آتے ساتھ ہی ان کو سر پر دوپٹہ یاد آ جاتا ہے۔ مت پہنو ادھر بھی،مت پہنو ۔۔۔ اگر شلوار قمیص پہنے اور دوپٹہ لینے میں شرم محسوس ہوتی ہے اور اپنی توہین سمجھتی ہو تو بکنی پہنو۔ لیکن یہ دوہرا معیار چھوڑ دو“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -تفریح -