سیاسی اشرافیہ اوربیوروکریسی کاکڑا اِحتساب

سیاسی اشرافیہ اوربیوروکریسی کاکڑا اِحتساب
سیاسی اشرافیہ اوربیوروکریسی کاکڑا اِحتساب

  

اطلاعات کے مطابق رواں برس عام انتخابات ہونے سے پہلے نیب اور حساس اداروں نے قومی وصوبائی اسمبلی کے اراکین کے اثاثوں کی چھان بین شروع کردی ہے۔جبکہ صوبائی حکومت کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں پر تحقیقات کا آغازکردیاگیاہے۔میڈیا کے مطابق ابھی ابتدائی چھان بین ہورہی ہے،تاہم انتخابات سے پہلے ہی باقاعدہ کارروائی کا آغازکرکے تحقیقات کا سامناکرنے والے اراکین پارلیمنٹ کوطلب بھی کیاجاسکتاہے۔نیب کی تحقیقات کا دائرہ کاردیگرمحکمہ جات تک پھیلنے کے اشارے بھی مل رہے ہیں۔ہاؤسنگ کالونیوں ،نیزبیرون ملک جائیداد یں بنانے اور منی لانڈرنگ کرنے والے وزرا،ارکان اسمبلی اور اعلیٰ بیورو کریٹس کے خلاف اہم ثبوت اکٹھے کر لئے گئے ہیں ۔

قومی اخبا ر میں فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق جن کے خلاف نیب کی جانب سے جلد کارروائی کی جا رہی ہیں ۔اُن میں 6سابق اعلیٰ افسران بھی شامل ہیں، جن کا تعلق اہم ترین اداروں سے بتایاجاتا ہے،جبکہ ،3وفاقی وزیر ،6سابق وزرا، اور 12اعلیٰ پولیس افسران بھی شامل ہیں ،جن کے خلاف ثبوت اکٹھے کر کے کارروائی شروع کر دی گئی ہے ۔ان تمام لوگوں نے بے نامی جائیدادیں بنا رکھی ہیں اور مذکورہ وزراء نے مختلف کمپنیوں میں سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے ۔ اس حوالے سے نیب نے کافی حد تک ثبوت اکھٹے کر لئے ہیں ،چند دنوں میں نیب کی جانب سے 3وفاقی وزرا ء کو نوٹس بھی ملنے کا امکان ہے ۔

ہمارااِنتخابی نظام جن بنیادوں پر اُستوارکیاگیاہے،اُس میں نیچے سے اوپر تک کرپشن اوراقرباپروری کے بارہ مسالے کُوٹ کُوٹ کراِستعمال میں لائے گئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اِس ٹکسال سے جو بھی سکہ ڈھل کرنکلتاہے،وہ سیرنہیں ،سواسیرکاہوتاہے۔ اِنہی خصوصیات کی بدولت کمزورجمہوری نظام والے ملکوں میں پاکستان چھٹے نمبرپر ہے۔جمہوری نظام کو ضعف و اضمحلال سے دوچارکرنے والاوہی نسل درنسل اقتدارپر ست مافیاہے جوسرمایہ پرستوں،رسہ گیروں،بلیک مارکیٹرز،ٹارگٹ کلرزاَورمفادپرستوں پر مشتمل ہے۔جو اِس ملک پر ستر برس سے مسلط ہے۔وہ پاکستان کے سیاسی نظام کو شفافیت کی راہ پر چلنے ہی نہیں دیتا۔نتیجہ یہ ہے کہ جمہوری ڈھانچہ تنزل اوراَبتری کی دلدل میں تیزی کے ساتھ گرتا جارہاہے۔چپڑاسی کے تقررکے لیے میرٹ ،کلرک کی تعیناتی کے لیے قابلیت،حتیٰ کہ ڈرائیورکے لیے ٹیسٹ اوراِنٹرویو ضروری ہے،مگر اَسمبلی اورسینٹ کا رُکن بننے کے لیے کسی تعلیم ،تجربہ،مہارت ،قابلیت،شخصی اوصاف اورذہانت کی ہرگزضرورت نہیں ہے۔پی ایچ ڈی کرنے والے دھکے کھاتے ہیں اورپرائمری اورمڈل فیل اسمبلیوں کی رکنیت پاتے ہیں۔ہمارے حکمرانوں کوقابل افرادکی بجائے ایسے ہی بازی گروں کی ضرورت ہوتی ہے کہ جو اُن کے اقتدارکی مضبوطی کے لیے سچ کو جھوٹ اورجھوٹ کو سچ کردکھائیں۔ایسے نورَتن ہی شاہی دربارمیں مسندکے مستحق ٹھہرتے ہیں اورحق گوئی کرنے والوں کا مقدرگوالیارکے قلعہ کا قیدخانہ ہوتاہے۔

بوگس اورجعلی ووٹوں پر بننے والے نمائندوں سے عوامی نمائندگی کی توقع دیوانے کاخواب ہے۔جو شخص لاکھوں روپے میں پارٹی ٹکٹ خریدکر اورکروڑوں روپے انتخابی مہم پر خرچ کرکے اسمبلی میں پہنچتاہے۔وہ عوامی نمائندگی نہیں کرے گا،بلکہ اپناپیٹ ہی بھرے گا۔کبھی ترقیاتی فنڈزکے نام پردولت اورکبھی پارٹی سے وفاداری کے صلے میں بھاری رقمیں اُس کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوجاتی ہیں۔کروڑوں کے قرضے معاف ہوتے ہیں اوراُن کی جماعتیں کرپشن کی انتہا اورہارس ٹریڈنگ کرنے کے باوجوداَین آراوکے ذریعے پھر مقدس گائے کا درجہ پالیتی ہیں۔یہ کرپٹ انتخابی نظام ہی ہے جو سینٹ کے امیدوارکو پندرہ لاکھ،قومی اسمبلی کے امیدوارکوچالیس لاکھ اورصوبائی اسمبلی کے امیدوارکو بیس لاکھ روپے کی انتخابی مہم چلانے کی قانونی اجازت دیتاہے۔یہ الگ بات ہے کہ یہ اخراجات کروڑوں کی حدودکو چُھولیتے ہیں۔اِس سرمایہ داری نظام میں کسی غریب کے لیے انتخابات لڑنا تو ایک طرف رہا،وہ تو ووٹ ڈالنے کے لیے جانے سے بھی قاصرہوتاہے کہ وہ ووٹ ڈالے یا بچوں کی دووقت کی روٹی کا انتظام کرے۔جب تک انتخابی نظام میں خاطر خواہ انقلابی تبدیلیاں نہیں لائی جاتیں،ووٹراِس استحصالی نظام کے ہاتھوں مجبورہے کہ عوامی نمائندگی کے نام پر قوم وملک کا سرمایہ ہڑپ کرنے والوں کو منتخب ہوتادیکھتارہے اورکڑھتا اورروتا پیٹتارہے،کہ وہ اِس کے سواکرہی کیاسکتاہے!

ملک پر مسلط دوسرامافیاغلامی کے دورکی بدترین یاددگاربیوروکریسی ہے۔بیورو کریسی کا ’’بابو گروپ‘‘ جو پہلے ڈی ایم جی ہوا کرتا تھا۔ اب اس نے اپنا نام پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس رکھ لیا ہے ۔نوکرشاہی کہلانے والایہ مافیا عوام کا خادم کیسے ہوسکتاہے۔بے اندازہ مراعات اوربھاری تنخواہوں کے باوجود دَولت کی حرص ہے کہ ختم ہونے میں نہیں آتی۔اندازہ کیجیے کہ بیس،اکیس اوربائیس گریڈکے ڈیڑھ دولاکھ کے تنخواہ داربیوروکریٹ کے بچے کیسے امریکہ اوریورپ کے تعلیمی اداروں میں پرورش پاتے ہیں۔جہاں ایک سمسٹرکی فیس ہی50ہزارڈالرسے ایک لاکھ ڈالرزکے درمیان ہے۔نوکرشاہی کے یہ کارندے ہرسال چھٹیاں گزارنے کے لیے سوئٹزر لینڈ، ویانا اور مارشل آئی لینڈ جاتے ہیں۔پاکستان میں مہنگی ترین لگژری گاڑیوں میں گھومتے اورپوش علاقوں کے وسیع بنگلوں میں رہتے ہیں۔ظاہر ہے کہ ایسے شاہانہ خرچے بھاری کرپشن کے بغیرکسی طرح بھی ممکن نہیں ہیں۔بے نظیر بھٹو اورنوازشریف کے ساتھ بیوروکریسی کی سیاست میں آمدہوئی ۔زرداری کے دورمیں صوبائی بیوروکریسی بھی سیاست میں ملوث ہوئی۔اب بیوروکریسی اورسیاست یک جان دوقالب ہیں۔بدعنوانوں کے اس اتحادنے سیاسی نظام کو جس بری طرح آلودہ کیاہے۔یہ گنداَب جلدی صاف ہونے والا نہیں ہے۔قانون کی مکمل عمل داری میں بے رحمانہ،غیرجانبدارانہ اورکڑااِحتساب ہی اِس کا واحدحل ہے۔جس کے بعدکسی کا تذکرہ پانامہ اورپیراڈائزلیکس میں نہیں آئے گا۔پھر نہ کوئی عدالتی لاڈلاکہلائے گا اورنہ کوئی نااہل ہوگا اورنہ کوئی راؤ انور جیسا ایس ایس پی رینک کا افسرپچاسی ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے الزامات کی زدمیں آسکے گا۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -