کے پی کے میں طالب علم نے توہین رسالتﷺ کا الزام لگا کر کالج پرنسپل کو قتل کردیا ، پرنسپل نے کیا کیا تھا؟ حقیقت ایسی کے پاکستانی سوشل میڈیا پر طوفان آگیا

کے پی کے میں طالب علم نے توہین رسالتﷺ کا الزام لگا کر کالج پرنسپل کو قتل ...
کے پی کے میں طالب علم نے توہین رسالتﷺ کا الزام لگا کر کالج پرنسپل کو قتل کردیا ، پرنسپل نے کیا کیا تھا؟ حقیقت ایسی کے پاکستانی سوشل میڈیا پر طوفان آگیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

چارسدہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلامیہ کالج شبقدر ، چارسدہ میں ایک طالب علم نے اپنے پرنسپل پر توہین رسالتﷺ کا الزام عائد کرکے اسے بے دردی سے قتل کردیا ، پرنسپل نے فیض آباد دھرنے میں شرکت کی وجہ سے کالج نہ آنے پر طالب علم کو غیر حاضر قرار دیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق  خیبر پختونخوا کے ضلع چار سدہ کے گورنمنٹ اسلامیہ کالج شبقدر میں ایک طالب علم نے اپنے پرنسپل کو قتل کردیا ، طالب علم نے پرنسپل پر توہین رسالتﷺ کا الزام عائد کیا تھا۔ صحافی کے مطابق پرنسپل نے طالب علم کو فیص آباد دھرنے میں شرکت کیلئے غیرحاضری پر ڈانٹا تھا اور دھرنے کے دنوں میں کالج نہ آنے پر طالب علم کی غیر حاضری لگائی تھی۔ پرنسپل کے اس اقدام پر مذکورہ طالب علم طیش میں آگیا اور اپنے پرنسپل حافظ سریر کو قتل کردیا ۔ طالب علم کا کہنا تھا کہ اسے اپنے اس اقدام پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلامیہ کالج پرنسپل سریر احمد ولد گل زمان کو کالج ہی کے طالب علم فہیم ولد افتخار سکنہ شبقدر نے فائرنگ کرکے شدید زخمی کر دیا ، جنہیں انتہائی تشویشناک حالت میں پشاور منتقل کیا گیا تھا مگر وہ جانبر نہیں ہوسکے۔

مجرم کو ایف سی کے جوانوں نے موقع پر گرفتار کر کے پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔جہاں پر اس واقعے پر مجرم سے مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔ 

اس خبر کے سامنے آنے کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ”ٹوئٹر “ پر ہنگامہ برپا ہوگیا اور صارفین اس واقعے کے پر اپنے تاثرات دے رہے ہیں ، سنیر صحافی اور تجزیہ کار مبشر زیدی نے یہ خبر اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے شیئر کی تو صارفین نے اس خبر پر ہی اپنی رائے کا اظہار شروع کردیا ، ایک صارف ناسک ایم زیدی نے لکھا کہ اللہ پرنسپل کی مغفرت کرے ،ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ایک اور صارف علی بھٹی کا کہنا تھا کہ جب حکومت گھٹنے ٹیک دے گی تو اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے۔ 

مزید : علاقائی /خیبرپختون خواہ /چارسدہ /قومی