’’ میری زندگی کتنی ہے؟‘‘دست شناسوں سے پوچھا جانے والا وہ عام سوال جس کا جواب آپ خود بھی جان سکتے ہیں

’’ میری زندگی کتنی ہے؟‘‘دست شناسوں سے پوچھا جانے والا وہ عام سوال جس کا ...
’’ میری زندگی کتنی ہے؟‘‘دست شناسوں سے پوچھا جانے والا وہ عام سوال جس کا جواب آپ خود بھی جان سکتے ہیں

  

لاہور(نظام الدولہ)زندگی کی لکیر ہاتھ کا بنیادی عدسہ ہوتی ہے ۔یہ جتنی کشادہ،مضبوط و شفاف ہوگی اتنی ہی نفاست طبع،پرسکون اور کامیاب زندگی کی علامت ہوتی ہے۔ایسے افراد میں قوت مدافعت زیادہ ہوتی ہے جس سے بیماریاں حملہ آور نہیں ہوپاتیں۔بہت سے لوگ ہاتھ دکھاتے ہی سوال کرتے ہیں کہ ان کی زندگی کتنی ہے؟ اگرچہ بعض دست شناس تیقین سے اس کی نشاندہی کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کی زندگی کی لکیر سے موت کا تعین نہیں کیا جاسکتا نہ ہی بتایا جاسکتا ہے کہ زندگی کتنی ہوگی۔بہت سے دست شناس لوگوں کو الجھا کر پیسے اینٹھ لیتے اور انہیں تشویش میں مبتلا کردیتے ہیں۔میں نے خود کئی ایسے لوگوں کے ہاتھ دیکھے ہیں جن کی زندگی کی لکیر صاف ستھری اور مضبوط تھی لیکن ناگہانی موت نے انہیں آن لیا اور اس بارے میرے نظریاتمزید مضبوط ہوگئے ۔

عام طور پر زندگی کی لکیر پر ستارہ نظر آئے تو اسکو حادثاتی موت سے تشبیہ دی جاتی ہے ،یہ عمر کے جس حصہ میں ہو اسکا اثر ظاہر ہوتا ہے۔لیکن جن ہاتھوں پر ایسی علامت نظر آجائے اپنے معمولات میں تبدیلی کرلیں اور اس ستارے کا مشاہدہ بھی کرتے رہیں تو عین ممکن ہے وہ اپنی باطنی قوتوں سے اس سانحہ سے دوچار ہونے سے بچ جائیں۔مراقبہ تھیراپی سے اپنی دماغی قوتیں بڑھاکر اپنے اندر تبدیلی کریں تو اسکے اثرات ہاتھوں کی لکیروں پر بھی پڑتے ہیں۔

زندگی کی لکیر سے حوادثات اور بیماریوں کے بارے میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔یہ کب رونما ہوتے ہیں؟ اس بارے میں بتانا دشوار نہیں لیکن میری تحقیق کے مطابق زندگی کی لکیر پر یا ہاتھ میں کسی اور جگہ بھی ایسی خطرناک علامت ہوں تو دعا اور احتیاط انکی شدت کم کردیتی ہے ۔ایسے ہاتھوں میں عام طور پر زندگی کے شکستہ حصہ کے اندر دوہری لکیر ہوتی ہے جو مختصر بھی ہوسکتی ہے اور طویل بھی۔ عمر کی لکیر پر جزیرے ہوں تو یہ صحت کی خرابی کی علامت ہیں ،عمرکی لکیر کے جس حصہ پر ہوں ،اس دوران صحت کا مکمل خیال رکھنا چاہئے۔

مزید :

لائف سٹائل -مخفی علوم -