اوورسیز پاکستانیز کمشن پولیس کے ذریعے فریقین کو طلب نہیں کرسکتا،ہائی کورٹ نے کمیشن کی کارروائیاں کالعدم کردیں،فیصلہ جاری

اوورسیز پاکستانیز کمشن پولیس کے ذریعے فریقین کو طلب نہیں کرسکتا،ہائی کورٹ ...
اوورسیز پاکستانیز کمشن پولیس کے ذریعے فریقین کو طلب نہیں کرسکتا،ہائی کورٹ نے کمیشن کی کارروائیاں کالعدم کردیں،فیصلہ جاری

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے اوورسیز پاکستانیزکمیشن پنجاب کی عدالتی مقدمات میں مداخلت غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اس بابت اس کی کارروائیاں کالعدم کر دی ہیں ، عدالت نے قرار دیا کہ اوورسیز کمشن کو عدالتی اختیارات حاصل نہیں ،عدالت نے مزید قراردیا کہ پنجاب پولیس کو اوورسیز کمیشن کے ساتھ مل کر زیر سماعت دیوانی اور دیگر مقدمات میں مداخلت کرنے اور قبضے واگزار کروانے کا اختیار نہیں ہے ، اوورسیز کمیشن پولیس کے ذریعے مقدمات کے فریقین کو طلب بھی نہیں کر سکتاہے۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے یہ فیصلہ حسین محی الدین سمیت دیگر شہریوں کی درخواستوں پر جاری کیا ہے، درخواست گزاروں نے موقف اختیار کر رکھا تھا کہ اوورسیز پاکستانیز کمیشن پنجاب عدالتوں میں کیسز زیر التواءہونے کے باوجود مسلسل طلب کر رہا ہے اور متعلقہ پولیس کے ذریعے طلبی کے نوٹسز بھی بھجوائے جا رہے ہیں جبکہ اوورسیز کمیشن ایکٹ کے تحت کمشنر کو طلبی کا اختیار حاصل نہیں بلکہ اوورسیز کمیشن بیرون ملک پاکستانیوں کے کیسز سے متعلق سفارشات دینے کا اختیار رکھتا ہے ،اوورسیز پاکستانیز کمیشن کے طلبی کے اختیارات کا کالعدم کیاجائے، پنجاب حکومت کی طرف سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل انوار حسین نے دلائل دیئے کہ اوورسیز پاکستانیز ایکٹ کا قانون مفاد عامہ کیلئے اور حکومتی مشینری میں عوام کو ریلیف دینے کے لئے بنایا گیااور اس قانون کا مقصد عدالتی اختیار استعمال کرنا نہیں ہے، عدالت نے تفصیلی دلائل سننے کے بعد فیصلہ جاری کرتے ہوئے اوورسیز کمیشن پنجاب کے اختیارات کی تشریح کر دی ہے اور اوورسیز کمیشن پنجاب کے اختیارات کے خلاف تمام درخواستیں منظور کرتے ہوئے اوورسیز کمیشن کی عدالتوں میں زیر التواءمقدمات میں مداخلت غیر آئینی قراردے دی ہے، فیصلے میں اوورسیز کمیشن کو عدالتوں میں زیر سماعت دیوانی مقدمات میں مداخلت کرنے سے بھی روک دیا گیاہے، عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پنجاب پولیس کو اوورسیز کمیشن کے ساتھ مل کر زیر سماعت دیوانی اور دیگر مقدمات میں مداخلت کرنے اور قبضے واگزار کروانے کا اختیار نہیں ہے ، عدالتی مقدمات پر فیصلوں کا اختیار صرف عدلیہ کو ہے جبکہ اوورسیز کمیشن پنجاب اختیارات سے تجاوز کر رہا ہے، فیصلے میں یہ بھی قرار دیا گیا ہے کہ اوورسیز پاکستانیز کمیشن یا پولیس مقدمات کے فریقین کو طلب بھی نہیں کر سکتا، اوورسیز پاکستانیز کمیشن ایکٹ کا قیام مفاد عامہ کی قانون سازی ہے اسکا غلط استعمال اختیارات سے تجاوز ہے اور اوورسیز کمیشن پنجاب ایکٹ کا مقصد صرف حکومتی مشینری میں عوام کو ریلیف دینا ہے۔

لائیو ٹی وی دیکھنے کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -