پاکستان کی وہ جگہ جہاں چھوٹے چھوٹے بچوں کی جنسی فلمیں صرف 10,10 روپے میں سرعام فروخت ہوتی ہیں

پاکستان کی وہ جگہ جہاں چھوٹے چھوٹے بچوں کی جنسی فلمیں صرف 10,10 روپے میں سرعام ...
پاکستان کی وہ جگہ جہاں چھوٹے چھوٹے بچوں کی جنسی فلمیں صرف 10,10 روپے میں سرعام فروخت ہوتی ہیں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

قصور(مانیٹرنگ ڈیسک) سات سالہ زینب کے لرزہ خیز قتل کو ابھی دو ہفتے بھی نہیں گزرے اور قصور شہر میں بچوں کی جنسی فلموںکا دھندہ پھر سے عروج پر ہے۔ اس شہر کے بازاروں میں صرف 10 روپے کے عوض کوئی بھی بچوں سے زیادتی کی ویڈیوز خرید سکتا ہے۔ تو کیا یہ تعجب کی بات ہے کہ اس شہر میں ایک کے بعد ایک کمسن بچی کو درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا جا رہا ہے؟
اخبار ڈان کی ایک رپورٹ میں اس صورتحال کا المناک احوال بیان کیا گیا ہے۔ یہ 2015 کی بات ہے کہ قصور میں سینکڑوں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور ان کی فلمیں بنانے کا سکینڈل سامنے آیا تھا۔ ان بچوں اور ان کے والدین کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دے کر خاموش کروا دیا جاتا تھا۔ سماجی تنظیم ساحل کے مطابق اس کیس میں 285 بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات ریکارڈ ہوئے۔
بالآخر ا س گینگ کا انکشاف سامنے آیا اور متعدد ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ اس گینگ کی پشت پناہی کرنے والا شخص مبینہ طور پر حکمران جماعت کا ایم این اے تھا۔ آپ کو ضرور یاد ہو گا کہ اس سکینڈل نے کیسا تہلکہ برپا کیا تھا، لیکن آج وہ ملزمان کہاں ہیں؟ ان کی ضمانتیں ہو گئیں اور میڈیا بھی اس قصے کو بھول چکا۔ جب بحثیت مجموعی ہماری بے حسی کا یہ عالم ہے تو کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ زینب جیسا کوئی اور سانحہ رونما نہیں ہو گا؟ ہم سب جانتے ہیں کہ اس سوال کا جواب کیا ہے، لیکن بدقسمتی سے ہم سب ہی خاموش ہیں۔