راو انوار اپنے ساتھ کس کس کو لے ڈوبے گا؟

راو انوار اپنے ساتھ کس کس کو لے ڈوبے گا؟
راو انوار اپنے ساتھ کس کس کو لے ڈوبے گا؟

  

سندھ پولیس کے ایک افسر راو انوار نے پورے ملک کی وحدت اور سلامتی کوداو پر لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔اس نے امن کے لئے قربانیاں دینے والے خطہ وزیرستان کو جھنجھوڑ کر بیدار کردیا  اور برسوں  لگا کر امن قائم کرنے والوں کی محنت کو بے ثمر کرنے کی انتہائی  مذموم کوشش کی ہے،لیکن آفرین ہے ان وطن کے غیور پٹھان جوانوں پر جنہوں نے انتشار کی راہ اپنانے کی بجائے انصاف کے لئے صبروتحمل کے ساتھ پرامن طریقہ اپنایا اور اسی ردعمل کے نتیجہ میں پولیس کا نام نہاد مولاجٹ خود اپنی پولیس کے زیر عتاب آچکا ہے ۔

نقیب اللہ محسود کو ماورائے عدالت قتل کرنے والا ایس پی راوانوار غیر متوقع طور پر انڈر گراونڈ ہوگیاہے۔اس کے موبائل بند اور پولیس اسکی تلاش میں گھروں پر پرچے او رنوٹس ڈال رہی ہے لیکن راوانوار پولیس انکوائری کا سامنے کرنے کی بجائے کنی کترارہا  ہے تاہم اس نے اعلیٰ حکام تک پیغام پہنچا دیا ہے کہ اسے انکوائری ٹیم سے انصاف کی توقع نہیں کیونکہ اس میں وہ لوگ شامل ہیں جو اس سے ذاتی عناد رکھتے ہیں۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ راوانوارجیسا سندھ پولیس کا انکاونٹر سپیشلٹ جو اڑھائی سو ماورائے عدالت قتل کر چکا ہے،  سینہ تان کر میڈیا پر آکر اپنی کارگزاری بیان کیاکرتا تھا،دہشت گردوں کو للکارتا تھا، اب معصوم بن کر میڈیا کے سامنے آنے سے کترا رہاہے۔اسکی بنیادی وجہ یہ نہیں کہ وہ میڈیا سے گھبرا گیا ہوگا اور اپنا دفاع نہیں کرسکتا ،اسے یہ معلوم ہے کہ اس وقت پوری قوم اور سسٹم اسکے خلاف ہوچکا ہے اور اس کا کچاچٹھہ سامنے آتا جارہا ہے، اربوں روپے کی ٹرانزیکشنز اور اسکی چھبیس سے زائد نجی جیلوں کے چرچے پھیلنے لگے ہیں لہذا ایسی صورت میں جب تک وہ اپنے تحفظات کو یقینی نہیں بنالیتا، منظر عام پر آنے سے گریز کرے گا۔جہاں تک خدشہ تھا کہ وہ ملک سے فرار ہوجائے گا تو اس کا نام ای سی ایل لسٹ میں ڈال دئیے جانے کے بعد یہ دروازہ بظاہر بند ہوچکا ہے لیکن اس بات کو خارج ازمکاں قرار نہیں دیا جاسکتا ہے کہ جرم و تفتیش کی دنیا کے اس جغادری  پر سرحدیں اور سرنگیںبند نہیں ہوئی ہوں گا۔وہ کسی بھی وقت ملک سے فرار ہوسکتاہے اور اسکے لئے خود پولیس کی کالی بھیڑیں اور اسکے اپنے ’’بگ باسز‘‘ اسکی زبان بندی کے لئے سہولت کار بن سکتے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ راوانوار کچی گولیاں نہیں کھیلتا۔اسکی جڑیں مضبوط ہیں۔وہ دوران ملازمت اپنے سینئرز کو بھی میڈیا پر آکر کھری کھری سناتا رہا ہے ، اپنے پولیس سسٹم کی خامیاں جانتا ہے ،اسی لئے کئی بار معطل ہونے کے باوجود وہ بحال ہوتا رہا اور ہر بحالی کے بعد بے گناہوں کے خون سے ہاتھ رنگنے کے بعد سرکار سے انعامات بھی وصول کرتارہا ہے ۔اسکی کارکردگی پر اسکے بڑے خوش ہواکرتے تھے ۔اور اب یہی بڑے خود پریشان ہوگئے ہیں۔راو انوار کو یقین ہے کہ انکوائری ٹیم تفتیش کے دوران اس کا موبائل حاصل کرکے اسکے سرکردہ افراد سے رابطوں کی تفصیلات حاصل کرلیں گے جس کے بعد اسکے بہت سے راز منظر عام پر آجائیں گے اور سندھ کی بعض اہم شخصیات بھی اسکے ساتھ چکی پیسنے پر مجبور ہوسکتی ہیں۔اور یہ پتہ لگ جائے گا کہ وہ کس کا کارخاص ہے۔

اس پہلو کو خارج ازامکاں نہیں کرناچاہئے کہ راو انوار کسی بڑی شخصیت کی ہی پناہ میں موجود ہوگا ۔پولیس سسٹم سے ٹکر لیکر کوئی پولیس افسر اتنا تگڑا نہیں ہوسکتا ۔اس کی جرات اور حد سے زیادہ خود اعتمادی کے پیچھے ایسی قوتیں موجود ہیں جن کے بل بوتے پر وہ پولیس پر اعتماد نہیں کررہا اور کہہ رہاہے کہ اسے انصاف نہیں ملے گا ،یہ کس قدر حیرانی کی بات ہے کہ آج پولیس کا ہلاکوخان خود انصاف مانگنے پر آگیا ہے جبکہ خود اس نے انصاف کا سرعام خون کرتے ہوئے کبھی اسکا لحاظ نہیں رکھا ۔نقیب اللہ محسود جیسے پرامن شہری کو دہشت گرد بنا کر قتل کرنا کہاں کا انصاف تھا۔نقیب اللہ نے قانون کے رکھوالوں کو اپنے بارے یقینی طور پر بتایا ہوگا کہ وہ بے گناہ ہے،پولیس کو مغالطہ ہوا ہے لیکن اس پر رحم نہیں کھایا گیا۔اسکے بارے میں مفصل تحقیق نہیں کی گئی ،جب یہ تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ وہ نقیب اللہ کوئی اور تھا جو قانون کو مطلوب تھا ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق راو انوار نے اڑھائی سو کے قریب انکاونٹرزکرکے جن اشتہاریوں کو مارا ،اسکے عوض اسے کروڑوں روپے کے انعامات بھی ملتے رہے ہیں ۔اس پربرسوں پہلے عدلیہ نے اپنے تحفظات کا بھی اعلان کیا تھا کہ کسی اشتہاری یا دہشت گرد کوپکڑنے یا مارنے والے پولیس افسر کو فوری انعامات سے نہ نوازا جائے،تاوقت کہ اس کی انکوائری یا مقدمہ کا فیصلہ ہوجائے کہ کیا واقعی وہ مجرم تھا یا بے گناہ۔لیکن عدلیہ کی کسی نے بات نہیں سنی بلکہ اس جواز کو جائز سمجھ لیا گیا کہ بڑے بڑے مجرم قانونی سقم کا فائدہ اٹھا کر بری ہوجاتے اور پھر زیادہ طاقتور ہوکر باہر نکلتے ہیں تو اسکا علاج انکاونٹرز میں ہے۔اس تھیوری پر عمل کرتے کرتے نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ کسی بیگناہ کا قتل ملک کی سلامتی اور وحدت پر سوالیہ نشان لگا دیتا ہے ۔نقیب اللہ محسود کے قتل نے یہ لکیر کھینچ  کر بڑھادی ہے ۔اگر ایسے انکاونٹرز ہوتے رہے اور بے گناہ نقیب اللہ مارے جاتے رہے تو قوم کے پیمانہ صبر کو روکا نہ جاسکے گا۔اب بھی وقت ہے عدلیہ اور پارلیمان مشترکہ طور پر ایک پیج پر اکٹھے ہوکر ماورائے عدالت قتل پر سختی سے پابندی لگا دیں ۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -