ریاست ہو گی ماں کے جیسی

ریاست ہو گی ماں کے جیسی
ریاست ہو گی ماں کے جیسی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

تحریک انصاف کی حکومت نے کہا تھا کہ ریاست ہو گی ماں کے جیسی اور ہر شہری سے پیار کریں ۔اِسی ریاست میں ایک ماں کو اُس کے تین بچوں کے سامنے گولیاں مار کر موت کی نیند سُلا دیا گیا ،ایک باپ کو پولیس والوں کی منت کرتے ہوئے جان کی بخشش کے لئے پیسوں کی آفر بھی کام نہ آئی اُسے بھی مار دیا گیا ۔ایک 13سالہ بچی کو بغیر ثبوت دہشت گرد قرار دیا اور اُسے بھی قتل کر دیا گیا ۔

ساہیوال میں سر عام پولیس نے ایک بار پھر اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے چار لوگوں کو بھون دیا ۔بچوں کے سامنے ماں باپ اور ایک بہن پولیس گردی کی بھینٹ چڑھ گئی ۔ پولیس کے سی ٹی ڈی اسکواڈ نے بتایا کہ یہ لوگ دہشت گرد تھے ، انہیں روکا تو اِن کی طرف سے فائرنگ کی گئی جس کے جواب میں ہم نے فائرنگ کی اور انہیں مارا گیا ، پہلے پولیس کا کہنا تھا کہ یہ لوگ اغواء کار ہیں اور ان کے پاس مغوی بچے ہیں ، بچوں نے گواہی دی کہ یہ ہمارے ماں باپ ہیں ہمیں کسی نے اغواء نہیں کیا، پولیس کا دوسرا بیان تھا کہ مارے جانے والے دہشت گرد تھے ، بیانات کا یہ تضاد پولیس کو گناہ گار اور مجرم ثابت کرنے کے لئے کافی ہے ۔

پولیس نے بے گناہ محمد خلیل اُس کی بیوی ، ڈرائیور اور بیٹی کو قتل کیا اور پولیس نے ہی اپنے ’’ پیٹی بھائیوں ‘‘ کا جرم پرکھنے کے لئے ایک جے آئی ٹی بنا ڈالی ،جے آئی ٹی پاکستان میں پہلی بار نہیں بنی بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ایسی جے آئی ٹی بنانے کا اصل مقصد یہ ہوتاہے کہ اس کیس پر مٹی ڈال دو ، پاکستان کے سابق وزیر اعظم لیاقت علی خان قتل ہوئے جے آئی ٹی بنائی گئی ، بے نظیر بھٹو کا قتل ہوا ایک جے آئی ٹی تب بھی بنی ، نقیب اللہ محسود کو راؤ انوار ایس ایس پی نے قتل کیا جے آئی ٹی بنی ، شاہ زیب جتوئی قتل ہوا جے آئی ٹی بنائی گئی ، سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ہونے والے شہداء کو بھی دہشت گرد کہا گیا اور جے آئی ٹی بنائی گئی ،لیکن آج تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا ، میں تو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب سانحہ ماڈل ٹاؤن ہوا تھا تب اگراُس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب ، وزیر قانون پنجاب اورآئی جی پولیس استعفے دے دیتے اور پولیس ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچا دیا جاتا تو شائد آج سانحہ ساہیوال نہ ہوتا ۔حیران کن بات یہ ہے کہ شادی پر جانے والے خاندان کو مار دیا گیا اور آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی نے جے آئی ٹی بنا دی ، امجد جاوید سلیمی کو چاہیئے تھا کہ وہ استعفیٰ دیتا اور کیس کی تحقیقات تک کہیں تعینات نہ ہوتا ، وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بھی عجیب کٹھ پتلی شخصیت کے مالک ہیں ، ایک خاندان کے افراد قتل ہو گئے اور وہ ہسپتال میں بچوں کے لئے پھولوں کا گلدستہ لے کر پہنچ گئے صرف اس واقعہ کو سیاسی رنگ دینے کے لئے ، کب شعور آئے گا وزیر اعلیٰ پنجاب کو یاکب سمجھ آئے گی وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو کہ وہ صحیح جگہ پر کسی صحیح فرد کو تعینات کریں ۔اتنا بڑا واقعہ رونما ہو گیا اور وزیر اطلاعات و نشریات پنجاب فیاض الحسن چوہان کہتا ہے کہ اگر ثابت ہو گیا کہ مارے جانے والے دہشت گرد نہیں تھے تو انہیں معاوضہ ادا کیا جائے گا ، وفاقی وزیر فواد چوہدری کا بیان ہے کہ پولیس والوں نے بتایا ہے کہ مرنے والے دہشت گرد تھے ، راجہ بشارت وزیر قانون کہتا ہے کہ ڈرائیور کا تعلق دہشت گردوں سے ثابت ہوا ہے ۔

عمران خان جب اپوزیشن میں تھے تو وہ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر کہتے تھے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب ، وزیر قانون پنجاب اور آئی جی فوری مستعفی ہوں ، لیکن ابھی تک تحریک انصاف کی حکومت میں کسی نے کوئی استعفیٰ پیش نہیں کیا ۔سوال یہ ہے کہ پولیس نے پہلے کہا کہ کار میں اغواء کار تھے ، پھر کہا کہ وہ سب دہشت گرد تھے ، اب کہا جا رہا ہے کہ ڈرائیور دہشت گرد تھا ، ایک بیان میں کہا گیا کہ موٹر سائیکل پر دہشت گرد فرار ہو گئے ، گاڑی کو روکنے کا کہا تو کار کے اندر سے فائرنگ کی گئی ، اگر سب دہشت گرد تھے تو بچوں کے سامنے اتنا بڑا آپریشن کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ کار سے کوئی اسلحہ یا بارود برامد نہیں ہوا ، اگر سب دہشت گرد تھے تو پولیس والے لاشیں چھوڑ کر کیوں چلے گئے ؟ ان سوالوں کے جواب کوئی نہیں دے گا کیوں کہ ایک جے آئی ٹی بن چکی ہے ۔

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے بیان دیا ہے کہ میں جس عمران خان کو جانتا ہوں وہ جے آئی ٹی رپورٹ میں قصور واروں کو نشان عبرت بنا دے گا ، سوال یہ ہے کہ عمران خان تک صحیح رپورٹ کون پہنچائے گا ؟ کیونکہ جے آئی ٹی والے تو اپنے پیٹی بھائیوں کو ہر ممکن بچائیں گے جیسا کہ وہ آج تک ایک دوسرے کو بچاتے آ رہے ہیں جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن آپریشن میں ملوث تمام پولیس ملازمین آج اپنی اپنی جگہوں پر دوبارہ سے تعینات ہیں ۔سانحہ ماڈل ٹاؤن اور سانحہ ساہیوال کے راہگیروں کی جانب سے بنائے جانے والے فوٹیج چیخ چیخ کر سی ٹی ڈی اور پولیس ملازمین کے جرم کی گواہی دے رہے ہیں ، ان فوٹیج کے ہوتے ہوئے جے آئی ٹی کی ضرورت کیوں پیش آ ئی ؟ فوٹیج پر فوری ایکشن لیا جاتا تو پاکستان کی کسمپرسی میں زندگی گزارنے والی قوم کو پتا چلتا کہ کوئی تو ہے جو ایسے واقعات پر ایکشن لے سکتا ہے ، پاکستانی قوم اُسے بہادر گردانتی جو ایسا ایکشن لیتا ، لیکن ایکشن کون لے گا ؟ ایکشن لینے والے تو الیکشن میں کئے گئے تمام وعدے بھول چکے ہیں ، عوام کو یکساں اور فوری انصاف دینے کا وعدہ ، مہنگائی کو ختم کرنے کا وعدہ ، دُنیا سے قرضہ نہ لینے کا وعدہ ، خود کشی کرنے کا وعدہ ، گورنر ہاؤسز کی دیواریں گرانے کا وعدہ ، پہلے چھ ماہ دوسرے ممالک کا دورہ نہ کرنے کا وعدہ ، اب کون کون سے وعدے یاد دلاؤں ؟ تحریک انصاف کے ایک وزیر موصوف نے تو قومی اسمبلی کے اجلاس میں کہا تھا کہ جہاں قاتل نہ پکڑا جائے تو اُس قتل کا ذمہ دار ملک کا سربراہ ہوتا ہے ، وہ وزیر موصوف بھی سانحہ ساہیوال پر مکمل خاموش ہیں ، بہر حال ایسے حالات کے ذمہ دار ہم خود ہیں ، ہم ایک ایسی قوم نہیں بن پا رہے جو حکمرانوں سے پوچھ سکے کہ یہ کیا ہو رہا ہے ، ہم سانحہ ساہیوال پر چند دن اپنے جذبات کا اظہار کرکے پھر چپ ہو جائیں گے ۔ہم دوسروں کے جلتے گھر یہ سوچ کر دیکھتے ہیں کہ کون سا ہمارے گھرکو آگ لگی ہے ، ہمیں یہ بے حسی ختم کرنا ہو گی ، کیونکہ بقول شاعر ۔
جلتے گھر کو دیکھنے والے ، گھاس کا چھپر آپ کا ہے
آگ کے پیچھے تیز ہوا ہے ، آگے مقدر آپ کا ہے
اُس کے قتل پہ میں بھی چپ تھا میرا نمبر اب آیا ہے
میرے قتل پر تم بھی چپ ہو ، اگلا نمبر آپ کا ہے

مزید :

رائے -کالم -