اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 81

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 81
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 81

  

جب حضرت عبدالقادر جیلانیؒ شہرت تمام حاصل کرچکے تو ایک بار حج کو تشریف لے گئے۔ بغداد کے قریب موضع حلہ میں پہنچے تو فرمایا، یہاں کوئی ایسا گھر تلاش کیا جائے جا ناداری، بے کسی اور گمنامی میں سب سے بڑھا ہوا ہو تاکہ میں وہاں منزل کرسکوں۔ حلہ کے امیروں اور رئیسوں نے آپ کی رہائش اور طعام کے بہترین انتظامات کئے ہوئے تھے۔ انہوں نے متعدد بار آپ کو اپنے ہاں ٹھہرنے کے لئے کہا مگر آپ کسی کے ہاں نہ ٹھہرے۔

سخت جستجو کے بعد آپ کے ساتھیوں کو ایک ایسا گھر ملا جس میں نادار اور بوڑھے میاں بیوی کے علاوہ ان کی ایک بیٹی بھی رہتی تھی۔ آپ نے بوڑھے سے اجازت لے کر رات کو ان کے گھر قیام کیا۔ آپ کو اس گھر میں لوگوں کی جانب سے جتنے بھی ہدیے اور نذرانے پیش ہوئے۔ آپ نے ان میں سے ایک شے بھی اپنے پاس نہ رکھی۔ سب کچھ بوڑھے کو عطا فرمادیا۔

آپ کے ساتھیوں نے بھی آپ کی پیروی میں اپنا تمام مال و اسباب بوڑھے کو بخش دیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی بدولت اس نادار بوڑھے کے گھر کو دولت مند اور مالا مال کردیا۔

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 80 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

***

ہند کے ایک راجہ پتھورا رائے کے عہد میں حضرت خواجہ معین الدین سنجریؒ اجمیر میں آکر اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہوگئے۔ رائے پتھورا خود بھی ان دنوں اجمیر میں تھا۔ ایک دن پتھورا رائے نے حضرت خواجہؒ کے ایک مسلمان عقیدت مند کو تنگ کیا۔ وہ شخص خواجہ کی خدمت میں فریادی ہوا۔ خواجہ نے اس کی سفارش میں پتھورا کو ایک پیغام بھیجا، پتھورا رائے نے خواجہ کے پیغام کو قبول نہ کیا اور کہا کہ دیکھو یہ شخص کہاں آیا ہوا ہے اور بیٹھا بیٹھا غائب کی باتیں کہتاہے۔

جب یہ ماجرا خواجہؒ تک پہنچا تو آپ نے فرمایا ’’ہم نے پتھورا کو زندہ پکڑکر دے دیا۔‘‘

خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ انہی دنوں غزنی سے سلطان شہاب الدین غوری نے لشکر کشی کی پتھورا نے لشکر اسلام کا مقابلہ کیا اور بالآخر شہاب الدین غوری کے ہاتھوں گرفتار ہوا خواجہ صاحب نے جو فرمایا تھا، پتھورائے کے ساتھ ویسا ہی ہوا۔

***

ایک مرتبہ کسی راستہ پر چلتے ہوئے حضرت بایزید بسطامیؒ کو ایک کتا ملا تو آپ نے اپنا دامن سمیٹ لیا۔ جس پر اس کتے نے آپ سے مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ نے میرے قرب سے اپنا دامن کیوں بچایا ہے۔ میں بھیگا ہوا نہیں ہوں کہ جس سے آپ کو ناپاکی کا خطرہ ہوتا۔ فرض محال اگر میں بھیگا ہوا ہوتا اور اس سے آپ کے کپڑے پلید ہوجاتے تو آپ اپنے کپڑے پاک کرسکتے تھے لیکن یہ تکبر جس کا آپ نے مظاہرہ فرمایا یہ تو سات سمندروں کے پانی سے بھی پاک نہیں ہوسکتا۔‘‘

آپ نے فرمایا ’’تو سچ کہتا ہے۔ اس لئے کہ تیرا تو ظاہر نجس ہے اور میرا بطن۔ لہذا ہم دونوں کو ایک ساتھ رہنا چاہیے تاکہ کچھ پاکیزگی میرے باطن کو بھی حاصل ہوجائے۔‘‘

اس پر کتے نے عرض کیا ’’ہم دونوں کا ساتھ رہنا ممکن نہیں کیونکہ میں مردور ہوں اور آپ مقبول بارگاہ۔ میں دوسرے دن کے لیے ایک ہڈی بھی جمع نہیں کرتا اور آپ سال بھر کا غلہ جمع کرلیتے ہیں۔‘‘

آپ نے کتے کی یہ بات سن کر فرمایا ’’صد حیف! جب میں کتے کے ہمراہ بھی رہنے کے قابل نہیں تو پھر خداکا قرب کیسے حاصل کرسکتا ہوں، اور پاک ہے اللہ جو بد ترین مخلوق کی باتوں سے بہترین مخلوق کو درس عبرت دیتا ہے۔‘‘

***

ایک مرتبہ کسی نے ایک آتش پرست کو مسلمان ہونے کی تبلیغ کی۔ جس پر اس نے جواب دیا’’اگر اسلام اس کا نام ہے جوحضرت یابزیدؒ کو حاصل ہے تو ایسے اسلام کو برداشت کرنے کی مجھ میں طاقت نہیں۔ اگر اسلام وہ ہے جو عام مسلمان اختیار کئے ہوئے ہیں تو ایسے اسلام سے مَیں اپنے مذہب کے ساتھ بہتر ہوں۔‘‘

*** 

حضرت بایزید کے دور میں ایک رنگریز حضرت بایزیدؒ کی کرامتیں دیکھ کر کہا کرتا تھا کہ ایسی کرامتیں تو میں بھی پیش کرسکتا ہوں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ان کی باتیں میری سمجھ میں نہیں آتیں اور جب ایک مرتبہ وہ رنگریز آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو چونکہ آپ اس کی ہرزہ سرائی سے آگاہ تھے۔ اس لیے ایک ایسی آہ کھینچی کہ وہ غش کھا کر گرپڑا اور تین شب و روز ایس حالت میں گزرگئے۔ حتیٰ کہ حوائج ضروریہ بھی کپڑوں ہی میں پوری کرتا رہا اور اس کو اپنے حال کی مطلق خبر نہ تھی۔ پھر ہوش آنے کے بعد نہا دھو کر جب آپ کے سامنے حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا’’یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلو کہ ہاتھی کا بوجھ گدھے پر نہیں ڈالا جاسکتا۔‘‘(جاری ہے )

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 82 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے