سب کچھ ٹھیک نہیں ہے……؟

سب کچھ ٹھیک نہیں ہے……؟
سب کچھ ٹھیک نہیں ہے……؟

  



سمندر کے اوپر سے گزر کر سردی کے موسم میں کراچی پہنچنے والی سائبیریا کی ٹھنڈی اور صوبہ بلوچستان کی جانب سے ملک میں آنے والی مغربی ٹھنڈی ٹھار ہواؤں کے باعث پورے ملک میں سردی کی شدید لہر دوڑ رہی ہے،لیکن ان ہواؤں کی موجودگی میں بھی ملک میں سیاسی درجہ حرارت 99ڈگری اور110 ڈگری کے درمیان اوپر نیچے ہو رہا ہے۔پارلیمینٹ ہاؤس میں کابینہ کے اجلاس اور پارلیمینٹ میں رانا ثناء اللہ اور وفاقی وزیر شہریار خان آفریدی کے درمیان بحث دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ سائبیریا اور مغربی ہوائیں بھی دارالحکومت کے گرما گرم سیاسی ماحول کو ٹھنڈا کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ”یاروں نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں ……نشہ اترنے کی بجائے دو آتشہ ہو گیا ہے“……۔یہ صورتِ حال پہلے کبھی نہیں دیکھی، سبھی پتے ہَوا دینے لگے ہیں،

ایم کیو ایم کے کنونیر خالد مقبول صدیقی مرکزی حکومت کی جانب سے ڈیڑھ سال میں بطور اتحادی وعدے پورے نہ کرنے پر وزارت کی کنجیاں وزیراعظم عمران خان کے حوالے کر کے واپس اپنے گھر کراچی پہنچ گئے ہیں۔ ایم کیو ایم کے رہنما سیاسی کھیل کی ڈوری کو اپنے مفادات کے حصول کے لئے ڈھیلا تو ضرور کرتے ہیں،مگر ڈور کو ہاتھ سے نکلنے نہیں دیتے۔ اس بار بھی انہوں نے کچھ ایسا ہی کیا ہے۔کہہ رہے ہیں کہ ایم کیو ایم صرف کابینہ سے الگ ہوئی ہے،حکومت کی حمایت جاری رکھے گی،حالانکہ ایم کیو ایم کے فروغ نسیم نے پارٹی کے فیصلے کے باوجود وزارتِ قانون کی کنجیاں مالکوں کے حوالے کر کے گھر واپس آنے سے صاف انکارکر دیا ہے،جس پر ایم کیو ایم کی قیادت کا موقف یہ ہے کہ فروغ نسیم کو متحدہ کے کہنے پر وزیر قانون نہیں بنایا گیا،بلکہ یہ وزیراعظم عمران خان کی اپنی پسند ہیں اور انہوں نے اپنے صوابدیدی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے انہیں وزیر قانون بنایا ہے۔ ایم کیو ایم کے رہنما عامر خان کے مطابق حکومت نے ایم کیو ایم کو ابھی صرف ایک وزارت دی تھی،جبکہ متحدہ نے تو حکومت کو وزارت اور مشیر کے لئے امین الحق اور فیصل سبزواری کے نام دیئے تھے،مگر پورا ڈیڑھ سال گزرگیا کوئی پیشرفت نہ ہونے پر وفاقی کابینہ سے علیحدگی کا فیصلہ کیا ہے۔

گورنر صوبے میں مرکزی حکومت کا نمائندہ ہوتا ہے،اِس لئے گورنر سندھ اور وفاقی وزراء نے اسد عمر کی قیادت میں، وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر ایم کیو ایم اور خالد مقبول صدیقی سے کراچی میں رابطہ کیا اور بات چیت کی، لیکن ناراض وزیر کو وزارت کی کنجیاں واپس لینے پر راضی نہ کر سکے۔وزیراعظم عمران خان نے ایم کیو ایم کے کنونیر خالد مقبول صدیقی کو اسلام آباد بُلا لیا ہے تاکہ ان کے تحفظات دور کرنے کے لئے مزید بات چیت ہو سکے۔ حکومت، شاید لندن میں مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف کی سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی عیادت اور اپنی بیماریوں کی تشخیص اور ڈاکٹروں سے مشوروں کے دوران ملک کی سیاسی جماعتوں کی قیادت سے برابر سیاسی رابطے سے گھبرا گئے ہیں، بُرا ہو، میڈیا کا! جو پاکستان میں سیاسی بازی پلٹنے کے بارے میں لندن میں تیار ہونے والے پلان اور اس حوالے سے شہباز شریف کی لندن میں اہم شخصیات سے ملاقاتوں کی خبریں اور ریسٹورنٹ میں اپنے بھائی نواز شریف اور بھتیجوں کے ساتھ کھانا کھانے کی تصاویر شائع کر کے حکومت کو پریشان کر رہا ہے……یہاں تک تو بات تشویشناک ہے

کہ ملک میں بدلتی سیاسی صورتِ حال میں شہباز شریف نے لیگی قیادت کو متحدہ کے ارکان اسمبلی اور بلوچستان کی پارٹیوں سے رابطوں کا ٹاسک سونپ دیا ہے۔ دوسری جانب حکومت کی حمایت کرنے والے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے بھی موجودہ حکومت کی حمایت جاری رکھنے یا نہ رکھنے پر غور کرنے کے لئے پارٹی اجلاس بلایا اور موجودہ صورتِ حال پر غور کیا ہے۔مسلم لیگ(ق) کے سرکردہ رہنما چودھری پرویز الٰہی بھی،جو پنجاب اسمبلی کے انتہائی بااثر سپیکر بھی ہیں، بردباد اور متحمل مزاج سیاست دان ہیں،کچھ عرصے سے مختلف ایشوز پر حکومتی بیانیہ سے متفق نظر نہیں آتے۔ان کو بھی حکومت کی جانب سے وعدہ خلافیوں کی شکایت ہے، ان کو بھی وعدے کے مطابق وزارتیں نہیں ملیں۔ حکومت کی اتحادی جماعتوں میں ہلچل نے حکومت کو فوری طور پر اس طرف متوجہ کر دیا ہے اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے بھاگ دوڑ بھی شروع کر دی ہے۔

اگر اتحادی الگ ہوئے تو تحریک انصاف کو اپنی پارٹی میں دوسری پارٹیوں سے آئی ہوئی قد آور سیاسی شخصیات کو سنبھالنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ ہر فرد جانتا ہے کہ حکمران جماعت کے پاس پارلیمینٹ میں سادہ اکثریت بھی نہیں ہے۔ قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت کے لئے172 نشستیں درکار ہیں،جبکہ تحریک انصاف نے عام انتخابات میں 149 سیٹیں حاصل کیں،اس وقت ان کے ارکان کی تعداد 156 ہے۔ عمران خان176 ووٹ لے کر وزیراعظم ہوئے،اس الیکشن میں اتحادی جماعتوں کے ساتھ وعدے اور معاہدے کر کے ووٹ لئے گئے تھے، سولہ سترہ ماہ انتظار کے بعد وعدے پورے نہ ہونے کے شکوے جائز اور درست ہیں۔اس وقت اتحادی جماعتوں کو ملا کر حکومت کے پاس کل 184نشستیں ہیں۔اتحادی جماعتوں میں مسلم لیگ (ق) 5،ایم کیو ایم7، بلوچستان عوامی پارٹی 5، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل)4 اور جی ڈی اے تین نشستوں کے ساتھ حکومت میں شامل ہیں۔ایوان میں حکومت،اتحادی پارٹیوں کی بدولت کھڑی ہے۔ حکومت نے کراچی میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے ایم کیو ایم کو حکومت چھوڑنے پر صوبہ سندھ میں وزارتوں کی پیشکش اور لندن میں مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف کی سیاسی سرگرمیوں کی خبروں پر مریم نواز کا نام سیاسی مخالفت کی وجہ سے چودھری شوگر ملز کیس میں ای سی ایل میں ڈال دیا ہے،

حالانکہ ان کا نام تو پہلے ہی ای سی ایل میں تھا، وہ اس کے خلاف حکومت کے انکار کے بعد دوبارہ عدالت میں جا چکی ہیں۔پارلیمینٹ کے فلور پر رانا ثناء اللہ اور وفاقی وزیر مملکت شہریار خان آفریدی کے درمیان لفظی جنگ کے بعد وفاقی حکومت نے سیاسی انتقامی کارروائی کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کا نام بھی ای سی ایل میں ڈال کر سیاسی کم ظرفی کا مظاہرہ کیا ہے۔رہ گئی بات اسمبلی میں قرآن مجید ہاتھ میں اُٹھا کر بات کرنے اور قسمیں کھا کر اپنی اور اپنے وزیراعظم کی صفائی پیش کرنے کی،دونوں لیڈروں نے اپنے آپ سے زیادتی کی۔ مقدمہ عدالت میں ہے، بارِ شہادت مدعی پر ہے، ملزم اپنی صفائی پیش کرے،وزیر موصوف اگر چشم دید گواہ ہیں تو عدالت میں درخواست دے کر گواہ بن جائیں اور ملزم کے خلاف گواہی دیں۔ عدالت نے حقائق دیکھ کر ملزم کو سزا دینی ہے یا پھر بری کر دینا ہے، سب کو انتظار کرنا چاہئے۔

مزید : رائے /کالم