غریب آدمی کے منہ سے نوالہ بھی چھین لیا گیا

غریب آدمی کے منہ سے نوالہ بھی چھین لیا گیا
غریب آدمی کے منہ سے نوالہ بھی چھین لیا گیا

  

وطن عزیز، جو پہلے ہی متعدد بحرانوں کا شکار تھا کہ اب آٹے کے بحران نے خیبر سے لے کر بولان تک پور ے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور عوام جو پہلے ہی روز افزوں مہنگائی کے بوجھ تلے پس رہے تھے، اب آٹے کے حصول کے لیے سرگرداں ہیں۔ اس کے باوجود کہ آٹے کا 20کلو کا تھیلا جو پہلے ہی مہنگا کرکے اس کی سرکاری قیمت 805روپے مقرر کی گئی ہے،بازار میں ناپید ہے۔ پاکستان جو ایک زرعی اور گندم پیدا کرنے والا ملک ہے، اسے اب گندم درآمد کرنے والا ملک بنا دیا گیا ہے۔ ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ حکومت نے تین لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے، جو افسوس ناک امر ہے۔

موجودہ حکومت کو برسر اقتدار آئے تقریباً 16ماہ ہوچکے ہیں، مگر حالات میں بہتری کے بجائے روز بروز مسائل میں اضافہ ہورہا ہے، جن کی وجوہات سمجھ سے بالاتر ہیں۔ آٹا جو عوام کی ایک انتہائی بنیادی ضرورت ہے سرکاری قیمت کے بجائے بازار میں 900روپے فی تھیلا سے ایک ہزار تک جا پہنچا ہے، اس کے باوجود عدم دستیاب ہے، یہاں تک کہ حکومت کی زیر نگرانی چلنے والے یوٹیلٹی سٹورز پر جو چینی اور آٹا عوام کے لئے بھیجا جاتا ہے،وہ عوام کے بجائے دکانداروں کو دے دیا جاتا ہے، جو اسے مہنگے داموں عوام کو بیچتے ہیں، یہ بھی ایک قابل افسوس بات ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ حکومتی ادارے بھی حکومت کے کنٹرول میں نہیں رہے۔عوام کی طرح قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف بھی یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ گندم کا سٹاک ایک رات میں کہاں گیا،جبکہ فلور ملز مالکان کی ایسوسی ایشن کے مطابق آٹے کا بحران سیاسی سازش ہے، جس میں حکومتی اراکین بھی شامل ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں کہ وفاقی حکومت نے 40ہزار میٹرک ٹن گندم افغانستان بھیج کر جان بوجھ کر آٹے کا بحران پیدا کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ عمران خان نے اپنے مخصوص دوستوں کو نوازنے کے لیے یہ بحران پیدا کیا ہے…… آٹے کے بحران کی وجہ کوئی بھی رہی ہو، اس بات کی متقاضی ہے کہ حکومت عوام کو اس کی وجوہات بتائے اور اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا جواب دے۔ ملک میں آٹے کے بحران نے وفاقی حکومت کی گڈ گورننس پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

بلوچستان کے سابق گورنر نواب ذوالفقار علی مگسی نے اپنے ایک انٹرویو میں، جو انہوں نے گورنر بلوچستان کی حیثیت سے ایک نجی ٹی وی انٹرویو کو دیا تھا جس میں انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ اعلیٰ حکومتی حکام چاول اور گندم دوسرے ممالک کو سستے داموں بیچ کر پھر ان کی پیکنگ میں مہنگے داموں واپس لیتے ہیں اور اس میں بڑے بڑے لوگ شامل ہوتے ہیں۔ہم یہ بات وزیر اعظم عمران خان کے گوش گزار کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ کہیں ان کے اردگرد بھی ایسے لوگ توموجود نہیں؟ عمران خان صاحب اپنے کپڑے جھاڑیں اور اپنے ارد گرد چھپے ہوئے ان سازشی عناصر سے جان چھڑائیں۔آٹاصرف نان روٹی کے لیے ہی استعمال نہیں ہوتا، اس سے کئی دیگر اشیاء بھی تیار ہوتی ہیں جو عوام کے استعمال میں آتی ہیں۔ آٹے کی نایابی اور قیمت میں اضافے کا اثر ان اشیاء پربھی پڑتا ہے، جو اس سے تیار ہوتی ہیں، جس کا بوجھ عوام پر پڑے گا۔

اُدھر ہمارے وزیر ریلوے شیخ رشید کی نئی منطق سامنے آئی ہے کہ نومبر، دسمبر میں لوگ روٹی زیادہ کھاتے ہیں۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عوام کے پیٹ ان دو مہینوں میں بڑھ جاتے ہیں، جس سے انہیں زیادہ بھوک لگتی ہے؟ شیخ رشید جو اپنے غیر سنجیدہ بیانات میں خاصی شہرت رکھتے ہیں، آٹے کے بحران پر بھی اپنی روایت کے مطابق ڈگڈگی اور بغلیں بجا کر غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کررہے ہیں،جس سے انہیں اجتناب کرنا چا ہیے۔ حال ہی کی بات ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے عوام کو یہ مژدۂ جانفزا سنایا تھا کہ سمندر سے گیس نکل آئی ہے، چنیوٹ اور جھنگ میں سونا موجود ہے، بلوچستان میں معدنیات کا خزانہ ہے پھر ایک دم خاموشی طاری ہوگئی تو کیا ہوا، جب یہ سب کچھ ملک میں موجود ہے تو اس کے حصول کی کوششیں کیوں نہیں کی گئیں؟ وہ کون سی طاقت ہے جو ان سب کے حصول میں سدراہ ہے؟ اس حوالے سے بھی عمران خان عوام کو اعتماد میں لیں اور ان قوتوں کی نشاندہی کریں، بصورت دیگر عوامی تشویش اپنی جگہ موجود رہے گی اور طرح طرح کے وسوسے جنم لیتے رہیں گے، جن کا خاتمہ وزیر اعظم عمران خان کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام ہی کے منتخب کردہ ہیں۔

دریں اثناء حکومت کا کہنا یہ ہے کہ سندھ حکومت نے اس سال کسانوں سے گندم نہیں خریدی، جس کے باعث مسائل پیدا ہوئے، مگر پنجاب میں تو حکومت نے گندم خریدی ہے،پھر یہاں آٹے کا بحران کیوں پیدا ہوا؟ یہ حکومت کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے؟ اُدھر وفاقی حکومت نے آٹے کے بحران پر قابو پانے کے لئے بڑے آپریشن کا فیصلہ کیا ہے،اس حوالے سے تمام صوبوں کے چیف سیکرٹری صاحبان سے وزیر اعظم ہاؤس نے رابطہ کیا ہے اور انہیں وزیر اعظم کا پیغام پہنچایاہے کہ اس حوالے سے مانیٹرنگ کی جائے۔ ذخیرہ اندوزوں، مہنگا آٹا بیچنے والوں کی گرفتاریوں اور گودام سیل کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔بہتر یہ ہے کہ وزیر اعظم خود اس کی نگرانی کریں اور جس قدر جلد ہوآٹے کے بحران پر قابو پایا جائے، بصورت دیگر عوام میں حکومت کی مقبولیت متاثر ہوسکتی ہے۔

وزیر اعظم کو چاہیے کہ وہ عوامی اشیائے ضرورت کے حوالے سے ایک مربوط پالیسی ترتیب دیں اور روزانہ کی بنیاد پر ذمہ دار حکام سے رپورٹ لیں تاکہ عوام کبھی ٹماٹر، کبھی آلو، کبھی چینی اورکبھی آٹے کی مہنگائی اور عدم دستیابی سے چھٹکارا پا سکیں،یہ خود وزیر اعظم اور ان کی حکومت کے مفاد میں ہوگا۔ دریں اثناء مصدقہ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق محکمہ خوراک پنجاب اس وقت 25400 ٹن گندم فلور ملوں کو سپلائی کررہا ہے، جس سے ساڑھے سات لاکھ آٹے کے تھیلے مارکیٹ کو فراہم کئے جا رہے ہیں، اگر پرائیویٹ گندم کی پسائی کو بھی اس میں شامل کر لیا جائے تو تعداد ساڑھے آٹھ لاکھ تھیلوں سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ پنجاب میں 20کلو کا تھیلا ایکس مل ریٹ 783 روپے،جبکہ اس کی پر چون قیمت 805روپے مقرر ہے۔ ہم پُرامید ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان اپنی ذاتی توجہ ان اہم مسائل کی طرف مبذول کرکے زندگی کے ہرشعبے میں عوام کو سہولتیں فراہم کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے۔

مزید :

رائے -کالم -