فلور ملز کی نئی کارروائی بے نقاب، ہوٹلوں پرآٹا سپلائی کرنیکا انکشاف

فلور ملز کی نئی کارروائی بے نقاب، ہوٹلوں پرآٹا سپلائی کرنیکا انکشاف

  



وہاڑی+حاصل پور+راجن پور +شجاع آباد (بیورو رپورٹ، نمائندہ خصوصی)مقامی انتظامیہ کی عدم توجہی، لاپرواہی اور غفلت کے باعث آٹے کی قلت سیل پوائنٹس پر آٹا نہ ملنے سے شہری ذلیل وخوار ہونے لگے ہیں مقامی انتظامیہ کیا افسران نے آٹے کے بحران پر قابو پانے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ مقامی فلو ملز مالکان نے اپنی اجارہ داری کے باعث مصنوعی آٹے کی قلت پیدا کر کے سیل (بقیہ نمبر18صفحہ12پر)

پوائنٹس پر سپلائی کرنے کی بجائے آٹا دوکانداروں اور ہوٹلز پر مہنگے داموں فروخت کر رہے ہیں معیاری آٹا تھیلی 20کلو گورنمنٹ ریٹ پر 805روپے جبکہ فلور ملز اور آٹا ڈپو والے مبینہ طورسرکاری ریٹ سے زائد قیمت پر فروخت کرر ہے ہیں جبکہ حکومت پنجاب کی طرف سے قائم سیل پوائنٹس پر مبینہ طور پر محکمہ خوراک کے آفسران کی ملی بھگت سے فلور ملزمالکان نے غیر معیاری آٹا کی فروخت کا سلسلہ جاری کیاہوا ہے مبینہ طورپر قائم پور، جمال پور، چھونا والا دیہی علاقوں میں مقامی انتظامیہ کی طرف سے آٹے کے سیل پوائنٹس قائم نہ ہونے کی وجہ سے آٹا چکیوں دوکانوں پر 70روپے کلو فروخت ہورہا ہے اور مقامی انتظامیہ اور محکمہ خوراک مافیا کے آگے بے بس نظر آرہے ہیں فلور ملزمالکان کی طرف سے بیان ہے کہ محکمہ خوراک کی جانب سے کوٹہ گندم پورا نہیں دیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے آٹے کا بحران پیدا ہوا ہے ملزمالکان نے گوداموں پر گندم سٹاک کر رکھی ہے اور جو آٹا دیا جا رہا ہے وہ غیر معیاری ہے اس سے روٹی کالی ہو جاتی ہے اور سیوجی میدہ نکل لیا جاتا ہے۔ یہاں کے عوامی سماجی حلقوں کے علاوہ رانا اطہر حسین، ملک محمد اسلم جاوید آڑھتی، ملک حاجی دین محمد نے وزیراعظم، وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب، گورنر پنجاب اور حکام بالا سے فلوملز مالکان کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ڈپٹی کمشنر راجن پور ذوالفقار علی نے ضلع بھر کے مختلف آٹے کے سیل پوائنٹ کا وزٹ کیااور آٹے کی تقسیم کے عمل کا جائزہ لیا۔اس موقع پر محکمہ خوراک اور ریوینو کے افسران بھی موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا ہے کہ آٹے کی مصنوعی قلت کو پیدا کرنے والے کسی بھی رعائت کے مستحق نہیں ہیں۔ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کاروائی جاری ہے۔محکمہ خوراک کے آفیسر عبدالرزاق نے بتایا ہے کہ راجن پور میں آٹے کے 29سیل پوائنٹ قائم کر دئے گئے ہیں جو ضلع بھر کے مختلف شہروں میں ضلعی انتظامیہ اور محکمہ خوراک کی نگرانی میں تقسیم کئے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ ضلع راجن پور میں آٹے کی کوئی قلت نہیں ہے۔ہر پوائنٹ پر آٹا موجود ہے۔لوگ گورنمنٹ کے مقرر کردہ نرخ کے مطابق آٹا خرید رہے ہیں۔ شجاع آباد میں ناقص آٹے کی سپلائی جاری ہے اسسٹنٹ کمشنر شجاع آباد مبین احسن نے آٹے کے چار سیل پوائنٹ قائم کر دئیے ہیں جس میں زبیر کریانہ سٹور،رمضان کریانہ سٹورکالا پل، زوہیب کریانہ سٹور راجہ رام،حاجی محمد کریانہ چک آر ایس شامل ہیں ان سیل پوائنٹ پر فلور ملز مالکان کی جانب سے ناقص آٹا سپلائی کیا جارہا ہے اہلیان علاقہ نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ معیاری آٹے کی فراہمی ممکن بنائی جائے اور فلور ملز مالکان کے خلاف کاروائی کی جائے۔عوام سے روٹی کا نوالہ چھننے والے اور آٹے کا مصنوعی بحران کا راگ الاپنے والے ذمہ داران کی ناک کے نیچے آٹے کا تھیلا مہنگے داموں کھلے عام فروخت کیا جا رہا ہے شہر اوردیگر علاقوں کی طرح ماچھیوال، پکھی موڑ، گڑھا موڑ، کرمپور،لڈن، رتہ ٹبہ وغیرہ میں آٹا منہ مانگے داموں فروخت کیا جا رہا ہے شہریوں بابر علی عبداللہ نزاکت علی بلال احمد عبدالمجید ممتاز احمد ودیگر نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ آٹے کی اکثر ملوں کے مالکان مبینہ طور پر مارکیٹ میں آٹا صرف دس منٹ دینے اور انتظامیہ کی آنکھوں میں مٹی دھول جھونکنے کے بعد بلیک میں بیچ کردیتے ہیں اور اکثر ملز مالکان کی مبینہ ملی بھگت سے آٹا بلیک میں سرعام فروخت کیا جاتا ہے نانبائی تندوروں پر روٹیاں بھی من چاہی قیمت میں بحران کی چادر تلے فروخت کر رہے ہیں انتظامیہ سے عوام کا مطالبہ ہے کہ اگر مصنوعی بحران ہے تو اس پر قابو پایا جائے۔

آٹا

مزید : رائے /ملتان صفحہ آخر