ذخیرہ اندوزی: مصنوعی شارٹ فال سے چینی بحران کاخدشہ

ذخیرہ اندوزی: مصنوعی شارٹ فال سے چینی بحران کاخدشہ

  



نورپورنورنگا(نامہ نگار) حکومت کی جانب سے چینی کے حوالے سے کوئی موثر پالیسی نہ بنانے کے سبب چینی کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے،ذخیرہ اندوزی کے سبب مصنوعی شارٹ فال کابھی خدشہ پیدا ہوگیا ہے،جبکہ کرشنگ سیزن لیٹ شروع ہونے کی وجہ سے موجودہ ماہ میں جو 7 ملین ٹن کا پیداواری ہدف رکھا گیا تھا وہ بھی حاصل نہیں ہوسکا،اب تک ملک بھر کی شوگر ملیں 6 ملین ٹن چینی پیدا کر سکی ہیں (بقیہ نمبر19صفحہ12پر)

،شوگر ایڈوائز نے بھی اپنی رپورٹ میں وزارت پیدوار کو چینی کی کم پیدوار سے آگاہ نہیں کیا ہے،شوگر ملز ایسوسی ایشن کے کے ترجمان چوہدری عبدالوحید نے چینی کی بڑھتی ہوئی قیمت کو گنے کی مہنگے داموں خریداری کو قرار دیا ہے،ان کا کہناتھا کہ حکومت نے گنے کی امدادی قیمت 190 روپے مقرر کی تھی مگر کاشتکار ہمیں سرکاری ریٹ پر گنے فروخت کرنے کو تیار نہیں ہیں،اس لیئے شوگر ملیں اس وقت 240 روپے فی 40 کلو گرام سے گنا خرید رہی ہیں تو اس حساب سے وہ ایکس مل ریٹ72 سے 75روپے فی کلو چینی کی قیمت بنتی ہے توحکومتی حکم کے مطابق کیسے ہم عام صارف 71 روپے فی کلو میں فروخت کریں،پاکستان کسان اتحاد کے مرکزی چئیرمین چوہدری محمد انور نے شوگرملز ایسوسی ایشن کے ترجمان چوہدری عبدالوحید کے ان تمام اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی شوگر مل 240 روپے فی 40 کلو گرام کے ریٹ پر خریداری نہیں کر رہی ہے،اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ جب گنے کا ریٹ 180 روپے فی 40 کلو گرام تھا تو چینی کی قیمت سرکاری طور پر 42 روپے کلو طے ہوئی تھی اب گنا 190 سے 200 روپے من خرید کر ملیں من مرضی کے ریٹ سے چینی فروخت کر رہی ہیں۔

خدشہ

مزید : رائے /ملتان صفحہ آخر