ایٹا ٹسٹ میں کامیاب امیدواران کو انٹرویو کے دوران والدین کا شناختی کارڈ لازمی قرار

ایٹا ٹسٹ میں کامیاب امیدواران کو انٹرویو کے دوران والدین کا شناختی کارڈ ...

  



پشاور (سٹی رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف سب ڈویژن جنڈولہ ضلع ٹانک ایٹا کے کارکنان نے عربی ٹیچر کی اسامیوں پر ایٹا ٹسٹ میں 40سے کم نمبر پر میرٹ بنانے،اور ایٹا ٹسٹ میں کامیاب امیدواران کو انٹرویو کیلئے دوران والدین کا شناختی کارڈ لازمی قرار دینے،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں علاقے کے غریب عوام کو حق دینے اور اپریشن سے متاثرہ گھروں کے اور دوکانوں کے مالکان کو معاوضہ دینے اور دیگر تخفطات کے حوالے سے گزشتہ روز پشاور پریس کے سامنے اختجاجی مظاہرہ کیا مظاہرین نے ہاتھوں پلے کارڈ اور بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر انکے مطالبات درج تھے مظاہرے کی قیادت ملک نوید،ناصر،رمضان،عبدالمالک،کرامت اللہ اور دیگر کثیر تعداد میں تحریک انصاف کے کارکنان نے کیاس موقع پر مظاہرین کا کہنا تھا کہ عربی ٹیچر کی اسامیوں کیلئے جنڈولہ سب ڈویژن ٹانک سابقہ ایف آرٹانک میں ایٹا کے زیر اہتمام ٹیسٹ ہوا تھا جس میں امیدواروں نے پاسنگ مارک حاصل نہیں کئے جس کی وجہ سے فییمل ٹیچر کے تمام اسامیاں دس سالوں سے خالی ہیں اس حوالے سے میرٹ ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کو میں پاسنگ مارکس میں کمی کرنی چاہئے تاکہ سکولوں میں ٹیچر کی کمی کو پورا کیا جاسکے جبکہ ایٹا ٹیسٹ میں اکثر ضلع تانگ کے امیدواروں نے شناختی کارڈ پر پتہ بدل کر ٹیسٹ میں حصہ لیا جسکی سے اصل امیدواروں کی ھق تلفی ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جندولہ سب ڈویژندوران اپریشن مسمار ہونے والے دکانوں اور گھروں کو بھی معاوضہ ابھی تک نہیں ملا جبکہ علاقہ میں صحت کارڈ اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے بھی علاقہ کے غریب عوام محروم ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹائپ ڈی ہسپتال جنڈولہ جنوبی وزیرستان اور سب ڈویژن جنڈولہ ٹانک کا واحد ہسپتال ہے جو بنیادی سہولیات سے محروم ہے اور علاقہ میں کے غریب عوام علاج معالجہ کیلئے دور دراز علاقوں مین علاج کروانے پر مجبور ہے اسکے علاوہ علاقہ میں کوئی یونیورسٹی بھی بھی نہیں ہے جبکہ ہمارے مسائل؛ حل کرنے کیلئے کوئی حکومتی عہدیدار نہیں کیونکہ ہمارا کوئی ایم این اے اور ایم پی اے نہیں ہے جسکی وجہ سے علاقہ مین مسائل کا انبار ہیں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقہ کو درپیش مسائل کو حل کرانے کیلئے جلد از جلد اقدامات کیے جائے بصورت دیگر پارٹی چھوڑنے پر مجبور ہو جائینگے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر