ملاکنڈ، تاجروں کا ٹیکسوں کے نفاذ کیخلاف 27جنوری سے شٹرڈاؤن کا اعلان

ملاکنڈ، تاجروں کا ٹیکسوں کے نفاذ کیخلاف 27جنوری سے شٹرڈاؤن کا اعلان

  



بٹ خیلہ(محمدعثمان یوسفزئی سے) ملاکنڈ کے تاجر برادری نے ہر قسم ٹیکس کے نفاذ کے خلاف فیصلہ کن تحریک کا آغاز کرتے ہوئے 27جنوری کو مکمل شٹرڈاؤن اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت ملاکنڈ ڈویژن کو فری ٹیکس زون کے آئینی حیثیت سے محروم کرنے کی کوشش نہ کریں اور 2023تک استثنیٰ سے متعلق سابق وزیر اعظم اور سابق وزیر اعلیٰ کے تحریری معاہدوں کاپاسداری کریں۔ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام جان دینے کوتیار ہیں لیکن ٹیکس نہیں دینگے۔شٹر ڈاؤن اور احتجاج کا اظہار تاجر برادری ملاکنڈ ڈویژن کے صدر حاجی شاکر اللہ خان، متحدہ ٹریڈ یونین کے صدر حمید خان لالا،سینئر نائب صدر حاجی نواب خان، جنرل سیکرٹری تاج بادشاہ اور انجمن تاجران بٹ خیلہ کے جنرل سیکرٹری ملک دلنواز خان نے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر،تھانہ کے صدر فضل قادر، مولانا شمس الحق، حاجی فضل حسین،لاجبر خان، جاوید خان،درگئی ٹریڈ یونین کے جنرل سیکرٹری حاجی غلام حسن، تھانہ بازار کے سلطان یوسف خان،حاجی حمید اللہ خان،سلطان زیب خان اورضلع ملاکنڈ کے تمام چھوٹے بڑے بازاروں کے دیگر عہدیدار بھی موجود تھے۔ ڈویژنل صدر حاجی شاکر اللہ اور متحدہ ٹریڈ یونین کے صدر حمید خان نے کہا کہ پسماندگی کے باعث1973کے آئین میں ملاکنڈ ڈویژن کو فری ٹیکس زون کا حق دیا گیا ہے لیکن گزشتہ حکومت نے ٹیکس لگانے اور آئینی حقوق چھیننے کی کوشش کی جس کے خلاف ملاکنڈ کے لاکھوں عوام سڑکوں پر نکل آئے اور کامیاب تحریک چلایا جس پر اس وقت کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور بعدآزاں نگران وزیر اعظم ناصر الملک نے ملاکنڈ ڈویژن کے مشران کے وفد کے موجودگی میں آئینی حیثیت بحال رکھنے کا بھرپور یقین دلایا اور تحریر ی حکم نامہ جاری کیا لیکن موجودہ حکومت نے ایک بار پھر بجلی، گیس،پی ٹی سی ایل سمیت دیگر بلوں میں ناقابل برداشت ٹیکسسزلگانا شروع کیا ہے اورتاجروں کو ٹی ایم ایز درگئی اور بٹخیلہ کی جانب سے 109اشیاء پر ٹیکس لگانے کے نوٹس بھیجے گئے ہیں جسے ہم کسی صورت ماننے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ماضی قریب میں دہشت گردی، طالبانائزیشن،سیلاب، زلزلہ اور ڈبل شاہ جیسے مختلف افات کا سامنا کرچکا ہے جس سے یہاں کے عوام کا معاشی نظام تا حال خراب ہے اور اسی فیصد لوگوں کا بیرون ملک مزدوری سے چولہے جل رہے ہیں ایسے حالات میں حکومت کو یہاں کے عوام کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا چاہیے لیکن حکومت الٹا ملک کے لئے قربانیاں دینے والے لوگوں سے منہ کا نوالہ چھین رہا ہے جس کے خلاف عوام احتجاج پر مجبور ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج اور تحریک کا آغاز 27جنوری سے کیا جائیگا جو درجہ بدرجہ منطقی انجام تک جاری رہیگا۔انہوں نے کہا کہ اس تحریک میں ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کسی جانی،مالی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔پریس کانفرنس میں ملاکنڈ انتظامیہ کی جانب سے تاجروں پر بے جا جرمانوں کی مذمت کی گئی اور انتظامیہ کو اگاہ کیا کہ تاجروں کو تنگ کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ انہوں نے ملاکنڈ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے وزیر اعلیٰ محمود خان اور دیگر ممبران قومی و صوبائی اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات کریں اورپسماند ہ علاقے ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کو ٹیکس کے عذاب سے نجات دلائیں۔ انہوں نے 27جنوری کے شٹر ڈاؤن ہڑتال کے بعد پورے ملاکنڈ ڈویژن میں جلد احتجاجی تحریک شروع کرنے کا بھی اعلان کیا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر