دینی مدارس پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے، مولاناامان اللہ حقانی

دینی مدارس پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے، مولاناامان اللہ حقانی

  



نوشہرہ (بیورورپورٹ)دینی مدارس پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے. آٹے کی قلت کے خلاف 24 جنوری کو بھرپور احتجاج کیا جائے گا.. 2 فروری کو تحفظ مدارس کانفرنس سنگ میل ثابت ہوگی. ان خیالات کا اظہار جمعیت علماء اسلام کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری سابق صوبائی وزیر مولانا امان اللہ حقانی اور صوبائی جائنٹ سیکرٹری سابق وزیر آصف اقبال داودزئی اورضلع جنرل سیکرٹری مفتی حاکم علی حقانی نے ضلعی امیر قاری محمداسلم کی زیرِ صدارت جمعیت علماء اسلام ضلع نوشہرہ کے مجلس شوریٰ اور مقامی امراء نظماء کے بھرپور اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا. انہوں نے کہا کہ عالمی قوتیں اسلام کے خلاف سازشیں کرنے میں مصروف ہیں. کئی ممالک میں انکی سازشوں کی بدولت دینی مدارس ختم کردیئے گئے. پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں دینی مدارس آزاد ہیں. انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے سی پیک منصوبہ کو ختم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کی کوشش شروع کی ہے. اسی طرح دینی مدارس کے خلاف بھرپور اور منظم سازش شروع کی ہے. وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی دینی مدارس کے حوالے سے پریس کانفرنس نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے. جمعیت علماء اسلام وطن عزیز میں اسلام کے تشخص اور دینی مدارس کے تحفظ کیلئے مصروف عمل ہیں. انہوں نے کہا کہ تبدیلی کے دعوے داروں نے ملکی معیشت کا بیڑا غرق کر دیا ہے. سات لاکھ ٹن گندم ہمسایہ ملک کو 27 روپے فی کلو کے حساب سے دیئے گئے. جبکہ اب اپنے ہی ملک کے عوام کو 70 روپے کلو آٹا نہیں مل رہا. عوام کی حقیقی نمائندہ جماعت جمعیت علماء اسلام ہے. قائد محترم حضرت مولانا فضل الرحمن ہی ان غریب عوام کا حقیقی ترجمان ہے. قائد جمعیت نے 24 جنوری کو تمام اضلاع میں آٹے کی قلت اور کمرتوڑ مہنگائی کے خلاف بھرپور احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے. اسی طرح دینی مدارس کے حوالے سے 2 فروری کو پشاور میں تحفظ دینی مدارس کانفرنس کا فیصلہ کیا ہے.

مزید : پشاورصفحہ آخر