بجٹ آسان عام فہم ایکسل فارمیٹ اور مارچ سے قبل بحث کیلئے پیش کیا جائے

بجٹ آسان عام فہم ایکسل فارمیٹ اور مارچ سے قبل بحث کیلئے پیش کیا جائے

  



صوابی (نمائندہ خصوصی)پاکستان میں بجٹ آسان عام فہم ایکسل فارمیٹ اور مارچ سے قبل بحث کیلئے پیش کیا جائے شمس الہادی وجمشید طارق کا صوابی میں میڈیا بریفنگ کے دوران خطاب سی این بی اے نے پاکستان میں بجٹ سازی کے مروجہ عمل میں پائی جانیوالی خامیوں کی نشاندہی کیساتھ اس میں بہتری لانے کیلئے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کر دیاسٹیزن نیٹ ورک فار بجٹ اکاؤنٹیبلیٹی(سی این بی اے)کی جانب سے پاکستان میں بجٹ سازی کے مروجہ طریقہ کار پرشدید تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے اس عمل میں بہتری لانے کیلئے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کردیا گیا جس کے مطابق بجٹ سازی کے عمل کو شفاف،عوامی رائے اور علاقائی ضروریات کے مطابق ترتیب دیا جائے۔اس سلسلہ میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران سی این بی اے پارٹنر تنظیم سی پی ڈی آئی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اور صوبائی کوآرڈنیٹرشمس الہادی،جمشید طارق اورسماجی بہبود رابطہ کونسل صوابی کے جنرل سیکریٹری سید عارف شاہ نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کو کہ سی این بی اے نے ہمیشہ ایسے معاملات اٹھائے جو بجٹ سازی کو بہتر اور موثر بنانے کیلئے حکومت کی توجہ کے متقاضی ہیں اور امید کی جاتی ہے کہ یہ چارٹر آف ڈیمانڈ اصلاحاتی ایجنڈے کو مزید آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ سالانہ بجٹ اگلے سال میں ہونے والی آمدنی اور اخراجات کا تخمینہ اور حکومت کے ویژن کا آئینہ دار ہوتا ہے جویہ بتاتا ہے کہ محصولات جمع کرنے کیلئے کیا پلاننگ کی گئی ہے اور انہیں کن شعبوں میں ترجیحی بنیادوں پرخرچ کیا جائیگا۔ ہر جمہوری حکومت سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے سالانہ بجٹ کو اہم شراکت داروں کی شمولیت کے ذریعے شفاف انداز میں تیار کرکے منظوری حاصل کرے اور یہ یقینی بنائے کہ لوگوں کو متعلقہ معلومات تک رسائی حاصل کرنے اورانہیں اپنی رائے دینے کے مواقع میسر ہوں تاہم پاکستان میں ایسا کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ نے چارٹر آف ڈیمانڈکے اہم نکات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ترقیاتی منصوبہ بندی علاقوں کی ضروریات کے مطابق کی جانی چاہیے۔وفاقی حکومت ٹیکس دہندگان کے حقوق کے بل کو فوری منظورکرے بجٹ دستاویزات میں شفافیت لانے کیلئے مجوزہ ٹیکس اور اخراجات کے تمام اقدامات کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں،بجٹ دستاویزات سادہ،غیر تکنیکی اور اردو زبان میں تیار کی جائیں اندرون و بیرون ملک شہریوں کے لئے بجٹ کی دستاویزات قابل رسائی بنائی جائیں،بجٹ کی تمام دستاویزات کو ایکسل (Excel)جیسے فارمیٹ میں عام کیا جائے جو تجزیہ اوراعدوشمار کی تصدیق میں معاون ثابت ہو سکیں،سالانہ بجٹ مارچ میں پارلیمنٹ میں بحث کیلئے پیش کیا جائے اوراس کی پوری جانچ پڑتال کے لئے متعلقہ کمیٹیوں کو بھیجا جانا چاہئے۔بلواسطہ ٹیکسز کی شرح کو کم کیا جائے تاکہ کم آمدنی والے گروپس پر مثبت اثرات پڑ سکیں،سرکاری وزارتوں اور تنظیموں کی مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے سنگل ٹریثری اکاؤنٹ (ایس ٹی اے) کا استعمال کیا جائے جس سے قرضوں کی لاگت کو کم کیا جاسکتا ہے،خسارہ میں چلنے والے مختلف سرکاری اداروں میں بہتری لائی جائے۔ایف بی آر میں فوری اصلاحات کی جائیں۔وزارتیں اپنے اخراجات کے تناظر میں آئندہ بجٹ کی ضروریات کا جائزہ لیں،صوابدیدی کٹوتیوں کی حوصلہ شکنی کی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ چارٹر آف ڈیمانڈمختلف معاشی ماہرین کی رائے کے تجزیہ اور چند اہم اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد تیار کیا گیا ہے اورامیدہے کہ ان پر عملدرآمد ہونے سے یہ سفارشات زیادہ شفافیت،جوابدہی سے بھرپور اورایک کارآمد بجٹ کو وجود میں لانے کاباعث بن سکتی ہیں۔اس موقع پر موجودہ مختلف سیاسی شخصیات اور سماجی تنظیموں کے نمائندگان نے چارٹر آف ڈیمانڈ میں شامل مطالبات کی بھرپور حمایت کی اور کہا کہ اس آواز کو ضلعی سطح پر اٹھانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے اور ہر سطح پربجٹ سازی کے مروجہ عمل میں پائی جانیوالی خامیوں کی نشاندہی کیساتھ ساتھ اس میں بہتری لانے کیلئے تجویز کردہ سفارشات کو عام شہریوں تک پہنچایا جائیگا۔ چارٹر آف ڈیمانڈ کوضلعی، صوبائی اور وفاقی سطح پر مختلف اسٹیک ہولڈرز کیساتھ شیئر کیا جائیگا تاکہ ان کو شفافیت اور شراکت داری پر مبنی بجٹ بنانے کے عمل کیلئے اٹھائی جانیوالی اجتماعی آواز کا حصہ بنایا جاسکے اور شہریوں سمیت دیگر اہم سٹیک ہولڈرز کی شمولیت سے شفاف بجٹ سازی کا آغاز ممکن ہو سکے۔ اس موقع پرپرنٹ و الیکٹرانک میڈیا نمائندگان، مختلف سماجی تنظیموں کے عہدیداران سمیت سیاسی و سماجی شخصیات کی کثیر تعداد موجود تھی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر