چوتھی سہ ماہی‘پاکستان میں اقتصادی اعتماد میں اضافہ ہو، عالمی سروے

چوتھی سہ ماہی‘پاکستان میں اقتصادی اعتماد میں اضافہ ہو، عالمی سروے

  



لاہور(پ ر)دی ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس(اے سی سی اے) اورانسٹی ٹیوٹ آف منیجمنٹ اکاونٹنٹس (آئی ایم اے)کے مشترکہ عالمی سروے - Global Economic Conditions Survey (GECS) - سے معلوم ہوا ہے کہ سنہ 2019ء کے آخری تین ماہ کے دوران اقتصاد ی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور اعتماد کی یہ بحالی طویل المیعاد اور حالیہ اوسط کی سطحوں پرمضبوط ہے۔تاہم،اس سروے میں پاکستان کی یہ انوکھی تصویر بھی سامنے آئی ہے کہ جہاں اقتصادی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے وہیں آرڈرز کا توازن کمزور اور اوسط سے بھی کم ہے۔ اس سروے میں اکاؤنٹینسی کے تقریباً 100 ماہرین نے حصہ لیا اور پاکستان میں اقتصادی اعتماد کی صورت حال پر اپنی رائے کا اظہار کیا اس صورت حال کی وضاحت کرتے ہوئے اے سی سی اے پاکستان کے ہیڈ، سجید اسلم نے کہا:’یہ ایک انوکھی بات ہے لیکن حقیقت میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ اعتماد میں اضافے کا تعلق اسٹرکچر کاعدم توازن دور کرنے کے لیے ہونے والی پیش رفت سے تعلق رکھتا ہے جبکہ آرڈرز کی صورتحال سے معلوم ہوتا ہے کہ آئندہ عرصے کے دوران جی ڈی پی میں ترقی کی رفتار کمزور رہے گی۔‘اس سروے سے ظاہر ہونے والے مزید جو نتائج سامنے آئے ہیں اُن کے مطابق،سرکاری اور بیرونی شعبوں میں عدم توازن دور کرنے کے لیے پالیسی پر توجہ جاری ہے اور افراط زر بھی دوہرے اعداد سے کم ہو کر ہدف کے اندر یعنی5 سے 7 فیصد کے درمیان ہے۔اس کے علاوہ،موجودہ گردشی خسارے میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے جس میں اکتوبر، 2019ء کا سرپلس بھی شامل ہے۔

اور اس کمی کی بنیادی وجہ درآمدات میں ہے۔ مالی خسارے میں بھی کمی واقع ہوئی ہے کیوں کہ محاصل میں اضافے کے لیے آئی ایم کے تجویز کردہ اقدامات مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔لیکن بر ی خبر یہ ہے کہ حالیہ مہینوں کے ددران افراط زر میں دوبارہ اضافہ ہو گیا ہے جو بڑھ کر، دسمبر، 2019ء میں 12.4 فیصد ہو گیا جبکہ سال کے آغاز میں یہ 7 فیصد سے کچھ اوپر تھا۔اس سے قطع نظر کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے، اپنی حالیہ پالیسی میں جو نومبر میں جاری کی گئی،شرح سود 13.35 فیصدپر برقرار رکھی۔مزید یہ کہ اس اقتصادی منظر نامہ کے مطابق، سنہ 2020 ء میں 3.5 فیصد کی شرح سے معمولی ترقی رہے گی جو طویل المیعاد اوسط سے کم ہے۔سجید اسلم نے مزید کہا:’پاکستان کے مرکزی بینک کے نقطہ نظر سے یہ عارضی عوامل کی وجہ سے ہے جنہوں نے افراط زر کو بلند شرح پر پہنچادیا ہے اوران میں خورنی اشیاء قابل ذکر ہیں۔جیسے ہی یہ اثرات ختم ہوں گے، افراط زر دوبارہ کم ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق، کرنسی کے شرح تبادلہ میں استحکام اور سرکاری خساروں کی مالی فنانسنگ کے خاتمے سے بھی افراط زرسے وابستہ توقعات بہتری ہوئی ہیں۔‘رپورٹ میں بیان کیے گئے عالمی منظرکے مطابق سنہ 2019ء کی چوتھی سہ ماہی کے دوران بحال ہونے والا اقتصادی اعتماد تقریباً 2019ء کے وسط میں موجود اقتصادی اعتاد کی سطح کے برابر ہے۔کل 2,560 اکاؤنٹنٹس پر مشتمل عالمی سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمام اہم خطوں میں اعتماد بحال ہوا اور انتہائی پر اعتماد خطہ ایک مرتبہ پھر جنوب ایشیا اور مشرق وسطیٰ تھے۔چوتھی سہ ماہی کے دوران، افراط زر کے حوالے سے جی ای سی کے اقدمات مؤثر ثابت ہوئے اور اس میں تین سال کی سب سے کم سطح 42 فیصد پہنچ گئے۔ترقی یافتہ اور بعض ترقی پذیر ممالک میں یہ انتہائی کم ترین سطح پر ہے۔ بلا شبہ بعض معیشتوں میں، اس حوالے سے،تشویش میں اضافہ ہورہا ہے کہ افراط زر اس قدر کم ہے کی اس کی وجہ سے قلت زر کے امکانات کو خارج نہیں کیا جا سکتا۔پیش منظر پر نظر ڈالتے ہوئے، جی ای سی ایس کی رپورٹ میں آئندہ سال، سنہ 2020ء میں عالمی معیشت کو درپیش خطرات اور امکانات کا بھی گہرا جائزہ لیا گیا ہے اور پیش گوئی کی گئی ہے کہ سنہ 2019ء کی سست رَوی کے بعد ا مکان ہے کہ عالمی معیشت میں بتدریج اضافہ ہو بشرطیکہ اس سال کا اختتام 3 فیصد کے قریب ہو۔اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سنہ 2019ء میں درپیش خطرات میں سے زیادہ ترسنہ 2020ء میں بھی برقرار رہیں گے جن میں تجارتی تناؤمیں دوبارہ اضافہ، جغرافیائی اور سیاسی خطرات، بالخصوص مشرق وسطیٰ، ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں قرضوں کی صورت حال اور بریگزٹ کے بعد برطانیہ-یورپی یونین کے درمیان تجارتی تعلقات شامل ہیں۔عالمی منظر کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اے سی سی اے کے چیف اکنامسٹ، مائیکل ٹیلر نے کہا،’سنہ 2020ء میں عالمی معیشت کو درپیش خطرات میں سے زیادہ تر خطرات وہی ہیں جو سنہ 2019ء میں تھے اورجن میں امریکا اور چین کے درمیان تجارتی تنازع عالمی ترقی میں سست روی کی بنیادی وجہ تھا۔ اِس علاقے میں حالیہ ترقی مثبت ثابت ہوئی ہیں لیکن نظرثانی شدہ ٹیرف کے باعث اِس میں دوبارہ اضافے کا خطرہ موجود ہے۔ اس وقت،مشرق وسطیٰ جغرافیائی اور سیاسی خطرے کا مرکز ہے اگرچہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ذریعے عالمی معیشت کو پہنچے والے نقصان کا امکان بہت کم ہے۔‘

مزید : کامرس