ٹرمپ کے مواخذے کا سینیٹ میں آغاز، مچ میکو نل رولز کا اعلان کرنے پر ہنگامہ

    ٹرمپ کے مواخذے کا سینیٹ میں آغاز، مچ میکو نل رولز کا اعلان کرنے پر ہنگامہ

  



واشنگٹن(اظہر زمان،بیورو چیف) صدر ٹرمپ کے مواخذے کے تاریخی مقدمے کا گزشتہ روز سینیٹ میں آغازہوا تو اکثریتی لیڈر مچ میکونل نے کارروائی کے جن رولز کا اعلان کیا اس پر ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ اکثریتی ریپبلکن پارٹی کی مواخدے میں حکمت عملی یہ ہے کہ اس عمل میں بحث کا عرصہ مختصر رکھا اور مزید شہا دتوں کی پیشی کو ناممکن بنایا جائے تا کہ جلد مقدمہ مکمل کرکے اسے مسترد کرنے کیلئے ووٹنگ کردی جائے۔ ڈیمو کرٹیک پارٹی کے اعتراض پر انہوں نے دو نو ں اطراف سے بحث کیلئے مخصوص دو دنوں کو بڑھا کرتین دن کر دیا، تاہم ہر روز آٹھ گھنٹے مخصوص کر کے بحث کا کل وقت پھر بھی چوبیس گھنٹے ہی رہیگا۔ ڈیمو کر ٹیک پارٹی کے منیجر ز نے الزام لگایا کہ اکثریتی لیڈر صدر ٹرمپ کے ایجنڈے کے مطابق کارروائی کو جلد نمٹانے کی کوشش کررہے ہیں،ایک ڈیمو کرٹیک رکن نے زور دیا کہ شہادتوں کا مطالبہ کرنے کیلئے سینیٹ کے سوئچ بورڈ پر کالوں کی بھر مار کردی جائے۔ اس ہنگامے کے دوران سینیٹ کے سارجنٹ نے دھمکی دی کہ اگرشور برقرار رہا تو وہ ارکان کو گرفتار کرنے پر مجبور ہو جائیں گے جس کے بعد تمام ارکان سکون سے اپنی نشستوں پر چلے گئے اور شور شرابہ بند ہو گیا، اس دو ر ان وائٹ ہاؤس نے ڈیمو کرٹیک ارکان کے اس مطالبے پر سخت رد عمل کا اظہار کیا کہ سرکاری قانونی ٹیم کے سربراہ پیٹ کیپلون یوکرائن کے بارے میں انکو ا ئری کی تمام دستاویزات سینیٹ میں پیش کریں۔ وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی پریس سیکرٹری ہوگن گڈلے نے صدر ٹرمپ کی طرف سے سخت بیان جاری کیا جواس وقت سوئٹزر لینڈ میں ورلڈ اکنامک فورم اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ ترجمان نے کہا ڈیمو کرٹیک ارکان کے مطالبے کی حیثیت ایک مذاق سے زیادہ نہیں، یہ خفیہ معلومات کس طرح سامنے لائی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے ڈیمو کرٹیک منیجرز کی ٹیم کے سربراہ ایوان کی انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین کانگریس میں ایڈم شیف پر الزام لگایا کہ انہوں نے متعدد مرتبہ ٹرمپ کی انتخابی ٹیم کی روس کیساتھ ملی بھگت کے حوالے سے جھوٹ بولا ہے، تاہم سینٹ کی باقاعدہ کارروائی شر و ع ہونے سے تقریبا ایک گھنٹہ قبل ڈیمو کریٹک پارٹی کے سات رکنی منیجرز کی ٹیم نے 34صفحات پر مشتمل دلائل کے ذریعے سرکاری ٹیم کے موقف کا جواب دیا۔ انہوں نے صدرٹرمپ کے اس موقف کی نفی کی،سوائے انتخابات کے انہیں کسی امر کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ان کا کہنا تھا طاقت کے نا جائز استعمال کو ناقا بل مواخذہ قرار دینے کا صدرٹرمپ کاموقف درست نہیں۔ صدارتی اختیارات کا ناجائز استعمال نہ صرف غلط،غیر قانونی غیر آئینی بلکہ ملک کیلئے خطرنا ک بھی ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس سینیٹ کے اجلاس کی صدرات کر رہے ہیں۔ آخری خبریں آنے تک مقدمے میں دونوں اطراف کی طرف سے دلائل پیش کرنے کا سلسلہ جاری تھا۔

ٹرمپ مواخذہ

مزید : صفحہ اول