زمین کا تنازع، شہزاد اکبر اور میاں سومروآمنے سامنے، 3سرکاری افسر لڑائی کی نذر ہو گئی

زمین کا تنازع، شہزاد اکبر اور میاں سومروآمنے سامنے، 3سرکاری افسر لڑائی کی ...

  



راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی)راولپنڈی کی تحصیل گوجر خان میں زمین کے تنازع پر وفاقی حکومت کے دو بڑے آمنے سامنے آگئے وزیراعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے احتساب و داخلہ شہزاد اکبر اور وفاقی وزیر برائے نجکاری محمد میاں سومرو میں طاقت کی جنگ جاری ہے۔ شہزاد اکبر کے بھائی مراد اکبر قبضے کیلئے اپنے ساتھ 30افراد اور تعمیراتی سامان بھی لائے اور قبضے کیلئے فلور مل کی زمین پر دیواریں کھڑی کرنے کی کوشش کی جس پر زمین کے مالک کے ملازم اور سکیورٹی گارڈ نے فوری پولیس کو اطلاع دے کر بلالیا۔ پولیس نے قبضہ مافیا کو فلور مل اراضی پر باؤنڈری وال بنانے اور غیرقانونی قبضے سے روکا، واقعے کے بعد ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو (اے ڈی سی آر)رضوان قدیر نے موقع پر جاکر معائنہ کیا،کاغذات کا جائزہ لے کر مراد اکبر کے خلاف فیصلہ سنایا، اے ڈی سی آر نے مذکورہ اراضی پر اپنی رپورٹ بھی پیش کی جس پر معاون خصوصی شہزاد اکبر مبینہ طور پرناراض ہوئے، شہزاد اکبر نے مبینہ طور پر اپنے عہدے کاغلط استعمال کرکے ریونیوآفس راولپنڈی پر دباؤ ڈالا اور اراضی پر قبضے کیلیے پنجاب پولیس اور دیگر اداروں پر بھی دباؤ ڈالا۔ چند سال پہلے مرزا مراد اکبر نے دعویٰ کرکے اراضی کی تقسیم کی درخواست دی تھی، نجی ٹی وی کے مطابق مرزا مراد اکبر کی اراضی تقسیم کرنے کی درخواست اس وقت کے ریونیو کے عملے نے مسترد کردی تھی لیکن مرزا مراد اکبر نے ایک سال پہلے دوبارہ درخواست دی اور دباؤ ڈال کر اپنے حق میں فیصلہ لے لیا، گوجرخان کے قریب جی ٹی روڈ پر گاؤں بچہ کی 10کنال سے زیادہ اراضی ملک منیر نے 23سال پہلے خریدی تھی، اراضی کے حوالے سے عدالت میں فیملی کے درمیان تقسیم کا معاملہ بھی زیر سماعت ہے، لاہور ہائیکورٹ نے 2012میں اراضی پر حکم امتناع دیا ہوا ہے لیکن اس کے باوجود شہزاداکبر کے بھائی نے اراضی پر قبضے کی کوشش کی۔ زمین محمد میاں سومرو کے رشتہ داروں کی ہے، جو مشیر احتساب شہزاد اکبر کے بھائی مراد اکبر نے دباؤ ڈال کر اپنے نام کرالی لیکن معاملہ اس وقت گرم ہوا جب شہزاد اکبر کے بھائی مراد اکبر نے زمین پر عملی طور پر قبضہ لینے کی کوشش کی۔نجی ٹی وی کے مطابق قبضے کے دوران زمین پر محمد میاں سومرو کی سرکاری گاڑیاں بندے لے کر پہنچ گئیں، پولیس بروقت پہنچی اور دونوں پارٹیوں کو تھانے لے گئی۔ معاملے کی وجوہات رپورٹ کرنے والے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرریونیور راولپنڈی کو فارغ کیا گیا، ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کو بھی ہٹا دیا گیا، اے ایس پی مندرہ بھی تبدیل ہو گئے جبکہ نئے ڈی سی راولپنڈی کیپٹن انوار الحق نے چارج بھی سنبھال لیا ہے۔ مشیر احتساب نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی رپورٹ پر کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو وزیراعظم آفس میں اپنے دفتر بلا کر جھاڑا بھی تھا۔

آمنے سامنے

مزید : صفحہ اول