ریاست کے وعدوں کو پورا کرنا وفاقی حکومت کا کام ہے: اسلام آباد ہائی کورٹ

    ریاست کے وعدوں کو پورا کرنا وفاقی حکومت کا کام ہے: اسلام آباد ہائی کورٹ

  



اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف جیلوں میں موجود میں قیدیوں کی ابتر حالت اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک میں قانون پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ تحریری حکم نامے میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مہلک بیماریوں میں مبتلا قیدیوں کی موجودگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ 'یہ تشویش ناک ہے کہ بڑی تعداد میں قیدیوں کو مہلک بیماریوں کا سامنا ہے جن میں ایچ آئی وی، ٹیوبر کلوسز اور ہیپاٹائٹس شامل ہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کا کہنا تھا کہ 'رپورٹ میں صاف ظاہر ہے کہ قیدیوں کی حالت ابتر ہے، قیدیوں کو زیر حراست ناقابل برداشت حالات سے گزرنا پڑتا ہے جو ان کے جینے کے حق کے خلاف ہے'۔ان کا کہنا تھا کہ 'رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریاستی اداروں کی عام شہریوں کے حوالے سے بے حسی، نظر انداز اور عدم توجہ کا عندیہ دیا گیا ہے'۔چیف جسٹس اطہرمن اللہ کا کہنا تھا کہ یہ وفاقی حکومت کا کام ہے کہ ریاست پاکستان کے وعدوں کو پورا کرے۔شیریں مزاری کی قیادت میں کمیشن کو رپورٹ جمع کرانے پر سراہتے ہوئے عدالت نے انکوائری کمیشن کو 'عمل درآمد کمیشن' میں تبدیل کیا جو تجاویز پر ریاست پاکستان کے وعدوں کے مطابق نفاذ کو یقینی بنائے گا۔عدالت نے ہدایات جاری کیں کہ عمل درآمدی کمیشن فوری طور پر اجلاس منعقد کرے گا اور صوبوں کے متعلق چیف سیکریٹریز سے رپورٹ کے نفاذ پر رپورٹ طلب کرے گا جو کمیشن کا حصہ بھی ہیں۔عدالت نے حکم جاری کیا کہ کمیشن وفاقی وزیر صحت اور متعلقہ صوبوں کے چیف سیکریٹریز کی مشاورت سے مہلک بیماریوں میں مبتلا قیدیوں کے لیے فوری اقدامات کرے گا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ

مزید : صفحہ آخر