واپڈا ملازمین کو ایک سال میں سوا 5ارب مالیت کی بجلی مفت فراہم کرنے کا انکشاف

واپڈا ملازمین کو ایک سال میں سوا 5ارب مالیت کی بجلی مفت فراہم کرنے کا انکشاف

  



اسلام آباد(آئی این پی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی توانائی میں انکشاف ہوا ہے کہ ایک سال کے دوران واپڈا ملازمین اور افسران کو5ارب 26کروڑ مالیت کے 29 کروڑ سے زائد یونٹس مفت فراہم کیے گئے۔ کمیٹی نے ملازمین کو مفت بجلی فراہمی کے فارمولے کو تبدیل کرنے اورآئندہ اجلاس میں نیا فارمولا سامنے لانے کی ہدایت کر دی۔کمیٹی نے جدید نظام سے لوڈ شیڈنگ ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے اس حوالے سے جامع پالیسی بنانے کی بھی ہدایت کی۔کمیٹی رکن سینیٹر نعمان وزیر نے کہا کہ پاکستان میں استعمال ہونے والے پنکھے پرانی ٹیکنالوجی پر تیار کیے جاتے ہیں جو کہ 130واٹ بجلی سے چلتے ہیں، دنیا میں 25 سے30 واٹ پر چلنے والے پنکھے متعارف ہو چکے،نئی ٹیکنالوجی کو اختیار کرنے سے ہزاروں میگاواٹ بجلی بچائی جا سکتی ہے۔منگل کو کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینیٹر فدا محمد کی زیر صدارت منعقد ہوا، اجلاس میں سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر سید شبلی فراز کے علاوہ نعمان وزیر خٹک، احمد خان، ڈاکٹر غوث محمد خان نیازی، محمد اکرم اور سراج الحق کے علاوہ وزارت توانائی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ دوران اجلاس ارکان نے لوڈشیڈنگ کے باعث عوام کو درپیش مسائل کا اور ان کا حل تلاش کرنے کیلئے متعلقہ اداروں پر زور دیا۔ کمیٹی نے کہا کہ برقی آلات اور جدید نظام کے ذریعے بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی کی جا سکتی ہے۔کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر فدامحمد نے کہاکہ لوڈشیڈنگ انتہائی مسئلہ ہے اور اس کیلئے جامع حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے جس میں نہ صرف جدیدٹیکنالوجی سے استعفادہ کیا جائے بلکہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیتے ہوئے پالیسی سازی کی جائے۔ کمیٹی نے واپڈا ملازمین اور افسران کو مفت بجلی کے یونٹ کی سہولت کے بارے میں کہا کہ اس سلسلے میں نیا فارمولا سامنے لانے کی ضرورت ہے۔

مفت بجلی

مزید : صفحہ آخر