نیشنل انشورنس کا رپوریشن، اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز سمیت 4ترامیمی بل منظور

        نیشنل انشورنس کا رپوریشن، اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز سمیت 4ترامیمی بل منظور

  



اسلام آ باد (سٹاف رپورٹر) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے نیشنل انشورنس کارپوریشن(ری آرگنائزیشن،ترمیمی بل 2019،اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز ترمیمی بل 2019 سمیت چار بلوں کی منظوری دیدی، بلوں کے تحت وزارت تجارت اور اس کے ماتحت ادارے پارلیمنٹ سے بل کی منظوری کے بعد اپنے رولز و ریگولیشن6ماہ میں مکمل اور پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے پابند ہونگے، کمیٹی نے زیرو ریٹڈ سیکٹرز کیلئے بجلی بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اور نیلم جہلم سرچارج کی چھوٹ ختم کرنے کے معاملہ پر ذیلی کمیٹی تشکیل دیدی،سیکرٹری وزارت تجارت احمد نواز سکھیرا اور دیگر حکام نے کمیٹی کو آ گاہ کیا کہ1990سے پاکستان کی فی ایکٹر پیدوار نہیں بڑھی جبکہ بھارت میں فی ایکڑ پیداوار 5گنا بڑھ گئی ہے، کپاس کی نئی پالیسی پر کام فروری کے وسط تک مکمل ہو جائیگا، برآمدات کے فروغ کیلئے بیرون ممالک میں 54میں سے 45کمرشل آفیسرز میرٹ پربھرتی کر لئے،کپاس کی قلت کو دور کرنے کیلئے حکومت نے درآمد کی اجازت دی، تیسری ٹیکسٹائل پالیسی کی تیاری کا عمل جاری ہے، چین کیساتھ ملکر بیج میں جدت لانے کیلئے 10کاٹن ریسرچ سنٹرز کھولنے کی کو شش کر رہے ہیں۔منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین سید نوید قمر کی صدارت میں ہوا، سیکرٹری تجا رت احمد نواز سکھیرا نے کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی۔ کمیٹی نے سید فخر امام و دیگر کی جانب سے پیش کئے گئے دیگر دو بل ایکسپورٹ ڈولپمنٹ فنڈ ترمیمی بل 2019 اورٹریڈ آرگنائزیشن ترمیمی بل 2019 کی بھی متفقہ منظوری دی، ووٹنگ کے دوران بلوں سے اختلاف رائے رکھنے والے رانا تنویر حسین سمیت دیگر ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا اور اجلاس سے چلے گئے،سید فخر امام نے کہا بلوں کا مقصد پارلیمنٹ کے وزارتوں اور اداروں کی نگرانی کے کردار کو مضبوط بنانا ہے اور اس سے پارلیمنٹ کو مزید موثر فورم بنانا ہے،ایگزیکٹو کے اختیارات میں تجاوز اس کا مقصد نہیں، دنیا میں کوئی بھی ایگزیکٹو یہ پسند نہیں کرتا اس کا احتساب ہو،سید نوید قمر نے کہایہ کام بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ وزارت تجارت کے حکام نے کمیٹی کو بتایا ٹیکسٹائل کاپاکستان کی برآمدات میں 60فیصدحصہ ہے، پاکستان ان چند بڑے ممالک میں ہے جس کے پاس ٹیکسٹائل کا مکمل ویلیو چین مو جود ہے،ٹیکسٹائل کیلئے 17ارب کے ریفنڈز حکومت جاری کر چکی ہے، دسمبر تک ٹیکسٹائل کے تاجروں کے تمام ریفنڈز ادا کردئیے جائیں گے،زیرو ریٹڈ سیکٹرز کو رعائتی نرخ پر گیس اور بجلی فراہم کی جا رہی ہے اس کیلئے حکومت نے 24ارب مختص کئے ہیں، کراچی گارمنٹس سٹی کو نان پرافٹ تنظیم کا درجہ دیا گیا ہے،سند ھ حکومت کو صوبائی ٹیکسوں کی چھوٹ کا کہا لیکن تجویز مسترد کردی،کپاس کی قلت کو دور کرنے کیلئے ای سی سی نے طو رخم بارڈر کے ذریعے کپاس کی درآمد کی اجازت دی ہے۔ کاٹن کی پیداوار کا ہدف کم ہو کر 9ملین بیلز پر آ گیا ہے،شازا فاطمہ خواجہ نے استفسار کیا حکومت نے زیر وریٹڈ سیکٹرز کیلئے بجلی بلوں پر فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ چارجز، نیلم جہلم سرچارج پر چھوٹ کا اعلان کیا تھا،ای سی سی نے منظوری دی مگرحکومت نے یہ سہولت ختم کردی،کمیٹی چیئرمین معاملہ کا جائزہ لینے کیلئے شیخ یعقوب کی قیادت میں ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔ سیکرٹری تجارت نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں کاٹن کی پیداوار میں بی ٹی 1بیج استعمال ہو رہا ہے،اس کا پیٹنٹ 2010میں ختم ہو گیا تھا اور اس کی تجدید نہیں کی گئی۔ پاکستان کی کمپنیاں چین اور آسٹریلیا کی کمپنیوں سے بیج کی جدیدٹیکنالوجی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

قائمہ کمیٹی تجارت

مزید : صفحہ آخر