سینیٹ، گند م آٹا بحران پر حکومت، اپوزیشن آمنے سامنے، تلخ جملوں کا تبادلہ، نعرہ بازی

سینیٹ، گند م آٹا بحران پر حکومت، اپوزیشن آمنے سامنے، تلخ جملوں کا تبادلہ، ...

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،نیوز ایجنسیاں)سینیٹ نے مجموعہ تعزیرات پاکستان (ترمیمی) بل 2019ء پر قائمہ کمیٹی داخلہ کی رپورٹ پیش کرنے کی مدت میں توسیع کی منظوری د ید ی۔ منگل کو اجلاس کے دور ان قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر رحمان ملک نے تحریک پیش کی جس کی ایوان نے منظوری دیدی۔اجلاس کے دوران سینیٹ میں اینٹی منی لانڈرنگ (تر میمی) بل 2019ء پر قائمہ کمیٹی خزانہ، ریونیو و اقتصادی امور کی رپورٹ واپس لے لی گئی۔ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے ایوان کو بتایا اس رپورٹ میں کچھ غلطیا ں ہیں جنہیں درست کرنے کی ضرورت ہے اسلئے وہ یہ رپورٹ واپس لینا چاہتے ہیں جس پر چیئرمین نے ارکان کی رضامندی سے انہیں یہ رپورٹ درست کر کے پیش کرنے کی ہدا یت کی۔اجلا س کے دور ان چیئرمین سینیٹ نے ارکان کے فضائی ٹکٹس کے حوالے سے تحفظات دور کر کے 10 دن میں رپورٹ طلب کرلی۔ سینیٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا ٹکٹوں کے اجراء کے حوالے سے ہمیں مختلف مسائل کا سامنا ہے، بالخصوص بلوچستان، سندھ اور جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان سینیٹ کے لاکھوں روپے کے ٹکٹ ضائع ہو جا تے ہیں، یا تو پرانا نظام بحال کیا جائے یا پھر واؤچرز کے اجراء کے ذریعے مسئلہ حل کیا جائے۔ سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے کہا یہ سنجیدہ معاملہ ہے، اس کو حل ہونا چا ہئے۔ چیئر مین سینیٹ نے وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان سے کہا اس سلسلے میں ہم نے ایک کمیٹی بھی بنائی تھی۔ اس کی سفارشات آپ کو بھجوا دی جائیں گی، آٹھ دس دن میں سفار شا ت پر عمل کر کے ایوان کو آگاہ کیا جا ئے۔دریں انثاء وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکورٹی خسرو بختیار نے ملک میں جاری گندم اور آٹے کے بحران سے متعلق پالیسی بیان دیتے ہوئے ایوان بالا کو بتایا ملک میں گندم کا کوئی بحران نہیں، وافر مقدار میں ذخائر موجود ہیں،سندھ میں گندم اور آٹے بحران کی ذمہ دار سندھ حکومت ہے جنہوں نے اپنے پاس ایک دانہ بھی ذخیرہ نہیں کیا،جس سے سندھ میں بحران پیدا ہوا، موجودہ حکومت نے گندم کی امدادی قیمت میں اضافہ کیا۔اسوقت پبلک سیکٹر کے پاس گندم کے 40لاکھ ٹن ذخائر موجودہیں اور گندم کی نئی فصل آنے تک بھی یہ ذخائر 8لاکھ ٹن موجود رہیں گے۔گذشتہ سال پنجاب نے 40لاکھ ٹن گندم کا ذخیرہ اپنے پاس رکھا۔ سندھ اور خیبر پختونخوا میں ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کیو جہ سے بھی مسائل پیدا ہوئے ہیں تاہم اب صورتحال حکومت کے کنٹرول میں ہے، سندھ کو روزانہ کی بنیاد پر گندم کی سپلائی جاری ہے جس کی وجہ سے وہاں پر آٹے کی فی کلو قیمت میں کمی ہو گئی ہے۔ خیبر پختونخوا کو بھی روزانہ 5 ہزار ٹن گندم کی سپلائی کی جارہی ہے اور وہاں پر گندم اور آٹے کی سمگلنگ کو روکنے کیلئے بھی اقدامات کئے جارہے ہیں۔پی پی، ن لیگ کی حکومتوں میں نہیں، موجودہ حکومت نے گند م کی امدادی قیمت میں اضافہ کیا۔حکومت نے کسانوں کی سہولت کیلئے یوریا کھاد سے جی آئی ڈی سی ٹیکس ختم کردیا ہے۔ اس موقع پر قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق نے کہاوفاقی وزیر خسرو بختیار کو ایوان میں دیکھ کر اطمینان ہوا۔ حکومت کو آٹے بحران پر تب ہوش آیا جب پورا ملک چیخ اٹھا، معاملے کو سنجیدگی کے پیش نظر اس کو کمیٹی میں بھیجا جائے تاکہ کوئی حل نکالا جا سکے۔ جس پرچیئرمین سینٹ نے معاملہ فوڈ سیکورٹی کمیٹی کے سپرد کردیا۔ اجلاس کے دوران آٹے بحران کے معاملے پر حکومت اور اپو ز یشن آمنے سامنے آگئے، وفاقی وزیر خسرو بختیار کی ایوان میں تقریر کے دوران اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی کی گئی، خسرو بختیار کی جانب سے ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے ادوار میں گندم کی اعدادوشمار بتانے پر اپوزیشن نے نعر ے بازی بھی کی، ایوان بالا میں حکومت اور اپوزیشن کے مابین تلخ جملوں کے تبادلوں کے موقع پر چیئرمین سینیٹ نے معاملے کو سنبھالتے ہوئے کہااب معاملہ سینٹ کی متعلقہ کمیٹی میں ہے، رپورٹ کا انتظار کیا جا ئے اس موقع پر پیپلز پارٹی کی رکن شیری رحمن کاکہنا تھا ملک میں آٹے کے سنگین بحران کے معاملے پرفوڈ سکیورٹی کمیٹی کو فیکٹ فائنڈنگ کیلئے ٹائم فریم دیا جاے یہ نا ہو آٹے بحران کا معاملہ کمیٹی میں جاکر دفن ہو جاے۔وفاقی وزیر کو ہمارے سوالات کا جوابدہ ہونا پڑے گا۔ جس پر وفاقی وزیر نے کہا پیپلز پارٹی اپنے دور میں بھی گندم درآمد کرتی رہی جبکہ ن لیگ کے دور میں بھی گندم درآمد کی گئی۔اس موقع پر سینیٹر نعمان وزیر کاکہنا تھا اپوزیشن گندم کے حوالے سے اپنے اعدادوشمار ٹھیک اورحکومت سپارکو کے زریعے سروے کرے کہ آئندہ برس پیدوار کتنی متوقع ہے۔ حکومت گندم کی پیدوار کے اعدادوشمار تحصیلدار اور پٹوری سے لیتی ہے، ملک میں بجلی سب سے زیادہ خیبر پختونخوا بناتا ہے مگر ریلیف کراچی کو د یاجاتا ہے، ہم دوسرے صوبوں کو گیس دیتے ہیں مگر ہمارے کارخانے گیس لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بند ہیں، بعد ازاں ایوان کا اجلاس جمعہ کی صبح ساڑے دس بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

سینیٹ اجلاس

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،نیوز ایجنسیاں) وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے دالبندین اور سوات کیلئے پروازیں بحال کر نے کااعلان کرتے ہوئے کہا پی آئی اے کی کوئٹہ تا گوادر اور تربت پروازیں چلائی جائیں گی۔منگل کو وقفہ سوالات کے دور ان وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان بتایا پی آئی اے گوادر اور کوئٹہ کے درمیان ہفتہ میں دو پروازیں چلاتی تھی لیکن مسافروں کی کم تعداد کی وجہ سے ان کو معطل کرنا پڑا۔ پی آئی اے نے یقین دہانی کرائی ہے کوئٹہ تا گوادر اور تربت پروازیں چلائی جائیں گی۔ سوات ایئر پورٹ کی بھی مرمت کی جا رہی ہے اور وہاں کیلئے بھی سیاحتی فلائیٹس چلائی جائیں گی، 2017ء میں پی آئی اے کا ریونیو 95 ارب 66 کروڑ، 2018ء میں 103 ارب 49 کروڑ اور 2019 ء میں 146 ارب 38 کروڑ 60 لاکھ روپے تھا،جبکہ 2017ء میں خسارے میں 29 ارب، 2018ء میں 32 ارب اور 2019ء میں 11 ارب 30 کروڑ روپے کی کمی ہوئی ہے۔ موجودہ حکومت کے دور میں پی آئی اے کے خسارے میں کمی اور آمدنی میں اضافہ ہوا ہے اور تمام اشاریئے مثبت ہیں۔بعدازاں وفاقی وزیر اعظم سواتی نے سینٹ کوبتایاکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت 50 لاکھ 10 ہزار مستحقین مالی امداد حاصل کر رہے ہیں، ملک بھر میں حقیقی مستحقین کے انتخاب کیلئے سروے جاری ہے جس کے بعد نئے سرے سے ا عد ا د و شمار وضع کئے جائیں گے، 5 اگست 2019ء کے بعد بھارت کو گلابی نمک کی برآمد پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ہر مستحق فرد کو سہ ماہی بنیاد پر پانچ ہزار روپے فراہم کئے جا رہے ہیں۔ 2010-11ء میں سروے کی بنیاد پر ان کا انتخاب کیا گیا تھا۔ زیادہ تر مستحق افراد بائیو میٹرک ویری فیکیشن سسٹم کے تحت رقوم وصول کرتے ہیں اور کچھ لوگوں کو منی آرڈر کے ذریعے بھی رقم دی جاتی ہے۔ بھارت سالانہ 12.8 ملین ٹن دنیا کو معدنی نمک برآمد کرتا ہے اور وہ دنیا میں غیر معیاری صنعتی نمک برآمد کرنیوالا ملک ہے جو زیادہ تر سوڈا ایش میں استعمال ہوتا ہے۔ دوسری طرف پاکستان نے دنیا میں 2018ء میں 52 ملین ڈالر مالیت کا تقریباً 3 لاکھ ٹن سے زائد معدنی نمک برآمد کیا اور بھارت کو 72 ہزار 631 ٹن نمک بر آ مد کیا گیا جس میں صنعتی نمک کی دونوں اقسام شامل ہیں جو سوڈا ایش اور گھریلو نمک میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اجلاس کے دور ان چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بے نظیر انکم سپو ر ٹ پروگرام کے تحت مالی امداد حاصل کرنے والے غیر مستحق افراد کی تفصیلات طلب کرلیں۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے ایوان کو بتایا 2017-18ء میں پاکستان بیت المال کیلئے 6 ارب کا بجٹ مختص کیا گیا۔ 5 ارب 90 کروڑ سے زائد خرچ ہوئے جبکہ 2018-19ء سے اب تک مجموعی طور پر5 ارب پاکستان بیت المال کیلئے مختص کئے گئے جن میں سے اب تک 4 ارب 48 کروڑ 69 لاکھ 63 ہزار روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔ حکومت چاہتی ہے معاشرے کے غریب ترین افراد کی مدد کی جائے اور انہیں خط غر بت سے نکا لا جائے۔ پاکستان بیت المال نے ملک بھر میں دارالاحساس کے نام سے39 یتیم خانے قائم کئے ہیں اور ہر یتیم خانے میں 100 یتیم بچوں کا اندراج کیا گیا ہے۔ ملک بھر میں 25 نئے دارالاحساس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جبکہ رواں مالی سال کے دوران 75 مزید دارالاحساس قائم کئے جائیں گے۔

وقفہ سوالات

مزید : صفحہ آخر