وزیراعظم کا ججز تعیناتی میں کردار نہیں تو ان کیخلاف انکوائری کا حکم کیسے دے سکتے ہیں؟ رضا ربانی

  وزیراعظم کا ججز تعیناتی میں کردار نہیں تو ان کیخلاف انکوائری کا حکم کیسے دے ...

  



اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی کونسل کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،وکیل سندھ بار کونسل رضا ربانی نے دلائل دیئے۔منگل کے روز جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 10رکنی فل کورٹ بنچ نے سماعت کی۔دوران سماعت سندھ بار کونسل رضا ربانی نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ریفرنس کی بد نیتی کا جوڈیشل کونسل جائزہ نہیں لے سکتی،ججز کیخلاف مواد اثاثہ جات ریکوری یونٹ نے اکٹھا کیا،ادارے اپنے طور پر مواد اکٹھا نہیں کر سکتے،اثاثہ جات یونٹ صرف وحید ڈوگر کی درخواست کو صدر کو بھیج سکتا تھا،اثاثہ جات ریکور ی یونٹ کا شکایت کی تصدیق کرے تو نیب طرف کی انکوائری ہوگی،اثاثہ جات ریکوری یونٹ نے ایف آئی اے،ایف بی آر اور آئی ایس آئی کو متحرک کرکے مواد اکٹھا کیا،ایف آئی اے میں ججز کیخلاف مواد جمع کرنے کیلئے خصوصی اجلاس ہوئے، ججز کی تعیناتی میں ایگزیکٹو اور صدر کا کوئی کردار نہیں، وزیراعظم کا ججز تعیناتی میں کردار نہیں تو جج کیخلاف انکوائری کا حکم کیسے دے سکتا ہے؟،وزیراعظم کی میں بھی بہت عزت کرتا ہوں، اگر بنیاد غیر قانونی ہو تو اس پر قائم کی گئی عمارت گر جاتی ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے ریمار کس دیئے کہ کیا ادارے ریفرنس دائر کرنے کے لیے مواد اکھٹا کر سکتے ہیں ۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ کے دلائل افتخار چوہدری فیصلہ کے بر عکس ہے،عدالتی فیصلے کے مطابق ججز کیخلاف شکایت کیساتھ مواد اکٹھا کیا جا سکتا ہے، شکایت کی تصدیق اور انکوائری میں بہت فرق ہے، کیا آپ کہنا چاہتے ہیں صدر تصدیق کے بغیر شکایت کونسل کو بھیج دے؟۔دوران سماعت جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک موقف یہ آیا کہ صدر کی اجازت سے ججز کیخلاف مواد جمع کیا جا سکتا ہے، دوسرا موقف آیا کہ جوڈیشل کونسل کی ہدایت پر مواد جمع ہوسکتا ہے، کیا حکومت صدر کو ریفرنس کیلئے نامکمل شکایت یا مواد بھجوائے گی؟،جن باریکیوں میں آپ جا رہے ہیں وہ اپنی جگہ اہم ہونگی، ججز کا احتساب مرکزی اور اہم نقطہ ہے، افتخار چوہدری کیس میں ریفرنس کے میرٹ پر کوئی بات نہیں ہوئی، افتخار چوہدری کیس میں بسنتی صدر پاکستان کی جانب سے تھی، سپریم کورٹ نے افتخار چوہدری کیس میں کئی اصول وضع کیے، جسٹس فائز عیسیٰ کیس میں بھی عدالت کچھ اصول وضع کرے گی، وزیراعظم کا عہدہ آئینی ہے، وزیراعظم حکومت کے سربراہ اور قائد ایوان ہیں، وزیراعظم بے اختیار ہوئے تو سارا نظام شتر بے مہار ہوجائے گا، وزیراعظم کا کوئی کردار نہ ہو تو نظام کیسے چلے گا؟،عدالت وزیراعظم کا بہت احترام کرتی ہے۔دوران سماعت رضا ربانی نے لاہور ہائیکورٹ کے سنگین غداری کیس فیصلے کا حوالہ بھی دیا۔انہوں نے کہا کہ اگر مقدمہ قانون کے برخلاف قائم کیا گیا ہو تو اس کی تمام کاروائی کو کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے، لاہور ہائیکورٹ نے اس حوالے سے ایک فیصلہ بھی دے رکھا ہے اس کا ذکر کرنا چاہوں گا، لاہور ہائیکورٹ نے پرویز مشرف سنگین غداری کیس میں مقدمے کی بنیاد غیر قانونی ہونے کی بنا پر تمام کارروائی کو کالعدم قرار دیا، بحیثیت خود اس فیصلے سے متفق نہیں ہوں، یہ ایک اچھی مثال نہیں ہے اور اس کو پیش کرنا بھی میں پسند نہیں کرتا، جو بھی کہا جائے یہ فیصلہ بہرحال موجود ہے، ججز کیخلاف حالیہ ریفرنسز بھی بدنیتی پر مبنی ہیں، اگر اس بات کی اجازت دی گئی تو فلڈ گیٹس کھل جائینگے۔جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ریفرنس کے مواد کی تصدیق صرف ایگزیکٹو ہی کرسکتا ہے، جوڈیشل کونسل میں شوکاز نوٹس کے بعد گواہان پیش ہونے ہیں۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ کیا جج کیخلاف مواد کا وزیراعظم ذریعہ ہوسکتا ہے، یہ تسلیم کرنا آپ کے اپنے دلائل کے منافی ہے۔وکیل سندھ بار کونسل نے کہا کہ جج کی شکایت کا ذریعہ وزیراعظم بھی ہوسکتا ہے، انکوائری کرنے کا اختیار جوڈیشل کونسل کا ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا وزیراعظم معلومات کی بنیاد پر ریفرنس دائر کرنے کے لیے مواد اکھٹا کرسکتا ہے، وزیراعظم معلومات صدر مملکت کے سامنے رکھیں گے، جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ کیا سپریم جوڈیشل کونسل انتظامیہ کی انکوائری کی پابند ہے؟،جس پر رضا ربانی نے کہا کہ میرا سوال یہ ہے کہ صدر مملکت، وزیراعظم ایسی کوئی انکوائری نہیں کرواسکتے، ایسی انکوائری غیر قانون ہوگی، ایسی غیر قانونی انکوائری کو صرف عدالت عظمی ہی ردی کی ٹوکری میں پھینک سکتی ہے، میری دلیل ہے کہ جج کے خلاف شکایت براہ راست سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوائی جائے، میں کل پندرہ منٹ میں اپنے دلائل مکمل کر لوں گا۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کل رشید اے رضوی اپنے دلائل کا آغاز کریں۔صدارتی ریفرنس کیخلاف جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف کی درخواست پر سماعت (آج) بروز بدھ تک کیلئے ملتوی کر دی گئی۔

قاضی فائز کیس

مزید : صفحہ آخر