فراڈ کے الزام میں بینک ملازم کو عمر قید اور 10کروڑ روپے جرمانہ

فراڈ کے الزام میں بینک ملازم کو عمر قید اور 10کروڑ روپے جرمانہ

  



کراچی (نمائندہ خصوصی) پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار فراڈ میں ملوث بینک ملازم کو عمر قید اور 10کروڑ روپے سے زائد جرمانہ ٹرائل کورٹ میں بھی برقرار، مجرم کو بینکنگ کورٹ نے سزا سنائی، ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی، اعلیٰ عدالیہ نے کیس دوبارہ ٹرائل کورٹ میں سماعت کا حکم جاری کیا۔ مجرم دوسری بار بھی سزا سے نہ بچ سکا۔ تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے بینکنگ سرکل نے مدعی شیراز خادم کی شکایت پر گجدھار عرف آنند کے خلاف اختیارات کا ناجائز استعمال، جعلسازی اور فراڈ کے الزامات پر مقدمہ الزام نمبر12/2016 درج کرکے تفتیش شروع کی۔ اس دوران ایم سی بی لیگل برانچ نے ایف آئی اے سے کوئی تعاون نہیں کیا۔ چنانچہ 181ملین روپے کے بینک فراڈ کیلئے ایف آئی اے لاء ایسوسی ایٹس کی خدمات حاصل کی گئیں۔ مجرم سے 40 لاکھ روپیہ نقدی برآمد کرلی گئی، جبکہ دس کروڑ 39لاکھ روپے برآمد نہ ہوسکے۔ مجرم کو ایف آئی اے بینکنگ کورٹ نے عمر قید اور 10 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا جس کے خلاف مجرم آنند نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی۔ اعلیٰ عدلیہ نے کیس دوبارہ شنوائی کے لیے ٹرائل کورٹ میں روانہ کردیا۔ دوسری بار جب بینک فراڈ کی سماعت شروع ہوئی مجرم نے ضمانت کے لیے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ سے رجوع کیا، تاہم سید اسرار علی ایڈوکیٹ،منصور قادر، اظفر نعمانی، محترمہ صنم جمیل، فیصل افتخار، تفتیشی افسر عبدالرؤف شیخ اور مدعی شیراز خادم کی کاوشوں اور محنت کی بدولت مجرم کو ریلیف نہ مل سکا اور بینکنگ کورٹ کی سزا ٹرائل کورٹ نے برقرار رکھی۔ واضح ہو کہ دوران سماعت مذکورہ کیس میں مسلم کمرشل بینک کی لیگل ٹیم نے ایف آئی اے کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعاون نہیں کیا۔ تفتیش کے دوران ایف آئی اے کو پرائیوٹ لاء فرم کی خدمات حاصل کرنا پڑیں۔ ایم سی بی بینک کے صدر کو لکھے گئے ایک خط میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ان کی لیگل ٹیم میں شامل افسران بینک فراڈ جیسے سنگین معاملات میں تفتیشی اداروں سے تعاون نہیں کرتے، بلکہ کیس خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ بینک کے ملازم شیراز خادم اور بزنس ہیڈ فیصل افتخار نے ذاتی دلچسپی لے کر اس فراڈ کیس کو حل کرنے میں پرائیویٹ لاء فرم اور ایف آئی اے کی تفتیشی ٹیم کے ساتھ مکمل تعاون کیا جس کے نتیجے میں برانچ آپریشنل منیجر کی گرفتاری اور سزا ممکن ہو پائی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر