وائیں سے بزدار تک

وائیں سے بزدار تک
 وائیں سے بزدار تک

  



پنجاب کے ایک سابق وزیر اعلیٰ غلام حیدر وائیں انتہائی شریف،ایماندار سیاستدان،مسلم لیگ کے محنتی کارکن مگر غریب انسان تھے۔نوے میں جب میاں نواز شریف وزیر اعظم بنے تو انہوں نے پنجاب میں اپنی جگہ کسی مضبوط سیاسی خاندان کے فرد کو اس خوف سے وزیر اعلی نہ بنایا کہ وہ انکی جگہ نہ لے لے اور یوں قرعہ وائیں صاحب کے نام نکل آیا۔ چودھری پرویز الٰہی،میاں منظور وٹو،سردار عارف نکئی۔رانا پھول محمد خان اور بڑے بڑے دوسرے سیاستدان دیکھتے ہی رہ گئے۔ وائیں صاحب ایک کمزور وزیر اعلیٰ تھے ان کے مخالفین انہیں کٹھ پتلی،اختیار بھی نہیں تھا اس لئے میرٹ کی آڑ میں کسی کا کام نہیں کرتے تھے، اقتدار کا سر چشمہ میاں شہباز شریف تھے،جو چاہتے ہو جاتا۔ میاں منظور وٹو سپیکر پنجاب اسمبلی تھے،انہوں نے وائیں صاحب کا تختہ الٹ دیا،ان ہاوس تبدیلی سے وزیر اعلیٰ بن گئے۔

پنجاب کے موجودہ وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار بارے وزیراعظم عمران خان کا فیصلہ آج بھی ایک معمہ ہے، جس وقت اس حوالے سے فیصلہ کیا گیا تھا تجربہ کار، ماہر، دیرینہ سیاستدانوں نے دانتوں میں انگلیاں دبا لی تھیں، عثمان بزدار کی شرافت اور اخلاص، ملک و قوم سے تعلق اپنی جگہ مگر سات کروڑ آبادی پر مشتمل صوبہ کی باگ ڈور سنبھالنا ان کے لئے ممکن نہ تھا، پنجاب کی سیاست میں ان کی جڑیں بھی زیادہ گہری نہ تھیں ان کا وژن بھی جنوبی پنجاب تک محدود تھا، وسطی اور شمالی پنجاب کے سیاسی خانوادوں سے ان کے مراسم بالکل نہیں تھے جنوبی پنجاب کے سیاسی خاندانوں اور سرداروں سے بھی ان کے تعلقات انتہائی محدود تھے، ڈیرہ غازی خان کی پسماندہ ترین تحصیل تونسہ کے نائب ناظم کو ذہنی طور پر پنجاب کے سیاسی حلقوں نے کیا قبول کرنا تھا خود تحریک انصاف میں ان کے حوالے سے خاصی مزاحمت تھی، وفاقی وزیر فواد چودھری کے بیانات سے اس مزاحمت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

وزیراعظم کی طرف سے اندھی حمائت نے بتدریج وزیراعلیٰ پنجاب کو خود مختار بنا دیا اور انہوں نے اتحادیوں کو کیا راضی رکھنا تھا خود تحریک انصاف کے ارکان بھی ان سے نالاں دکھائی دیتے ہیں، پنجاب میں تحریک انصاف کے 20 ارکان کی طرف سے بننے والا فارورڈ بلاک وفاقی حکومت کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے مگر وفاق نے اس طرف تاحال توجہ نہیں دی، فارورڈ بلاک کا آغاز کئی روز قبل فیصل آباد میں ہو چکا تھا جہاں سے تین ارکان قومی اور سات ارکان صوبائی اسمبلی نے علم بغاوت بلند کیا مگر پارٹی قیادت نے اس حوالے سے سوچ بچار نہ کی نتیجے میں باغی ارکان کی تعداد بڑھتی گئی اور 20 ارکان پنجاب اسمبلی نے تحریک انصاف فارورڈ بلاک کا اعلان کر دیا، پارٹی قیادت اب بھی اس حوالے سے خاموش ہے۔

پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت مسلم لیگ ق کے ارکان کی مرہون منت ہے، چودھری پرویز الٰہی نے بطور سپیکر ایک مضبوط، متحرک اور فعال اپوزیشن کو بہت ہی موثر انداز سے قابو کئے رکھا، مرکزی حکومت جب بھی کسی مشکل میں گرفتار ہوئی چودھری برادران نے فوری سرگرم ہو کر اس مشکل کا سامنا کر کے حکومت کی مشکلات میں کمی کرنے کی موثر کوشش کی مگر عثمان بزدار ق لیگ کو اس قدر احسانات کے باوجود راضی نہ رکھ سکے، اس حوالے سے پہلی آواز بہاولپور سے ق لیگی رکن قومی اسمبلی طارق بشیر چیمہ نے اٹھائی انہوں نے جہانگیر ترین کو حلقہ میں مداخلت کی زوردار آواز میں شکائت کی، طارق بشیر چیمہ کی شکائت پر چودھری شجاعت اور چودھری پرویز الٰہی نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کر کے انہیں اپنے تحفظات سے آگاہ کیا مگر ان کی شکایات کا ازالہ نہ کیا گیا، نتیجے میں ن لیگ نے ق لیگ کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے مرکز میں تعاون کی شرط پر پنجاب میں وزارت اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کو دینے کی پیش کش کر دی، ق لیگ کی قیادت نے حکومت کو بلیک میل کر کے مراعات لینے کے بجائے اب تک اس پیشکش کا جواب نہیں دیا لیکن اگر ان کی شکایات برقرار رہی اور ق لیگ نے کوئی اقدام کر ڈالا تو مرکز کے ساتھ پنجاب اور بلوچستان کی حکومتوں سے تحریک انصاف کو ہاتھ دھونا پڑیں گے۔

تحریک انصاف حکومت کی 16 ماہ کی کارکردگی پر ایک نگاہ ڈالی جائے تو پنجاب سیاسی ابتری کا شکار ہے، تاریخ گواہ ہے کہ پنجاب کو جس حکومت نے بہتر انداز سے چلایا مرکز اور دیگر صوبوں میں حکومت قائم کرنے میں اسے کوئی مشکل نہ ہو ئی مگر پنجاب کے وزیراعلیٰ اتحادی جماعتوں کے وزراء کو کیا لفٹ دیتے اپنی جماعت کے وزراء سے بھی ملنا پسند نہیں کرتے ان کی ساری دلچسپی جنوبی پنجاب کے ارکان، وزراء، عوامی وفود، سرداروں خاص طور پر ڈیرہ غازی خان تک محدود ہے۔ اس وجہ سے نہ صرف پنجاب حکومت کمزور ہو رہی ہے بلکہ مرکزی حکومت بھی متاثر ہے، پارٹی کے ارکان اسمبلی تحفظات کا شکار ہیں اور پارٹی کا رکن مایوس ہیں، عثمان بزدار کے آٹا بحران کے دوران رویئے سے ثابت ہوا کہ انہیں عوامی مسائل کا ادراک ہے نہ حل کرنے میں دلچسپی ہے کبھی اساتذہ ہڑتال پر ہوتے ہیں کبھی نابینا افراد دھرنا دیتے ہیں کبھی تندور مالکان روٹی کی قیمت میں اضافہ کے لئے کام بند کر دیتے ہیں، اشیاء ضرورت کی قیمت میں روز اضافہ جاری ہے مگر وزیراعلیٰ اب تک قیمتوں پر کنٹرول کرنے کے حوالے سے کوئی پالیسی وضع کر سکے نہ قیمتوں پر قابو پا سکے۔

دلچسپ امر یہ کہ وزیراعلیٰ تمام ذمہ داری بیورو کریسی پر ڈال کر خود کو بری الذمہ کر لیتے ہیں مگر بیورو کریسی پر بھی اعتماد نہیں کرتے، بیورو کریسی میں بھی ان کی جڑیں نہ ہونے کے برابر ہیں وہ اچھے، فرض شناس، محنتی، دیانتدار افسروں سے واقفیت ہی نہیں رکھتے مگر جن کرپٹ افسروں کو وزیراعظم نے ریاستی اور حکومتی امور سے الگ کیا ان سے چمٹے بیٹھے ہیں اور جن افسروں کو وزیراعظم نے ذمہ داری سونپی ان کے ساتھ چلنے پر آمادہ نہیں۔چیف سیکرٹری پنجاب میجر (ر) اعظم سلیمان خان اور آئی جی پنجاب شعیب دستگیر محنتی اور اپ رائٹ افسر ہیں، ان کے مشورے سے قانون کی عملداری قائم کی جائے تو جرائم کی شرح میں کمی اور امن و امان کا مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے مگر ان کو ضرورت یس سر ٹائپ افسروں کی ہے جن کا اپنا کوئی وڑن نہ ہو جو وزیراعلیٰ کو راضی کر کے پرکشش عہدوں پر براجمان رہنے کی خواہش میں جی سی جی سر کئے جاتے ہیں۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار شائد پنجاب کے جغرافیہ، جغرافیائی حالات، مختلف علاقوں کی ضروریات، شہروں میں امن و امان، دیہات میں زراعت کی حالت زار، صنعت و تجارت سیاسی ضروریات اور سیاست کی صورتحال سے کچھ بھی آگہی نہیں رکھتے، آٹا، چینی، گھی، دالیں، سبزی ہر چیز غریب شہری کی قوت خرید سے باہر ہو چکی ہے مگر وزیر اعلیٰ اور وزرا کی طرف سے سب ٹھیک ہے کا وردجاری ہے اب خطرہ بڑھنے لگا ہے اور سب ٹھیک ہے کی بازگشت کچھ ٹھیک نہیں ہے میں بدل سکتی ہے۔ اس لئے سیاسی تبدیلی، اتحادیوں کی ناراضی، پارٹی ارکان کی بغاوت، کارکنوں کے غصے اور عوام کے احتجاج سے قبل وزیر اعظم کو پنجاب کے بارے میں اہم اور فوری فیصلے کرنا ہوں گے ورنہ وائیں صاحب جیسا سیاسی انجام نظر آرہا ہے۔

مزید : رائے /کالم