سرجانی سے ناظم آباد تک عوام روزانہ ہزاروں ٹن مٹی کھاتے ہیں،کوکب اقبال

    سرجانی سے ناظم آباد تک عوام روزانہ ہزاروں ٹن مٹی کھاتے ہیں،کوکب اقبال

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر)سرجانی سے ناظم آباد تک روزانہ عوام آتے جاتے ہزاروں ٹن مٹی کھاتے ہیں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ترقیاتی کاموں کی وجہ سے سڑکوں پر جگہ جگہ بے شمار گھڑے پڑ گئے ہیں رہائشی علاقے کے مکین دھول مٹی کے اڑنے کی وجہ سے بد ترین زندگی گزارنے پر مجبور ہیں لوگ مٹی سے پیٹ بھررہے ہیں۔ جس سے ان کی صحت متاثر ہورہی ہے۔ یہ بات کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین کوکب اقبال نے کراچی میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے شہریوں کو دشواری پیش آنے کے حوالے سے کیپ کے آفس میں جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا پوری دنیا میں جہاں سڑکیں اور پل بنائے جاتے ہیں وہاں متبادل راستے بنائے جاتے ہیں تاکہ ان راستوں پر سفر کرنے والوں کو دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔مگر اس کے برعکس یہاں مہینے میں مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبے سالوں میں جاکر مکمل ہوتے ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کو اذیت ناک صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کوکب اقبال نے کہا کہ موٹر سائیکل سواروں اور کھلی گاڑیوں جس میں شیشے نصب نہ ہوں ان کے مسافروں کا اگر لیب ٹیسٹ کرایا جائے تو صرف دھول مٹی کے علاوہ کچھ نہ ملے گا۔ انہوں نے صوبائی وزراسمیت وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ اور گورنر سندھ عمران اسماعیل کو دعوت دی کہ وہ سرجانی ٹان سے ناظم آباد تک کا سفر موٹر سائیکل یا کھلی گاڑی میں ان کے ساتھ کریں۔ تب ان کو احساس ہوگا کہ کراچی کے شہری روزانہ کس طرح اپنے دفتروں اور دیگر کاموں پر ان روٹس پر آتے جاتے ہوں گے۔ کوکب اقبال نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جب تک ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے اگر متبادل روڈ نہیں بنائے جاتے تو کم از کم پرانی سڑکوں پر استرکاری کرکے گڑھوں کو بند کیا جائے تاکہ ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہوسکے اور روزانہ حادثات کی شرح میں کمی ہو۔ انہوں نے کہا کہ 5اسٹار چورنگی سے فیڈرل بی ایریا کو جانے والی سڑک مکمل طور پر تباہ و برباد ہوچکی ہے۔ سینکڑوں گھڑے پڑ گئے ہیں مگر ابتر صورت حال کے باوجود ابھی تک کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ محلے کی سڑکوں کی گزشتہ کئی سالوں سے استرکاری نہیں ہوئی جس کی وجہ سے نارتھ ناظم آباد کا پوش علاقہ گاں سے بد تر منظر پیش کررہا ہے جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر ہیں جس سے بیماریوں کی شرح حد درجہ تک بڑھ چکی ہے۔ پرائیویٹ اسکولوں کے پاس مستقل کچرا کنڈی بلاک بی میں قائم ہے جس کی شکایت وزیر اعظم پرٹول پر بھی کی جاچکی ہے مگر ابھی تک کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔کنزیومر ایسوسی ایشن کے چیئرمین کوکب اقبال نے کہا کہ شہریوں کی برداشت ختم ہورہی ہے۔ اس سے پہلے کہ حکومت کو سخت ترین احتجاج کا سامنا کرنا پڑے حکومت کم از کم فوری طور پر لوگوں کو ریلیف پہنچانے کے اقدامات کرے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وفاقی اور صوبائی حکومت اپنے ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کرتے ہوئے دھول مٹی سے لوگوں کو بچانے کے لیے پانی کا چھڑکا کرنے کے ساتھ گڑھوں کو بند کرکے استرکاری کرائے گی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر