آٹا بحران پہلی بار نہیں، لیکن رمضان کی بجائے جنوری میں آنا، غور و فکر کی بات ہے!

آٹا بحران پہلی بار نہیں، لیکن رمضان کی بجائے جنوری میں آنا، غور و فکر کی بات ...

  



لاہو رسے چودھری خادم حسین

ایسا پہلی بار نہیں ہوا، لیکن حیرت اس لئے ہے کہ اب یہ جنوری میں ہو گیا حالانکہ ہماری روائت تو یہ ہے کہ جب رمضان قریب آ رہے ہوں تو ہم مہنگائی کی ایک نئی لہر پیدا کرتے ہیں، اور دو تین بار جب آٹے کی قلت پیدا ہوئی تب بھی ماہ مبارک ہی کی آمد آمد تھی، لیکن اب کیا ہوا کہ یہ بحران جنوری میں آ گیا اور آٹا، آٹا کی آوازیں آنے لگیں۔ مہنگائی تو یوں بھی سرکاری پالیسیوں کے نتیجے میں بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے، لیکن آٹا 50روپے سے 70روپے (چکی آٹا) فی کلو ہو جائے گا یہ خواب و خیال میں بھی نہیں تھا، چکی مالکان نے تو عذر پیش کیاکہ وہ گندم بازار سے خرید رہے ہیں جو مہنگی ہے اس لئے آٹے کی قیمت بڑھانا لازم ہے لیکن سوال تو پیدا ہوتا ہے کہ رولر فلور ملز کا آٹا کہاں چلا گیا کہ اتنا شدید بحران سامنے آ گیا جو کراچی سے خیبر تک ہے اور پنجاب جیسے زرعی صوبے میں بھی صورت حال رمضانوں والی ہو گئی ہے۔ صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کے وزیر باتدبیر مخدوم خسرو بختیار کہتے ہیں کہ سپلائی میں تعطل اور گڑ بڑ ہونے سے ایسا ہوا ہے، پاسکو کے پاس گندم کے ذخائر موجود ہیں۔ دو تین روز میں یہ بحران ختم ہو جائے گا کہ کراچی اور سندھ کو گندم مہیا کر دی گئی جبکہ خیبرپختونخوا کو بھی پاسکو نے گندم جاری کر دی ہے۔

اس سب انتظام کے باوجود سیلز پوائنٹ بنائے گئے جہاں خود سرکار نے رولر فلور ملز والوں سے آٹے کے تھیلے بکوانا شروع کئے ان مقامات پر ٹرک کھڑے کئے جاتے اور لوگ قطار بنا اور شناختی کارڈ دکھا کر آٹے کا تھیلا سرکاری 805روپے 20کلو کے حساب سے خریدتے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ سین سابق وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کے دور جیسا ہے جو رمضان کی آمد پر قلت کے باعث نظر آتا تھا، لیکن یہاں اب دکھ رہا ہے، ٹرکوں کے ذریعے ترسیل کے باوجود نہ تو قیمت کم ہو رہی ہے اور نہ ہی قلت ختم ہوئی ہے، الٹا الزام در الزام کی دوڑ شروع ہو گئی تبدیلی سرکار کے وزراء کرام حسب روائت اور اپنے فلسفے کے مطابق سابق حکومتوں کو الزام دیتے چلے آ رہے ہیں۔ چکی مالکان نے رولر فلور ملز والوں پر الزام لگایا کہ انہوں نے سمگلنگ کی ہے۔ سرکار بھی کہتی ہے کہ فلور ملز والوں نے خورد برد کا مظاہرہ کیا، ایک الزام یہ بھی ہے کہ سرکاری طور پر فلور ملز کو کوٹہ میں دی جانے والی گندم مرغیوں کے فیڈ بنانے والی فیکٹریوں کے ہاتھوں فروخت کر دی گئی۔ اپوزیشن لیڈر شہبازشریف لندن سے گندم کے ذخائر کا حساب مانگ رہے ہیں، تاہم دلچسپ امر یہ ہے کہ پاکستان اور خصوصاً پنجاب کے پاس گزشتہ دو تین سال کی پیداوار کے حوالے سے فاضل گندم موجود تھی، گئے سیزن(سال) میں پیداوار بے وقت بارشوں سے متاثر ہوئی تو کمی ہوئی اس کے باوجود ذخائر بہت ہی تسلی بخش تھے، پھر دلچسپ فیصلہ ہوا، دس لاکھ ٹن گندم برآمد کردی گئی،یہ 30روپے فی کلو برآمد ہوئی اب قلت پیدا ہوئی تو تین لاکھ ٹن بیرونی ممالک سے خرید کر درآمد کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اور یہ گندم 60سے 70روپے فی کلو کے حساب سے درآمد ہو گی۔ اس کا حساب کون دے گا؟ اپوزیشن تو الزام لگا رہی ہے کہ ”اپنوں“ کے لئے سب کچھ کیا گیا۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں سمیت سب سٹیک ہولڈروں کو ساتھ لے کر ایک خصوصی اجلاس بلائے اور بحران کی حقیقی وجہ تلاش کرکے اسے دور کرے تاکہ یہ مسئلہ مستقل طور پر حل ہو، ہماری تجویز تو یہ ہو گی کہ چاروں صوبائی حکومتیں اور وفاقی حکومت مل کر ضرورت اور پیداوار کا تخمینہ لگائیں اور نئی فصل آنے سے پہلے یہ بھی طے کر لیں کہ کس کی ضرورت اور پیداوار کتنی اور کمی کب اور کہاں سے پوری ہو گی۔ موجودہ بحران کو بھی مل کر حل کریں، سمگلنگ رک نہیں سکے گی اس لئے بہتر ہے کہ افغانستان کو سرکاری طور پر ہر سال گندم یا آٹا برآمد کر دیا جایا کرے۔

پنجاب کے وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار جب سے وزیراعلیٰ بنے تب سے ان کی نااہلی ثابت کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اور اب تو تمام تر انتظامی مشینری تبدیل کرنے کے بعد بھی حالات پر کنٹرول نہ ہونے سے مزید باتیں ہو رہی ہیں، تاہم جو انتظامی اہل کار اب صوبائی وزیر اعلیٰ کو ملے وہ مسلم لیگ (ن) دور کے تجربہ کار ہیں اور اسی لئے سیلز پوائنٹ بھی بن گئے اور فلور ملز اور چکی مالکان سے بھی بات ہو رہی ہے۔ بہرحال انتظامیہ کا کمال یہ ہوگا کہ وہ نہ صرف رولر فلور ملز کے آٹے کی سپلائی پوری کرے بلکہ چکی مالکان کو بھی قیمت کم کرنے پر مجبور کر دے، ویسے تو چینی جو 52روپے سے 75روپے فی کلو ہو گئی تھی وہ مزید مہنگی ہونے جا رہی ہے اس کا پہلے سے ہی انتظام سوچ لیں۔ اس تحریر کے پریس تک جانے کی اطلاع کے مطاب چینی مزید پانچ روپے فی کلو مہنگی ہو گئی۔اب80روپے فی کلو بک رہی ہے۔

اطلاعات یہ بھی ہیں کہ اتحادیوں میں سے مسلم لیگ (ق) بھی ناراض تو ہے تاہم حکومت سے علیحدگی یا سردار عثمان بزدار کی تبدیلی والے مسئلہ میں شامل نہیں۔ اگر اسے اقتدار میں حصہ مل جائے۔ انتظامی امور میں ففٹی ففٹی ہو اور چودھری پرویز الٰہی کی خدمات سے بھی استفادہ کیا جائے تو پھر امکان یہی ہے کہ ”تعلقات خوشگوار“ ہوں گے، ورنہ فارورڈ بلاک اور پنجاب میں تبدیلی کی بات ہوتی رہے گی۔ تاحال وزیراعظم سردار عثمان بزدار کے ساتھ کھڑے ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1