حکومت کو خطرہ باہر سے کم داخلی طور پر زیادہ، مسلم لیگ(ن)، پیپلزپارٹی اب لاکھ بحال کرنے میں مصروف ہیں

حکومت کو خطرہ باہر سے کم داخلی طور پر زیادہ، مسلم لیگ(ن)، پیپلزپارٹی اب لاکھ ...

  



پی ٹی آئی کی حکومت کو باہر سے شایداتنے خطرات کا سامنا نہیں جتنا اسے داخلی خطرات اور چیلنجز کا ہے۔ہر روز ایک نیا بحران جنم لیتا ہے۔ ایک کے بعد دوسرا، لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ ستم ظریفیوں کا شکار اپوزیشن میں شاید اتنا دم نہیں کہ حکومت کے لئے کوئی بڑا خطرہ کھڑا کر سکے۔ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی مقتدر حلقوں کے ساتھ محاذ آرائی کے بعد اب رفوگری میں مصروف ہیں۔ان دونوں جماعتوں کی کوشش ہے کہ پاکستان کی پاور پالیٹکس میں اپنی جگہ دوبارہ بنائیں۔دونوں جماعتوں کی قیادت کی توجہ اپنے اوسان بحال کرنے اور اپنی سیاسی قوت کو مجتمع کرنے پر لگی ہوئی ہے،اس لئے اپوزیشن میں بغیر کسی ”آشیر باد“ کے اتنی سکت نہیں کہ حکومت کے لئے کوئی بڑا خطرہ بن سکیں،لیکن بحرحال جب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کوئی کمزور گیند کرتی ہے تو لامحالہ اپوزیشن اس پر چوکا چھکا لگانے سے نہیں چوکتی۔دلچسپ امر یہ ہے کہ حکومت اپوزیشن کو ایسے مواقع فراخدلی کے ساتھ فراہم کر رہی ہے، خواہ وفاقی وزیر فیصل واڈا کی جانب سے ایک ٹاک شوک میں بوٹ لانے کا مشکوک معاملہ ہو یا کچھ اور،تاہم دارالحکومت میں ”بوٹ“ کے اس ایشو کو محض اس نظر سے نہیں دیکھا جا رہا کہ موصوف وزیر نے اپوزیشن کو نیچا دکھانے کی غرض سے مقتدر حلقوں کے ایک نادان دوست کے طور پر حرکت کی، بعض اپوزیشن کے حلقے اس ضمن میں ایک پوری سازشی تھیوری گھڑنے سے نہیں چوکتے اور اس کی کڑیاں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملہ سے جوڑتے ہیں کہ کس طرح حکومت نے اس ضمن میں نوٹیفکیشن کے اجرا میں قانونی تقاضوں کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا، جس کی بنا پر چائے کی پیالی میں بے جا طوفان اٹھا۔ اس طرح وفاقی وزراء کے بیانات باہم متصادم ہوتے ہیں۔ بعض اوقات تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کچھ وفاقی وزراء اپوزیشن کے بجائے اپنے ساتھی وزراء کو نیچا دکھانے پر تُلے ہوئے ہیں۔شاید وزیراعظم عمران خان حکومت کی اپنی کابینہ پر گرفت کمزور ہے، حکومت کی عوام کے لئے پالیسیاں اچھی ہیں یا بُری، لیکن ایک بات واضح ہے کہ بعض وزراء کے غیر سنجیدہ رویے اور بعض پالیسیوں کے اجراء اور نفاذ میں حکومتی زعماء میں تال میل کا فقدان دیکھنے میں آتا ہے،جس کی بنا پر بہت سی اچھی پالیسیاں بھی عوام میں اُجاگر نہیں ہو پا رہی ہیں،خلاصہ یہ ہے کہ دارالحکومت ایک موثر طرزِ حکمرانی سے مناظر دیکھنے سے عاری ہے، بالخصوص وفاقی زیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جو موجودہ سیٹ اَپ میں سیاسی لحاظ سے ایک اہم شخصیت کے طور پر جانے جا رہے ہیں، ان کے بیانات بعض اوقات بظاہر حکومتی لائن سے ہٹ کر نظر آتے ہیں اور اکثر پیشتر کسی سیاسی تنازعہ کا بھی سبب بنتے ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی آشیر باد سے ہی ایسے بیانات داغتے ہیں۔حال ہی میں انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے اپنے صوبائی وزیراعلیٰ اور وزرا کے حوالے سے ایسے بیانات دیئے ہیں،بہت سے حلقے کھرا سچ قرار دے رہے ہیں، لیکن پاکستان کی سیاست کے زمینی حقائق کے خلاف ہیں۔ پاور پالیٹکس کے اس کھیل میں کھرا سچ بولنا معنی خیز تو ہوتا ہی ہے،لیکن ساتھ ساتھ ممکنہ تبدیلی یا نئی صف بندی کا اشارہ بھی ہوتا ہے،کیونکہ دارالحکومت میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ سب اچھا نہیں ہے۔ ایک طرف حکومتی وزراء میں باہم مسابقت،دوسری جانب حکومت کے اتحادی یکایک ہوا دینے لگے ہیں۔دلچسپ امر یہ ہے کہ ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ق) کے بارے میں عمومی تاثر یہی ہے کہ یہ دونوں جماعتیں کنگز پارٹیاں ہیں اور ہر وقت ماننے کے لئے آمادہ ہوتی ہیں، بالخصوص یہ ناراض ہی اِس لئے ہوتی ہیں کہ انہیں منایا جائے،لیکن اس بار انہیں منانے میں خاصی دِقت پیش آ رہی ہے اور تاحال ماننے پر آمادہ نظر نہیں آ رہیں،ان حالات میں اگر ایک طرف بجلی اور گیس کی قیمتیں پھر سے بڑھانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ ملک جو گندم کے لحاظ سے نہ صرف خود کفیل ہے،بلکہ اپنی ضرورت سے فاضل گندم پیدا کرتا ہے،وہاں آٹے کا بحران ایک سنجیدہ،بلکہ سنگین صورت حال اختیار کرتا نظر آ رہا ہے،جبکہ چینی بحران جنم لے چکا ہے،ایک کے بعد دوسرا بحران۔ حکومت کے پاس ان سوالات کا کوئی جواب نظر یہی آتا کہ ملک میں آٹے اور چینی کے ضرورت سے زیادہ ذخائر ہونے کے باوجود کیوں یہ بحران پیدا ہو رہا ہے،پہلے چینی کو ضرورت سے زیادہ قرار دیتے ہوئے اسے ایکسپورٹ کیا گیا اور جب اسد عمر بطور وفاقی وزیر خزانہ چینی کی ایکسپورٹ کے آڑے آئے تو اُنہیں ہٹا دیا گیا تھا،اسی طرح گندم کو بھی فالتو قرار دیتے ہوئے ایکسپورٹ کر دیا گیا،جبکہ گندم اور آٹے کی افغانستان سمگلنگ کی اطلاعات بھی زیر گردش ہیں۔یہ تمام امور طرزِ حکمرانی سے متعلق ہیں۔ راولپنڈی میں نان بائی مظاہرے کر رہے ہیں، کاروباری اور صنعتی طبقات بہرحال پریشان نظر آ رہے ہیں، ملک میں معاشی سرگرمیاں مسلسل سست روی کا شکار ہیں۔انڈسٹری کے لئے بھی بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ بے روزگاری میں خوفناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے، مہنگائی کا جن قابو سے باہر ہے، اس سارے تناظر میں اگر کوئی قیاس آرائی بھی کر رہا ہے کہ اپوزیشن رہنما شہباز شریف لندن پلان کی نوک پلک سنوار کر رہے ہیں،جس کے تحت ان ہاؤس تبدیلی کے کسی منصوبہ میں رنگ بھرا جا رہا ہے یا پھر نئے عام انتخابات کا راستہ ہموار کیا جا رہا ہے تو معروضی سیاسی حالات کے پیش ِ نظر اگر حکومت موثر طرزِ حکمرانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کو ریلیف دینے کی پالیسیوں پر گامزن نہ ہوئی تو جلد بدیر یہ قیاس آرائیاں زور پکڑنے لگیں گی اور بالآخر حقیقت کا روپ بھی دھار سکتی ہیں۔اگرچہ سوموار کو وزیراعظم عمران خان نے تاجروں اور صنعتکاروں کے وفود سے تین گھنٹہ پر محیط ملاقات میں صرف انہیں ریلیف دینے کے بعض اقدامات کا اعلان کیا ہے،بلکہ معیشت کی بہتری پر مسرت کا بھی اظہار کیا،جس کے بعد وہ اگلے روز ورلڈ اکنامک عوام میں شرکت کے لئے ڈیوس روانہ ہو گئے۔وزیراعظم عمران خان ڈیوس میں ورلڈ اکنامک فورم کے حاشیہ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقات کر رہے ہیں۔اب دیکھنا ہے یہ ملاقاتیں کیا رنگ لاتی ہیں، بالخصوص وزیراعظم عمران اور صدر ٹرمپ کی ملاقات ہمیشہ دلچسپ ہوتی ہے،جبکہ وزیراعظم کے ڈیوس روانہ ہونے سے قبل امریکی نائب وزیر خارجہ ایلس ایلز کا دورہ اسلام آباد بھی معنی خیز تھا۔ ایک طرف دوحا میں امریکہ اور طالبان کے مابین مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے،جبکہ ایلس ویلز سی پیک کی مخالفت کے لحاظ سے بھی شہرت رکھتی ہیں۔اس دورے کے اثرات بھی آئندہ آنے والے دِنوں میں پاکستان کے داخلی اور خارجی محاذوں پر مرتب ہوتے ہوئے نظر آ سکتے ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1