پنجاب سے آٹے کی خیبرترسیل پر پابندی کا خاتمہ خوش آئند

پنجاب سے آٹے کی خیبرترسیل پر پابندی کا خاتمہ خوش آئند

  



ملک کے دیگر علاقوں کی طرح خیبرپختونخوا میں بھی آٹے کے بحران اور قلت کی بازگشت سنائی دے رہی ہے، دس بارہ روپے فی کلو تک اضافے کے ساتھ ساتھ رسد میں بھی کمی کا سامنا ہے جس سے شہری سخت کرب اور پریشانی میں مبتلا ہیں، گندم کی سرکاری خریداری اور تقسیم میں غیر دانشمندانہ اقدام سے اس بحران نے سر اٹھایا ہے اور آٹے جیسی بنیادی ضرورت عوام کی دسترس سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ پنجاب سے آٹے کی فراہمی میں رکاوٹ نے بھی اہل خیبر کو اس مصیبت سے دو چار کیا، اگرچہ صوبائی حکومت اس بات سے ہی انکاری ہے کہ یہاں آٹے کے کسی بحران کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود صوبائی دارالحکومت سمیت بعض مقامات پر شہریوں کو مقررہ نرخ پر آٹے کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ جب ٹماٹرمہنگے ہوئے تھے تو صوبائی وزیر اطلاعات برادرم شوکت یوسفزئی نے متبادل تجویز پیش کی تھی کہ شہری ہنڈیا میں ٹماٹر کے بجائے دہی استعمال کیا کریں، اب آٹے کے بحران نے سر اٹھایا ہے تو وزیر موصوف نے مشورہ دیا ہے کہ شہری فائن آٹے کا استعمال ترک کر دیں کیونکہ اس سے کینسر پھیلنے کے خدشات ہیں جبکہ سرخ آٹے سے پیٹ کی بیماریاں نہیں لگتیں۔ان کا کہنا ہے کہ خیبر کے نانبائی پنجاب کے فائن آٹے پر زور دے رہے ہیں، پنجاب کا فائن آٹا ہی کیوں؟ اس منطق کی سمجھ نہیں آرہی، خیبرپختوتخوا کا فائن آٹا ہم سبسڈائز ریٹ پر دے رہے ہیں، پنجاب کا فائن آٹا مہنگا ہے وہ ہم سستا نہیں کرسکتے۔ پنجاب نے آٹے کی ترسیل پر جو پابندی عائد کی تھی۔وزیراعلی محمود خان کی کوششوں سے وہ پابندی ختم ہو گئی ہے، ہم مصنوعی بحران پیدا نہیں ہونے دیں گے ملک میں وافر مقدار میں گندم موجود ہے اور پنجاب نے آٹے کی ترسیل پر پابندی ہٹا دی جس کے بعد آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا بھی کوئی جواز نہیں۔ نانبائیوں سے مذاکرات ہو چکے ہیں وہ بھی ہڑتال نہیں کریں گے۔محترم وزیر صاحب کا اندازہ غلط ہوا، سوموار کو پشاور میں ہڑتال ہوئی اگلے روز پورے خیبر میں کر دی گئی۔ لوگ روٹی کے لئے مارے مارے پھرتے ہیں۔ ہمارے صوبے کی گندم کی ضروریات سالانہ 46 لاکھ میٹرک ٹن ہے جس میں سے گیارہ لاکھ ٹن مقامی پیداوار ہے جبکہ باقی ماندہ گندم پاسکو اور پنجاب کی اوپن مارکیٹ سے خریدی جاتی ہے انہوں نے کہا کہ صوبہ صرف چالیس پرسنٹ ضروریات پوری کرتا ہے باقی ماندہ آٹا پنجاب کی اوپن مارکیٹ سے آتا ہے۔

صوبے میں برقی رو کی بلا رکاوٹ فراہمی اور بجلی چوری کے معاملے میں بھی طویل عرصے سے شکایات سننے میں آ رہی تھیں جس کے بعد صوبائی حکومت نے سرگرمی دکھانا شروع کر دی ہے اور وزیراعلیٰ محمود خان نے صوبے بھر بشمول ضم شدہ قبائلی اضلاع میں بجلی کی ترسیل، انفراسٹرکچر، پیسکو نظام کی اپ گریڈیشن، کنڈا کلچرو بجلی چوری کے خاتمے اور بجلی ٹرانسفرمرز کی اپ گریڈیشن سمیت دیگر معاملات مزید بہتر کرنے کی ہدایت کی ہے اور پیسکو حکام سے کہا ہے کہ متعلقہ علاقوں کے منتخب اراکین کے ساتھ مل بیٹھ کر بجلی کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں ۔ اس سلسلے میں میں فوری طور پر پشاور سرکل اور ملحقہ علاقوں کیلئے بجلی کے پورے نظام کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔پشاور شہر کے تمام فیڈرز کی گرمیوں سے پہلے پہلے کلیئرنس کی جائے گی تاکہ لوڈ شیڈنگ کے مسئلے پر پہلے سے ہی قابو پا لیا جائے۔اس حوالے سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں تحریک انصاف کے مرکز ی رہنما جہانگیرخان ترین، وفاقی وزیر برائے توانائی عمرایوب خان، وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے توانائی حمایت مایار، وفاقی سیکرٹری برائے توانائی، سی ای او پیسکو، سی ای او ٹیسکو و دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

عوام کو سستی اور تیز رفتار سفری سہولیات کی فراہمی کے لئے شروع کیا گیا بی آر ٹی منصوبہ صوبائی حکومت کے لئے بہت مشکلات پیدا کر رہا ہے، ایک طرف تو اپوزیشن اس پر بہت شور شرابہ کر رہی ہے تو دوسری جانب عوامی تنقید کی توپوں کا بھی سامنا ہے۔ پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے اس منصوبے کی انکوائری کے لئے 45روز کی ڈیڈ لائن پیر20جنوری کو ختم ہو گئی، پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ نے 2دسمبر2019کو پشاور بی آر ٹی منصوبے پر ایف آئی اے کو45روز کے اندر انکوائری مکمل کرکے رپورٹ رجسٹرار کے پاس جمع کرانے کے احکامات جاری کئے تھے۔ اس حوالے سے ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ پشاور آفس کو تحریری حکم نامہ 5دسمبر کو موصول ہوا جس کے بعد انکوائری کا آغاز ہواتاہم تاحال انکوائری مکمل نہیں ہو سکی۔ صوبائی حکومت اور پی ڈی اے پہلے ہی پشاورہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرچکی ہے لیکن ابھی تک مقدمے کی کوئی تاریخ مقر رنہیں ہوئی۔ بی آر ٹی کے حوالے سے اوپر تلے سامنے آنے والی شکایات کے بعد صوبائی حکومت نے انتظامی امور کے ماہر افسر سید ظفر علی شاہ کو پی ڈی اے کی سربراہی کا اضافی چارج دیا تھا جن کی شبانہ روز کاوشوں سے معاملات کچھ بہتر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ پی ڈی اے حکام کے مطابق پراجیکٹ کے لئے مروجہ طریقہ کار اپنایا گیا جس کے لئے پری فیزیبلٹی، فزیبلٹی سٹڈی، ابتدائی انجینئرنگ ڈیزائن اور پھر تفصیلی ڈیزائن تیار کیا گیا۔ پشاور بی آر ٹی منصوبے کی فی کلو میٹر لاگت 1.04ارب روپے بنتی ہے اس لئے یہ کہنا غلط ہو گا کہ منصوبہ کسی تیاری کے بغیر شروع کیا گیا۔پشاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی ہائی کورٹ کی جانب سے اٹھائے جانے والے تمام نکات کا تفصیلی جواب متعلقہ دستاویزات کے ہمراہ ایف آئی اے کو بھجوا چکی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی حکومت اس سفری منصوبے کی خامیاں اور انتظامی کمزوریوں کا ازالہ کر کے بی آر ٹی کو جلد از جلد مکمل کروائے کیونکہ تاخیر کے ساتھ ساتھ اخراجات میں اضافہ خود حکومت کی فیور میں نہیں۔

مزید : ایڈیشن 1