سی پیک منصوبہ پاکستان کی ترقی کیلئے سنگ میل ثابت ہو گا: لی بیجان

سی پیک منصوبہ پاکستان کی ترقی کیلئے سنگ میل ثابت ہو گا: لی بیجان

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر) سی پیک منصوبہ پاکستان کی ترقی کیلئے سنگ میل ثابت ہوگا۔ اس سے یہاں آنے والی خوشحالی کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی، اور اس کی راہ میں آنے والی تمام رکاوٹیں دور ہوجائیں گی، ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اس کو ناکام بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، اس سلسلے میں میڈیا کو بھی اپنا کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہارچین کے قونصل جنرل لی بی جیان(Mr. Li. Bijian) نے کراچی ایڈیٹر کلب کے پروگرام میٹ دی ایڈیٹر کے موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر کلب کے عہدیدار مبشر میر، منظر نقوی نے بھی خطاب کیا۔ اس کے علاوہ کرنل (ر) مختار بٹ، ابن اسد، مختار عاقل، فضاء شکیل، حسینہ جتوئی، آغا مسعود، نعیم الدین، قاضی اسد عابد، حبیب خان غوری، جمیل خان غوری بھی شرکت کی۔ چینی قونصل جنرل نے کہا کہ سی پیک ایک ایسا پروجیکٹ ہے جو دنیا میں شاید ہی کسی نے شروع کیا ہو۔ یہ62بلین ڈالرز کا منصوبہ ہے جس کے ذریعے انفراسٹرکچر اس علاقے میں ڈیویلپ کیا جائے گا۔ کچھ لوگ اس منصوبے سے خوش نہیں ہیں اور وہ اس کی مسلسل مخالفت کررہے ہیں، اس کے لیے پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس کا جواب میڈیا کے ذریعے دے اور پوری دنیا کو بتائے کہ یہ منصوبہ پاکستان کیلئے کتنی اہمیت کا حامل ہے اور اس کے کوئی نقصانات نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ کو بتاؤں کہ جب ساؤتھ امریکہ میں پانامہ کینال تعمیر ہوئی تھی اس منصوبے کے لیے اس وقت امریکہ نے 374 ملین ڈالر دیئے تھے، اس وقت پانامہ کا جی ڈی پی 60% تھا۔ پاکستان کی مناسبت سے یہ بہت بڑی رقم ہے، جو لوگ تنقید کررہے ہیں، میں یہی کہوں گا وہ ٹھیک طریقے سے اس منصوبے کے بارے میں آگاہ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام بخوبی سمجھتے ہیں کہ اس منصوبے سے کئی ممالک استفادہ حاصل کریں گے اور منصوبہ دنیا کے اہم ترین منصوبوں میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین گوادر میں 3ہزار میگا واٹ کا پاور پروجیکٹ شروع کررہا ہے جس سے توانائی کی قلت کو ختم کرنے کا موقع ملے گا۔ دوسرا منصوبہ یہ ہے کہ سمندری پانی کو میٹھا کرنے کیلئے پلانٹ لگایا جارہا ہے جس سے اس علاقے میں پانی کی قلت دور ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ گوادر پاکستان کا ایک اہم جز ہے، ہم یہاں کے نوجوانوں کو فنی تربیت دینے کیلئے ایک بڑا انسٹیٹیوٹ بھی قائم کررہے ہیں، تاکہ یہاں کا نوجوان تربیت یافتہ ہو کر علاقے کی ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے سکے اور ان کو انہی کے علاقے میں روزگار مہیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ مزید جو منصوبے اس علاقے میں شروع ہوئے ہیں، یہ تربیت یافتہ نوجوان اپنا کردار ادا کرسکیں گے۔ جب اس علاقے میں خوشحالی آئے گی تو اس کے اثرات ملک کی معیشت پر بھی مثبت نظر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایک پروپیگنڈہ یہ کیا جارہا ہے کہ اس سے ماحولیاتی آلودگی کا خطرہ ہے، انہوں نے صحافیوں کو گوادر اور پورٹ قاسم کے دورے کی پیشکش کی جہاں 3000میگا واٹ بجلی بغیر کسی آلودگی کے فراہم کی جارہی ہے۔ اور آپ اس سے اندازہ لگاسکیں گے کہ یہ منفی پروپیگنڈہ ہے۔ جو لوگ سی پیک منصوبے کی مخالفت کررہے ہیں،وہ نہیں چاہتے کہ پاکستانی معاشی طور پر مستحکم ہو۔ انہوں نے کہا کہ جب اس علاقے میں بجلی کی پیداوار ہوگی تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہاں کس قدر صنعتیں کام کریں گی، جس سے خوشحالی کے نئے سفر کا آغاز ہوگا اور سی پیک اس علاقے کی قسمت بدل دے گا اور غربت کا خاتمہ ہوگا۔ اپنے خطاب میں چینی قونصل جنرل نے سی پیک منصوبے سے ہونے والی علاقائی ترقی اور رابطہ کیلئے حیرت انگیزپروگرام”بیلٹ اینڈ روڈ“ پر تفصیلی روشنی ڈالی۔قبل ازیں تقریب سے اے پی این ایس کے سیکریٹری جنرل سید سرمد علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک چائنا تعلقات تاریخی حیثیت رکھتے ہیں اور ان میں ہمیشہ اضافہ ہوتا رہتا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ چین نے ہمیشہ ہمارے اچھے برے وقت میں مدد کی ہے اور ایک اچھے دوست کا کردار ہمیشہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنگل لارجسٹ انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ کی ہے جو کہ پورے خطے میں اہمیت کی حامل ہے، اور یہ سی پیک منصوبہ بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس منصوبے سے پاکستای معیشت کو فائدہ پہنچے گا جس کا اندازہ لگانا مشکل ہے، میں نے متعدد بار چین کا دورہ کیا اور اس ملک کی ترقی کو انتہائی قریب سے دیکھا ہے۔ چین نے پوری دنیا میں اپنی ترقی کا لوہا منوایا ہے۔ اس منصوبے سے دونوں ممالک کے میڈیا کے درمیان رابطے بڑھیں گے، دونوں ممالک کی ثقافتوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملے گا، انہوں نے مزید کہا کہ کچھ لوگوں کی جانب سے اس منصوبے پر ابہام پیدا کیا جارہا ہے جو کہ مناسب نہیں ہے، منصوبے کو نقصان پہنچان ارض پاک کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ کلب کے صدر مبشر میر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا پڑوسی ملک چین اس وقت خطے میں ایک اہم رول ادا کررہا ہے،جو وقت کا کا تقاضہ ہے، ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمارا بہترین دوست، بہترین ہمسایہ ہے۔ اور اس کی دوستی ہمالیہ کی بلندیوں سے زیادہ ہے۔ سی پیک کا پہلا فیز مکمل ہوچکا ہے اور اب ہم الحمد للہ دوسرے فیز میں داخل ہوچکے ہیں۔ گواردر پورٹ تیزی سے تکمیل کے مراحل میں ہے۔ پاکستان کی عوام چین کی اس لازوال دوستی کو کبھی فراموش نہیں کرسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی ایڈیٹرز کلب نے چین کی کمیونسٹ پارٹی کی 97ویں سالگرہ کراچی میں منائی اور اس سلسلے میں ایک سیمینار کا انعقاد بھی کیا تھا۔ ہمارا کلب اکثرواقات مختلف تقاریب کا انعقاد کرتا رہتا ہے۔ 2017 میں صحافی ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جان بسے سی پیک منصوبے پر ایک پروگرام کراچی کے مقامی ہوٹل میں منعقد کیا گیا تھا، جس میں بڑی تعداد میں متعلقہ لوگوں نے شرکت کی۔ کلب کے سیکریٹری جنرل منظر نقوی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے چین کے سفر کے بعد دو کتابیں تحریر کی ہیں، اور سی پیک منصوبے پر کالم بھی لکھتا رہا ہوں۔ مجھے قوی امید ہے کہ اس منصوبے پر تنقید کرنے والے جب پاکستان معیشت پر اس کے اثرات کو نمایاں ہوتا ہوا دیکھیں گے تو وقت ان کو خاموش کردے گا۔ میں نے چین کی بڑھتی ہوئی ترقی کا راز ان کے آپسی اتحاد، لگن اور سخت محنت میں دیکھا ہے۔ آخر میں کلب کے نائب صدر کرنل (ر) مختار عاقل نے معزز مہمان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کو سندھ کا روایتی تحفہ اجرک اور سندھی ٹوپی پیش کی۔ اس موقع پر چینی قونصل جنرل نے مختار عاقل کی سالگرہ کی مبارکباد پیش کی۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -