سکیورٹی کی فکر نہ کریں کرکٹرز کو کھیل پر متوجہ رہنا چاہئے؛نظم الحسن

  سکیورٹی کی فکر نہ کریں کرکٹرز کو کھیل پر متوجہ رہنا چاہئے؛نظم الحسن

  



ڈھاکا(یواین پی)بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کے صدر نظم الحسن نے اپنے کھلاڑیوں کو سیکیورٹی کی فکر سے آزاد ہو کر کھیل پر متوجہ رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے پلیئرز کے ساتھ حفاظتی انتظامات پر زیادہ بات چیت نہیں کرنا چاہتے جن پر واضح کردیا ہے کہ وہ اس بارے میں سوچنے کے بجائے اپنی کارکردگی پر نظر رکھیں جو متاثر ہو سکتی ہے،بنگلہ دیشی اسکواڈ کے پاکستان پہنچنے سے ایک روز قبل نیشنل سیکیورٹی انٹیلی جنس کے حکام لاہور پہنچ کرپورے دورے میں ٹیم کے ساتھ رہیں گے۔گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو میں نظم الحسن کا شیر بنگلہ نیشنل اسٹیڈیم کے دورے پر کہنا تھا کہ فی الحال کھلاڑیوں کے درمیان کھیل سے کہیں زیادہ سیکیورٹی کے پیمانوں پر بات چیت ہو رہی ہے لہٰذا انہوں نے ٹیم انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ کھلاڑیوں کو سیکیورٹی سے متعلق یقین دہانی کرائیں کیونکہ وہ خود ذاتی طور پر حفاظتی انتظامات کے متعلق زیادہ بات نہیں کرنا چاہتے۔ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ان کی پلیئرز سے تھوڑی سی بات ہوئی ہے جس کے دوران انہیں بتادیا گیا ہے کہ وہ حفاظتی انتظامات کی فکر نہ کریں کیونکہ وہ اس بارے میں سوچتے رہے تو اس سے ان کا کھیل متاثر ہو سکتا ہے۔

   

نظم الحسن کا کہنا تھا کہ کرکٹ ایک سخت کھیل ہے جس میں ذہن لگائے بغیر اچھی کارکردگی ممکن نہیں ہوتی اور ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ تو کافی کٹھن ہوتا ہے لہٰذا پلیئرز کو سمجھا دیا ہے کہ وہ پرسکون رہیں گے تو انشااللہ سب ٹھیک ہو جائے گا کیونکہ وہ بھی ٹیم کے ساتھ رہیں گے اور کھانا پینا بھی ساتھ ہی ہوگا لہٰذا انہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔نظم الحسن کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیشی اسکواڈ کے پاکستان پہنچنے سے ایک دن پہلے نیشنل سیکیورٹی انٹیلی جنس کے حکام لاہور پہنچ کر حفاظتی انتظامات سنبھال لیں گے اور پورے دورے میں ٹیم کے ساتھ رہیں گے جو کہ ایک وقت میں ایک ہفتے سے زائد مدت پر مشتمل نہیں ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیشی سیکیورٹی حکام پہلے سے پاکستان پہنچ کر تمام حفاظتی انتظامات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے لہٰذا دورے کا پہلا مرحلہ اس اعتبار سے کافی اہم ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا سیکیورٹی پلان دیکھ چکے ہیں جس میں مزید کچھ کرنے کی گنجائش نہیں لیکن اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ منفی واقعات اب کہیں بھی ہو سکتے ہیں لیکن ان کیلئے صورتحال مختلف اس طرح سے ہے کہ یہ ایک باہمی سیریز ہے لیکن چونکہ ٹیسٹ میچز آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کے سلسلے میں ہیں تو ان کیلئے پاکستان کا سفر کرنا ہی ہوگا کیونکہ ان کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔نظم الحسن نے میڈیا کو آگاہ کیا کہ نیشنل سیکیورٹی انٹیلی جنس کے افسران کچھ تو پہلے ہی پاکستان پہنچ جائیں گے جبکہ کچھ بعد میں آئیں گے کیونکہ ان کی خواہش ہے کہ ٹیم کی تیاریاں بہتر انداز سے ممکن ہو سکیں اور اسی وجہ سے انہوں نے پی سی بی کے سیکیورٹی پلان کو دیکھنے کے بعد مکمل اطمینان ظاہر کیا لیکن ٹیم کے ساتھ این ایس آئی اور ڈی جی ایف آئی حکام کو بھیجنے کا فیصلہ کیا جو ملک کی بہترین سیکیورٹی ایجنسیاں ہیں اور بنگلہ دیشی کھلاڑی ان کی موجودگی میں زیادہ مطمئن ہوں گے۔انہوں نے اعتراف کیا کہ کھلاڑیوں پر ہی نہیں بلکہ ان کے اوپر بھی شدید دباؤ ہے لیکن یقینی طور پر ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلنے کے بعد اس میں کمی واقع ہو گی کیونکہ انہیں صورتحال کا کافی حد تک اندازہ ہو جائے گا اور اگر کوئی مشکل پیش آئی تو وہ پاکستان کرکٹ بورڈ سے بات چیت کر کے اسے حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی