معصوم بچی کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچا ئینگے، محمود خان

معصوم بچی کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچا ئینگے، محمود خان

  



نوشہرہ(بیورورپورٹ) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے زیارت کاکا صاحب نوشہرہ میں درندہ صفت افراد کے ہاتھوں آٹھ سالہ معصوم بچی کے قتل پر متاثرہ خاندان سے ان کے گھر تعزیت کی ہے جبکہ متاثرہ خاندان کو 10 لاکھ روپے کیش بطور مالی معاونت بھی موقع پر فراہم کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ صوبے میں ان جیسے واقعات قابل افسوس ہیں جبکہ صوبائی حکومت صوبے میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلئے صوبائی سطح پر سخت ترین قانون سازی کر رہی ہے جبکہ قانون سازی کا عمل ایک ماہ میں یقینی بنایا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے ضلعی پولیس و انتظامیہ کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ اس افسوسناک واقعے میں ملوث تمام ملزمان کو قرار واقعی اور عبرتناک سزا دی جائے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ اس کیس کو تیزی سے نمٹایا جائے۔ وزیراعلیٰ نے متاثرہ خاندان سے دُعا کی کہ اور کہا کہ صوبائی حکومت اس کیس کی خود نگرانی کرے گی۔ اُ نہوں نے پولیس کو متاثرہ خاندان کے ساتھ تمام تر تعاون کرنے کی ہدایت کی ہے اور ملزمان کا جلدازجلد چالان بھی پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ متاثرہ خاندان کے دُکھ درد میں برابر کا شریک ہوں،ان کے ساتھ کھڑا ہوں اور آخری وقت تک کھڑا رہوں گا۔ اُنہوں نے کہاکہ متاثرہ خاندان جس درد سے گزر رہا ہے اس کا احساس ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ جن ملزمان نے یہ فعل کیا ہے وہ انسان نہیں درندے ہیں۔ ملزمان نے انسانیت کی تذلیل کی ہے جبکہ ملزموں کو قانون کے تحت قرار واقعی سزاد ی جائے گی اور ان کو کیفرکردار تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ معصوم بچی کا قتل انتہائی ظلم ہے، اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

پشاور(سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان کے کیڈٹ کالج رزمک میں ہاسٹل کی تعمیر کے لئے فنڈز فراہمی کی ہدایت کی ہے جبکہ کیڈٹ کالج رزمک میں زیر التوا ء سکالرشپ کی فراہمی، کیڈٹ کالج کے ہاسٹلوں کی بہتری کی بھی ہدایت کی ہے۔ اُنہوں نے محکمہ تعلیم کو ہدایت کی ہے کہ وہ پنشن کی فراہمی سے متعلق اُمور کی ترجیحی بنیادوں پرحل یقینی بنائیں۔وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں کیڈٹ کالج رزمک کے 40 ویں بور ڈ آف گورنر اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔اجلاس میں صوبائی وزیر تعلیم اکبر ایوب، چیف سیکرٹری کاظم نیاز، جی او سی 7 ڈویژن، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن، ڈپٹی کمشنر ضم شدہ قبائلی ضلع شمالی وزیرستان، کمانڈنٹ شوال رائفلز رزمک، ڈائریکٹر ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن، پرنسپل کیڈٹ کالج رزمک ودیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کو کیڈٹ کالج رزمک میں بورڈر آف گورنرز، کالج میں ترقیاتی کام و دیگر اُمور پر تفصیلی بریفینگ دی گئی۔ اس موقع پر وزیر اعلی نے کیڈٹ کالج رزمک کی آٹھویں جماعت میں نشستوں کی تقسیم کی تجویز کی بھی منظوری دی ہے جس میں ضم شدہ قبائلی ضلع شمالی وزرستان اور رزمک سب ڈویژن کے طلباء کے لئے مجموعی طور پر 50 نشستیں مختص کی گئی ہیں جبکہ 30 نشستیں باقی نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع اور فر نیٹر ریجنز کے لئے مختص کی گئی ہیں۔اسی طرح پنجاب اور سندھ سے اوپن میرٹ پر طلباء کے لئے پانچ جبکہ خیبرپختونخوا سے اوپن میرٹ پر 20 نشستیں، بلوچستان سے اوپن میرٹ پر پانچ نشستیں، سیلف فنانس کی بنیاد پر 10 نشستیں، ایف سی اہلکاروں کے وارڈوں کے لئے 10 نشستیں جبکہ پانچ نشستیں رزمئین کے وارڈوں کے لئے اور پانچ نشستیں کالج ملازمین کے وارڈوں کے لئے مختص کی گئی ہیں۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ نشستوں کی تقسیم کا اطلاق طلباء کے داخلوں پر سال 2020 سے ہوگا۔اجلاس میں بورڈ آف گورنرز نے مختلف الاؤنسز میں اضافے کی منظوری بھی دی گئی جو پہلے سے منظور شدہ بجٹ سے دی جائے گی۔ اجلاس میں تمام کالج ملازمین کے الاؤنس کو 20فیصد بنیادی تنخواہ سے بڑھا کر 50 فیصد کرنے کی تجویز سے اتفاق کیا گیا، نیز سینئر ہاؤس ماسٹر، ہاؤس ماسٹر، اسسٹنٹ ہاؤس ماسٹر اورمیس آفیسر کی اضافی ڈیوٹی کی مشکلات اور کیمپس کے اندر چوبیس گھنٹے قیام سمیت اپنے فرائض کی انجام دہی کو مدنظر رکھتے ہوئے اضافی ڈیوٹی الاؤنس کی منظوری سے بھی اتفاق کیا گیا۔ اجلاس کے دوران محکمہ خزانہ نے کالج کے طلباء اور عملے کو سازگار ماحول کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے کیڈٹ ہاسٹلز اور عملے کی رہائش گاہوں کی بحالی کے لئے مطلوبہ فنڈز کی فراہمی سے بھی اتفاق کیا ہے۔وزیر اعلی نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے کے کیڈٹ کالجوں کے ساتھ مکمل تعاون کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے تنبیہ کی کہ کالجوں کو حکومت کی توقعات اور مطالبات کے مطابق اپنی کارکردگی کو بہتر بنانا ہوگا۔صوبائی حکومت صوبے میں بہتر تعلیم کے فروغ کیلئے عملی اقدامات اُٹھا رہی ہے۔ طلباء کو معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لارہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کی انفراسٹرکچر اور طلباء کو سازگار ماحول فراہم کیا جا رہا ہے جس سے صوبے میں تعلیمی اقدار ترقی کی طرف گامزن ہوں گے۔

مزید : صفحہ اول