سی ای او پی آئی اے راشد محمود کی عہدہ پر بحالی کی استدعا مسترد
اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،نیوز ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے)کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او)ائیر مارشل ارشد محمود ملک کو بحال کرنے کی درخواست مسترد کر تے ہوئے حکومت کو پی آئی اے کانیا سربراہ تعینات کرنے کا حکم دیدیا،چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ پی آئی اے میں سفر کرکے حال تو دیکھیں، پی آئی اے کسی کی جاگیر نہیں قوم کا اثاثہ ہے، سی ای او کو عارضی انتظامات کے تحت لایا گیا تھا، یہ موصوف خود ڈیپوٹیشن پرآئے اور دس بندوں کو ساتھ لے آئے، پی آئی اے چیئر مین قانون کے مطابق آنا چاہیے، حکومت طریقہ کار کے مطابق پی آئی اے کانیا سربراہ تعینات کرے، معلوم نہیں کوئی ایئر مارشل پی آئی اے کو کیسے چلائے گا، بہتر ہے ایئر مارشل پیک اپ کرلیں، حکومت کیوں پی آئی اے کو چلا رہی ہے، پی آئی اے پاکستان ائیرفورس کو ہی دیدیں۔منگل کو سپریم کورٹ میں قومی ایئر لائن پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو افسر ایئر مارشل ارشد محمود کو کام سے روکنے کیخلاف درخواست کی سماعت کی۔ عدالت نے سی ای او پی آئی اے ارشد محمود کو کام پر بحال کرنے کی استدعا مسترد کردی،تاہم پی آئی اے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو کام کرنے کی اجازت دیدی۔سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ سے مقدمہ کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے سی ای او پی آئی اے کا مقدمہ نجکاری کیس کیسا تھ منسلک کردیا۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ سی ای او کی تقرری کیلئے اشتہار دیا گیا تھا، ارشد محمود کو طریقہ کار کے مطابق پی آئی اے میں سی ای او کنفرم کیا گیا۔جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا جب سے یہ آئے ہیں سو فیصد کرایہ بڑھا دیا، دیکھنا ہوگا اشتہار کو کوئی خاص ڈیزائن دے کر تو جاری نہیں کیا گیا، پرانے اشتہارات کا بھی جائزہ لیں گے۔ عدالت نے کیس کی سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کردی۔
ارشد محمود استدعا