وزیراعظم اپوزیشن کے خلاف زہر اگلنے کے بجائے عوام کی بہتری پر وقت لگائیں:مصطفیٰ کمال

وزیراعظم اپوزیشن کے خلاف زہر اگلنے کے بجائے عوام کی بہتری پر وقت ...
وزیراعظم اپوزیشن کے خلاف زہر اگلنے کے بجائے عوام کی بہتری پر وقت لگائیں:مصطفیٰ کمال

  



کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ ہم نے کراچی کو بنایا اور الحمداللہ پاکستان کو بنانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں، 24 جنوری کو لاڑکانہ میں جلسہ کرکہ سندھ کے عوام کو ایک روڈ میپ دینے جارہے ہیں،وزیراعظم اپوزیشن کے خلاف زہر اگلنے کے بجائے عوام کی بہتری پر وقت لگائیں،کشمیر کو ہم نے بالکل بھلا دیا ہے،صرف ٹریفک لائٹس آدھے گھنٹے کے لیے بند کرکے احتجاج کرنے سے کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوگا، خارجہ پالیسی پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان ہاؤس میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق ناظم کراچی سید  مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ  پاک سرزمین پارٹی کراچی کی کسی سیاسی جماعت سے مقابلہ کرنے کے لیے نہیں بنائی گئی بلکہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں سے مقابلہ کرکہ عوام کو انکا حق دلوانے کے لیے بنائی گئی ہے،حقیقت تو یہ ہے کہ جو کراچی کی پارٹی ہے وہ گروپ بندی کا شکار ہے،میں حکومت سے کہتا ہوں کہ ایم کیوایم سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، یہ حکومت سے کبھی بھی علیحدہ نہیں ہونگے، آپ خود حکومت چھوڑ دینگے لیکن یہ حکومت نہیں چھوڑیں گے، کیونکہ انکی کرپشن کی سانسیں حکومت کی ڈور سے بندھی ہوئی ہیں،یہ جس دن حکومت سے باہر آئیں گے اسی دن سب گرفتار ہوجائیں گے۔

مصطفی کمال نے مزید کہا کہ پی ایس پی نہ ہوتی تو بانی ایم کیو ایم راء کے ایما پر کراچی میں قتل و غارت گری کروارہے ہوتے، کشمیر کو کاونٹر کرنے کے لیے کراچی کو گرم کیا جاتا، ہم نے راء کا نیٹ ورک ختم کیا ہے،سات کارکن شہید ہوئے، ہم نے خون کا نظرانہ پیش کیا ہے،آنے والا وقت عوام کا ہے،عوام میرا ساتھ دیں، ہمارے پاس وہ کردار اور فارمولا ہے جس سے ہم عوام تک حکمرانی پہنچائیں گے،گلی گلی میں حکمرانی پہنچائیں گے،اللہ کی رضا کے لیے کام کررہے ہیں، آج لاہور میں آٹے کے ٹرک کے پیچھے عوام لائن میں لگے ہوئے تھے۔ مصطفیٰ کمال نے سوال کیا کہ کیا یہ افریقہ، افغانستان اور عراق ہے؟موجودہ حکمرانوں نے پاکستان کو کیا بنا دیا ہے؟ پاکستان میں اسوقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس بات کی نشانی ہے کہ اللہ ہم سے ناراض ہے کیونکہ ہم شعبدے بازی پر ووٹ کرتے ہیں، ہم جھوٹے نعروں پر ووٹ کرتے ہیں اور کردار والے لوگوں کا انتخاب نہیں کیا جارہا،کردار کے بہتر افراد کا انتخاب کریں پاک سرزمین پارٹی میں باکردار لوگ موجود ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی نام نہاد جمہوریت میں ہی ایسا ہوتا کہ پانی اور سیورریج کے مسائل صوبائی اور وفاقی حکومت کی ذمہ داری بتایا جارہا ہے،ایک پارٹی کے چیئرمین پانی کی موٹریں لگا کر افتتاح کررہے ہے،سندھ کی حکومت ناکام ہوگئی ہے،آج کہا جارہا ہے کہ کے فور پرانے منصوبے پر ہی کام ہوگا،تو اتنا وقت کیوں برباد کیا گیا؟۔انہوں نے کہا کہ پہلے دن سے کہہ رہا ہوں پرانے منصوبے کے تحت ہی کے فور بنایا جاسکتا ہے،وفاقی حکومت کے ایک وزیر نے کراچی کی صفائی مہم کا آغاز کیا، وہ سمجھے ٹوئیٹر پر ہی صفائی ہوجائے گی لیکن ایسا نہیں ہوتا.انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم سندھ کے وزیر اعلیٰ سے بات ہی نہیں کررہے تو بہتری کیسے ہوگی؟ وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ کے بلدیاتی نظام کو عدالت میں چیلنج کرنے کی بات کی جارہی ہے جبکہ وفاقی حکومت نے ایک بار بھی سندھ حکومت سے بلدیاتی نظام پر بات نہیں کی،وزیراعظم کی باتوں میں جھوٹ ہے، وزیراعظم کی باتوں میں یوٹرن ہیں، 162 ارب روپے کراچی کو دینے کی بات کی جب تک صوبائی حکومت سے تعلقات بہتر نہیں ہیں، پیسے نہیں آسکتے.انہوں نے کہا کہ37 ارب روپے بلدیاتی حکومت کو ملے، اے ڈی پی کے مطابق 2 کروڑ کے حساب سے کراچی شہر میں 1800 منصوبے لگتے لیکن آج 18 منصوبے بھی دکھانے کے لیے موجود نہیں ہیں۔

مزید : علاقائی /سندھ /کراچی