اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاق کو پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت آنکھ میں کانٹا بن کر چبھ رہی ہے:نثارکھوڑو

اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاق کو پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت آنکھ میں کانٹا بن کر ...
اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاق کو پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت آنکھ میں کانٹا بن کر چبھ رہی ہے:نثارکھوڑو

  



لاڑکانہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے کہا ہے کہ18 ویں ترمیم کے بعد وفاق کو پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت آنکھ میں کانٹا بن کر چھب رہی ہے، سندھ میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نہیں اس لئے وفاقی حکومت پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے، صوبوں اور وفاق کے درمیان بہتر ورکنگ ریلیشن کے لئے سی سی آئی کا ہر تین ماہ میں اجلاس بلایا جائے، وزیراعظم عمران خان سی سی آئی کا اجلاس بلانے سے بھاگتے ہیں، ہم چاہتے ہیں سی سی آئی کا اجلاس بلایا جائے جہاں صوبوں اور وفاق کے مابین ایشوز پر بیٹھ کر بات کی جاسکے۔

لاڑکانہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ  انہوں نے کہا کہ نیا قومی مالیاتی ایوارڈ جو کے 2015 میں دیا جانا چاہیئے تھا ابھی تک نہیں دیا گیا ، وفاقی حکومت کوقطر،یو اے ای،سعودی عرب،آئی ایم ایف سےاربوں ڈالرزامداد ملنےکےباجود صوبوں کے ترقیاتی فنڈز میں کٹوتی کی گئی ہے،وفاقی حکومت صوبائی خودمختاری کو دل سے تسلیم ہی نہیں کرنا چاہتی۔ انہوں نے کہا کہ وفاق اپنی ناکامی چھپانے کے لئے سندھ حکومت کو ناکام کرنے کے حربے استعمال کر رہا ہے وفاق نے آئی جی سندھ کے لئے سندھ حکومت کو تاحال کوئی نام نہیں بھیجے، آئی جی سندھ امن امان قائم کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں،امن امان کا قیام صوبائی حکومت کا فرض ہے اور سندھ حکومت امن امان کی بہتری کے لئے اگر آئی جی سندھ کو تبدیل کرنا چاہتی ہے تو وفاقی حکومت سندھ کا آئینی موقف تسلیم کرنے کی پابند ہے، جب پنجاب میں آئی جی اور راولپنڈی میں افسران تبدیل ہوسکتے ہیں تو سندھ میں آئی جی کی تبدیلی پر وفاق کو اعتراض کیوں ہے؟ وفاقی حکومت کا آئی جی سندھ کی تبدیلی کے لئے سندھ حکومت کے ساتھ دھرا معیار ہے۔

انہوں نےکہاکہ گندم،آٹےاورچینی کابحران اورقیمتوں میں اضافے کی ذمہ دار سندھ نہیں وفاقی حکومت ہے،وفاق نے جان بوجھ کر یہ بحران پیدا کیا ہوا ہے، وزیر اعظم کےدوستوں کونوازنےکےلئےوفاقی حکومت نےملک سےگندم افغانستان کیوں بھیجی؟ پنجاب میں جب40لاکھ ٹن گندم کاسٹاک موجود تھا تو پھر وہاں کیوں گندم بحران پیدا کیا گیا؟۔ انہوں نے کہا کہ پاسکو وفاق کے ماتحت ہے، اگر پاسکو نے کمیشن لے کر گندم فلور ملز کو دی ہے تو وفاق اس کا جواب دے، سندھ پر گندم بحران کی ذمہ داری کا الزام ایسے ہے جیسے الٹا چور کتوال کو ڈانٹے۔ انہوں نے کہا کہ ایوب خان کے زمانے میں جب چینی کی قیمت 30 پیسے بڑھی تھی تو گلی گلی ایوب خان کے خلاف نعرے لگے تھے،وزیراعظم عمران خان سوچ لیں اب اُنکےخلاف بھی ایوب خان کی طرح گلی گلی نعرےلگنےشروع ہوگئے ہیں ، مہنگائی بیروزگاری کی وجہ سے ملک کی عوام عمران خان کی حکومت سے تنگ آچکے ہیں،عمران خان کی وفاقی حکومت لنگڑے گھوڑے کی طرح مزید نہیں چل سکتی ،عمران خان شروع سے ہی کمزور وزیراعظم تھے، وہ صرف بڑھکیں مارتے ہیں کرتے کچھ نہیں، اگر وزیراعظم کے پاس کوئی پلاننگ ہوتی تو ان کی 100دنوں کی ایجنڈا ناکام نہیں ہوتی جو 100 دنوں میں کچھ نہیں کر سکا وہ ڈیڑھ سال تو کیا آگے بھی کچھ نہیں کرسکے گا۔انہوں نے کہا کہ آصف زرداری ہسپتال میں ہیں،اس لئے ضمانت کے بعد بیان دینے یا نہ دینے کی کوئی بات نہیں ہونی چاہیئے، پارٹی پالیسی اور بیانات چیئرمین دے رہے ہیں،

مزید : علاقائی /سندھ /لاڑکانہ