آر ایس ایس کی مسلم دشمنی

آر ایس ایس کی مسلم دشمنی
 آر ایس ایس کی مسلم دشمنی

  

جب سے بی جے پی بر سر اقتدار آئی ہے۔ہر روز فرقہ واریت کو بڑھاوا دینے والے بیانات کا سلسلہ لگا ہوا ہے،ہر شدت پسند جری و بہادر ہو گیا ہے۔ ہندوستان میں ہندو دہشت گردوں کے مسلمانوں پر مظالم ہر آنے والے دن کے ساتھ بڑھتے جا رہے ہیں۔ مودی سرکار پورے ہندوستان سے مسلمانوں کا تشخص مٹانے کے لئے بھرپور توانائیاں صرف کر رہی ہے۔

 مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں مسلم کش فسادات کے بعد 3 تھانوں کی حدود، مسلم اکثریتی علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیاگیا ہے۔  یہاں تنازع آر ایس ایس کی جانب سے محکمہ اوقاف یعنی مسلمانوں کی ملکیتی زمین پر قبضے سے شروع ہوا۔ مسلمانوں کی جانب سے ردعمل سامنے آنے کے بعد چند جھڑپیں دیکھنے میں آئیں، جس کے بعد علاقہ میں کرفیو لگا کر آر ایس ایس کو زمین پر ”باؤنڈری وال“ تعمیر کرنے کی اجازت دیدی گئی۔ 

بھوپال کے ہنومان گنج، ٹیلا جمالپورہ اور گوتم نگر میں یہ کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔ پرانے بھوپال میں آر ایس ایس کے دفتر ”کیشو نیڈم“ کے سامنے مسلمانوں کی 37 ہزار مربع فٹ زمین خالی پڑی تھی۔ یہاں پر آر ایس ایس نے اپنی کالونی بنانے کی غرض سے قبضہ کر لیا تھا۔معاملہ بھڑکنے کے بعد سپریم کورٹ نے مودی سرکار کے دباؤ کے تحت زمین آر ایس ایس کو سونپ دی اور اب کرفیو کا فائدہ اٹھا کر ہندو دہشت گرد تنظیم یہاں زور و شور سے  دیوار تعمیر کر رہی ہے۔ پرانے بھوپال میں بیسیوں مسلمانوں کو اس قبضے کی مخالفت کرنے پر جیلوں پر ڈالا جا چکا ہے اور کسی بھی فرد کے لئے گھر سے نکلنے پر مکمل پابندی عائد ہے۔ مودی سرکار کی طرف سے یہ کوشش بھی کی جا رہی ہے کہ اس ظلم و تشدد کی خبربھارتی مین سٹریم میڈیا میں نہ چلے۔ 

 انتہا پسند ہندووں کے مسلمانوں پر ظلم و ستم کے حوالے سے اب اترپردیش کی انتہا پسند یوگی ادتیہ نند سرکار کا ہدف رام پور میں واقع مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی ہے۔ آرایس ایس اس یونیورسٹی پر اپنا کنٹرول قائم کرنے کے لئے تمام توانائیاں صرف کر رہی ہے۔ آر ایس ایس نے یو پی حکومت کے ذریعے یونیورسٹی کی ساڑھے بارہ ایکڑ زمین اپنے قبضہ میں لے لی۔ یہ امر قابل ِ ذکر ہے کہ اترپردیس سے ممبر قومی اسمبلی اعظم خان اس یونیورسٹی کے بانی اور تاحیات وائس چانسلر ہیں۔ اعظم خان نے 2006ء میں اس یونیورسٹی کی بنیاد رکھی تھی اور یہ 500 ایکڑ سے زائد رقبے پر واقع ہے۔ اس وقت بھی یونیورسٹی میں 3500 سے زائد طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس کا نام تحریک خلافت کے اہم رہنما مولانا محمد علی جوہر کے نام پر رکھا گیا جو اسی رام پور میں پیدا ہوئے تھے۔ مزید 70 ایکڑ سے زائد اراضی آنے والے دِنوں میں آر ایس ایس اپنے قبضہ میں لے لے گی۔

مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد فوج کے جھتے میں آر ایس ایس کے تربیت یافتہ دہشت گردوں کو وادی میں بھیجا گیا جو اس سے قبل بھی کشمیری مسلمانوں کے قتل، خواتین کے عصمتوں کے لٹنے جیسے کئی واقعات میں ملوث ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اور خود اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشان دہی کرچکی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے موجودہ حالات کے تناظر میں بھارتی سازشوں میں آر ایس ایس کرفیو کے دوران تفتیش اور شک کے نام پر نہتے کشمیریوں پر ٹارچر کررہی ہے۔ کشمیریوں پر تشدد کے حوالے سے مقبوضہ کشمیر میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی دو تنظیموں نے بھارت کا ہندو شدت پسندی کا چہرہ ”ٹارچر“ نامی رپورٹ میں آ شکار کیا تھا۔ اب بھی یہی خدشات ہیں کہ آر ایس ایس مقبوضہ کشمیر میں ایسے واقعات میں ملوث ہو سکتی ہے، جس کا الزام پاکستان پر لگا کر بھارت، سلامتی کونسل کے مشاورتی اجلاس میں ہونے والی شکست کو چھپانے کی کوشش کرے اور عالمی برداری کو گمراہ کرے کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کی اخلاقی حمایت کے بجائے پر تشدد واقعات کروا رہا ہے۔ 

جب سے بی جے پی برسراقتدار آئی ہے ہندوستان کے سیکولرزم اور اس کی جمہوری شناخت کو ختم کرنے اور خصوصاً ملک کی دوسری سب سے بڑی آبادی مسلمانوں کو ہراساں کرنے اور ان کے شعائر میں دخل اندازی کی کوشش تیز تر ہوتی جاری ہے،جس کے مسلم پرسنل بورڈ نے ”دین بچاؤ، دستور بچاؤتحریک“ شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے، جس کے لئے دارالعلوم حیدرآباد میں اس کا خصوصی اجلاس منعقد ہوچکا ہے۔ اجلاس میں فرقہ واریت کے بڑھتے اثرات کو ختم کرنے اور ہندو مسلم اتحاد کے قیام کے لئے کوشاں ہونے کی بات کہی گئی۔ یوگا، بندے ماترم اور سوریہ نمسکار جیسے متنازعہ فیصلوں پر قانونی لڑائی لڑنے کابھی عندیہ دیا گیا۔ یہ کہا گیا کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے۔ یہاں کے دستور میں مذہبی آزادی حاصل ہے۔ یہاں کے ہر شہری اور باسی کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔ اس لئے مسلمان اپنے دین وایمان کا سودا نہیں کرسکتے۔

جو کچھ بھارت میں مودی، بجرنگ دل او رآر ایس ایس کی سرپرستی میں ہورہا ہے اس کے آگے بند کیسے باندھا جائے گا یہ ایک اہم بنیادی نوعیت کا سوال ہے۔ کیا بھارت کی سپریم کورٹ ازخود  ان معاملات پر نوٹس لے کر مودی حکومت کی پالیسی کے خلاف کوئی اقدام اٹھائے گی یا وہ بھی سمجھوتے کی سیاست کے تحت خاموش ہوکر سخت گیر ہندو وں کو پرتشدد سیاست کے لیے کھلی چھٹی دے گی۔اس وقت مودی کی مسلم دشمن سیاست کو روکنے کے لئے سب کی نظریں سپریم کورٹ پر لگی ہوئی ہیں۔اسی طرح ایک بڑا کردار دنیا او ربڑی طاقتوں کا بنتا ہے کہ وہ محض زبانی مذمتی بیانات سے باہر نکل کر عملی طور پر بھارت پر دباو کی سیاست بڑھائیں اور تمام سفارتی، سیاسی اور ڈپلومیسی کے کارڈ کھیل کر بھار ت کو مجبور کرے کہ وہ اقلیتوں اور مسلم دشمنی سے گریز کر  کے سب کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

مزید :

رائے -کالم -