ہم آگے بڑھنا کب سیکھیں گے؟

ہم آگے بڑھنا کب سیکھیں گے؟
 ہم آگے بڑھنا کب سیکھیں گے؟

  

پورے امریکہ ہی میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں نئے امریکی صدر جوبائیڈن کی پہلی تقریر کو سراہا جا رہا ہے تاہم مجھے ان کی جس بات نے متاثر کیا ہے وہ ان کی تقریر کا وہ حصہ ہے جس میں انہوں نے امریکیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے ”وہ تمام لوگ جنہوں نے ہماری حمایت نہیں کی، میں انہیں کہنا چاہتا ہوں کہ ہم نے آگے بڑھنا ہے اگر آپ اب بھی مجھ سے متفق نہیں تو یہ آپ کا حق ہے، یہی جمہوریت ہے امن کے ساتھ اختلاف رائے رکھنا امریکہ کی اصل طاقت ہے میری بات غور سے سن لیں، متفق نہ ہونا غیر متحد ہونے کی طرف ہرگز نہیں لے جاتا، میں یقین دلاتا ہوں کہ سب کا صدر ہوں، میں ان کے لئے بھی اتنی ہی جدوجہد کروں گا جنہوں نے ہماری حمایت نہیں کی“ کیا امریکی صدر کے اس خطاب کو سن کر ان کے مخالفین بھی خوش نہیں ہوئے ہوں گے کیا انہوں نے امریکہ کی سپر میسی کے اصل خدوخال بیان نہیں کر دیئے؟

جوبائیڈن کے پاس اس بات کا پورا جواز موجود تھا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرتے، ان کے حامیوں نے انتخابی نتائج کے بعد جو کچھ کیا اس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہتے کہ مخالفین کان کھول کر سن لیں ان کی سازشوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ چاہتے تو یہ تڑکا بھی لگا دیتے کہ ٹرمپ حکومت کی کرپشن کے بارے میں تحقیقات کرائیں گے۔ انہوں نے کہاں سے تجاوز کیا اس کا محاسبہ کریں گے۔ مگر انہوں نے ایسا کچھ بھی نہیں کہا، انہوں نے تو صرف ایک ہی پیغام دیا کہ ہم نے آگے بڑھنا ہے انہوں نے اس حوالے سے بھی کوئی صفائی پیش کی اور نہ ذکر کیا کہ دھاندلی کے الزامات ہارنے والوں نے اپنی شرمندگی مٹانے کے لئے لگائے، انہوں نے امید، حوصلے اور روشن مستقبل کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان کی یہ بات بڑی شاندار تھی کہ کل اسی جگہ ہنگامہ آرائی تھی، بلوہ تھا مگر آج جمہوریت نے اسے ختم کر دیا ہے، یہی جمہوریت کا حسن ہے یہی جمہوریت کی طاقت ہے۔ میں سوچ رہا تھا کہ جوبائیڈن نے کس طرح ایک ہی دن میں امریکہ کے بارے میں پیدا ہونے والے سارے خدشات کو حرف غلط کی طرح مٹا دیا۔ کہا جا رہا تھا کہ امریکہ سیاسی انتشار کی نذر ہو کر ٹوٹ جائے گا۔ ڈیمو کریٹک آئے ہیں تو اب انتقامی سیاست کا آغاز کریں گے، مخالفین کو سبق سکھائیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے جو کیا وہ تو ایک تصادم کو ہوا دینے کے مترادف تھا پھر جس طرح انہوں نے تقریب حلف برداری میں شرکت نہیں کی اور اس سے پہلے ہی وائٹ ہاؤس سے چلے گئے اس سے تو یہی تاثر ابھرتا ہے کہ وہ نئی امریکی حکومت کو تسلیم نہیں کرتے مگر ان کے ہر قدم کو ناکام بناتے ہوئے جوبائیڈن نے آگے بڑھنے کی پالیسی اختیار کی وہ آگے بڑھ گئے اور جمہوریت کو بھی اپنے ساتھ آگے لے گئے۔

ہم ایسا کیوں نہیں کرتے؟ کیوں آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے کی طرف دیکھتے ہیں مستقبل کی بجائے ماضی میں الجھے رہتے ہیں یہ ہماری جمہوریت کی خرابی ہے یا ہمارے شخصی رویوں کی۔ مجھے وزیراعظم عمران خان کی حلف اٹھانے کے بعد تقریر یاد آ رہی ہے اسے سوچتا ہوں اور جوبائیڈن کی تقریر سنتا ہوں تو میرے ذہن میں اصل خرابی کی جڑ نمایاں ہو جاتی ہے عمران خان کے خطاب نے آگے بڑھنے کے تمام راستے مسدود کر دیئے تھے کسی کو نہیں چھوڑوں گا، کسی کو این آر او نہیں دوں گا لوٹی گئی ایک ایک پائی نکلواؤں گا کسی دھمکی میں نہیں آؤں گا۔ کسی سے رعایت نہیں کروں گا وغیرہ وغیرہ اب ایسی باتوں سے آغاز کرنے والا حکمران جمہوریت کو کیسے پروان چڑھا سکتا ہے عوام کو کیا ریلیف کیا امید دے سکتا ہے سو وہی ہوا کہ ایک دائمی انتشار کی بنیاد پڑ گئی روز اول سے لے کر آج تک ایک بے یقینی اور بے چینی ہمارا مقدر بنی ہوئی ہے۔ قانون سازی ہو نہیں پا رہی، پارلیمینٹ رکی ہوئی ہے حکومت اور اپوزیشن میں کھینچا تانی جاری ہے اور جمہوریت ایک تماشا بنی ہوئی ہے جمہوریت میں فیصلہ عوام کرتے ہیں جوبائیڈن کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ عوام نے انہیں منتخب کیا اور ڈونلڈ ٹرمپ کو مسترد کر دیا۔ اب توانائیاں اس پر ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار میں رہ کر کیا کیا بلکہ فائدہ اس میں ہے کہ ان کی خامیوں کو سامنے رکھ کر آگے کا سفر کیا جائے، وہ مسائل جو ڈونلڈ ٹرمپ کی وجہ سے امریکی عوام کو ملتے، ان کا خاتمہ کیا جائے اور عالمی سطح پر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے باعث امریکہ کا جو امیج خراب ہوا، اسے ٹھیک کیا جائے، جوبائیڈن کی پہلی تقریر ہی نے امریکی عوام اور پوری دنیا کو تشویش کی اس صورتحال سے نکال دیا جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی وجہ سے مبتلا ہوئے۔

یہ صرف عمران خان کا واقعہ نہیں کہ انہوں نے اقتدار سنبھالتے ہی کشیدگی کی بنیاد رکھ دی، بلکہ ان سے پہلے نوازشریف اور نوازشریف سے پہلے بے نظیر بھٹو بھی یہی کرتے رہے صرف آصف زرداری میں اتنی سمجھ بوجھ تھی کہ گڑے مردے نہیں اکھاڑنے، انہوں نے جمہوریت سب سے بہتر انتقام ہے کا نظریہ اپنایا اور آگے بڑھنے کی کوشش کی مگر جلد ہی وہ بھی پاکستانی سیاست کی اسی روایت کا شکار ہو گئے جو انتشار اور کشیدگی سے عبارت ہے پاکستان میں تو انتخابات سے پہلے اسمبلیاں توڑ کر نگران حکومتیں بنا دی جاتی ہیں جو انتخابات کراتی ہیں امریکہ میں ایسا نہیں ہوتا صدر برقرار رہتا ہے اور انتخابات میں حصہ بھی لیتا ہے سب نے دیکھاکہ دھاندلی کا واویلا ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا جو وقت کے صدر تھے، جبکہ جوبائیڈن کی طرف سے ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔

اس کا مطلب یہ ہے امریکی نظامِ انتخاب ایسا نہیں کہ حاضر سروس صدر اسے متاثر کر سکے مگر اس کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ نے پوری کوشش کی کہ کسی طرح شفاف انتخابات کے نظام کو متنازعہ بنا سکیں انہوں نے اپنے حامیوں میں اشتعال پیدا کیا اور امریکی جمہوریت کی جڑیں ہلانے کی کوشش کی لیکن جلد ہی انہیں اندازہ ہو گیا کہ امریکی جمہوریت  کی جڑیں اتنی کمزور نہیں کہ انہیں احتجاج کے ذریعے کمزور کیا جا سکے انہوں نے  کانگریس کے اجلاس پر حملہ کروایا مگر اجلاس کو نہ رکوا سکے البتہ ان کا چہرہ امریکی عوام اور دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا۔

پاکستانی سیاستدانوں کو جوبائیڈن کی تقریر اور رویئے سے سبق سیکھنا چاہئے صرف ایک ہدف کو ذہن میں رکھنا چاہئے کہ ہم نے آگے بڑھنا ہے۔ لکیر کا فقیر نہیں رہنا سب سے بنیادی چیز جسے یقینی بنایا جانا ضروری ہے، وہ منتخب اسمبلیوں کی آئینی مدت ہے یہ انتہائی، غیر جمہوری رویہ ہے کہ اسمبلیاں بنتے ہی ان کے خلاف تحریک شروع کر دی جائے صرف اس لئے کہ اس میں آپ کی نمائندگی نہیں دوسری اہم بات یہ ہے کہ جانے والے حکمرانوں کے معاملات کو سیاسی نہ بنایا جائے بلکہ انہیں قومی اداروں کی صوابدید پر چھوڑ دیا جائے۔ صرف اسی طرح ہم آگے بڑھ سکتے ہیں وگرنہ کولہو کے بیل کی طرح گھومتے رہیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -