کورونا کی آڑ میں نئی نسل سے مذاق کب تک؟

کورونا کی آڑ میں نئی نسل سے مذاق کب تک؟
 کورونا کی آڑ میں نئی نسل سے مذاق کب تک؟

  

مَیں نے8جنوری 2021ء کو ”تعلیمی ادارے نہ کھولے تو کچھ نہیں بچے گا“ کے عنوان سے کالم لکھا تو میرے کچھ سینئر احباب جو بڑے حساس ہیں اور کورونا کی وبا کی وجہ سے ابھی تک ماسک کا استعمال بھی پابندی سے کرتے ہیں اور سلام بھی نہیں لیتے اور نماز کے لئے مسجد بھی نہیں جاتے۔ حکومت پاکستان اور ڈبلیو ایچ او کی پابندیوں کو حرفِ آخر قرار دیتے ہیں۔انہوں نے بڑا سخت ردعمل دیا اور فرمایا اگلے کالم کا عنوان بنائیں ”اگر تعلیمی ادارے کھولے تو کچھ نہیں بچے گا“ مَیں نے محبت سے ان کی باتیں سنی، خاموش رہا جس پر مزید غصے میں آئے اور کہنے لگے آپ صحافیوں کے پاس دلائل ہوتے نہیں ہیں حکومتوں کو مشورہ دینا شروع کر دیتے ہیں۔آج اگر پاکستان میں کورونا کنٹرول ہو رہا ہے تو اس کی بنیادی وجہ تعلیمی اداروں کا بند  ہونا ہے، حکومت کی دانشمندانہ پالیسی کی وجہ سے پاکستان بڑی تباہی سے بچ گیا ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے یہ سوچ میرے دو یا تین دوستوں کی نہیں ہے، بلکہ موت سے ڈرنے والے اور بہت سے احباب کی ہے،مَیں نے بڑے احترام سے کہا مَیں نے کالم میں کسی جگہ نہیں لکھا کہ احتیاط نہ کی جائے، ماسک تو مَیں نے اب بھی لگایا ہوا ہے،دوسرا مَیں حکومتی اقدامات کا بھی مخالف نہیں ہوں البتہ اِس بات سے اختلاف ہے حکومتی اقدامات کی وجہ سے پاکستان میں کورونا کنٹرول رہا ہے  یا ہو رہا ہے، مَیں اللہ کا خاص فضل اور کرم سمجھتا ہوں اور اللہ کی طرف سے امت کے لئے آزمائش سمجھتا ہوں اس لئے مَیں آزمائش میں مساجد سے دور کر لینے کی بجائے مساجد سے تعلق مضبوط کرنے کو وقت کی ضرورت سمجھتا ہوں، اپنے گناہوں سے معافی مانگنے اور اللہ کی بارگاہ میں سچے دِل سے توبہ کر کے سرسجود ہونے کو ہی کامیابی سمجھتا ہوں۔ اگر آپ گستاخی نہ سمجھیں تو میرے سمیت سینکڑوں افراد کے ذہن میں اٹھنے والے سوالات کا جواب آپ دینا پسند کریں گے تاکہ میرے علم میں اضافہ ہو اور میرے قارئین کو مفید رہنمائی مل سکے، میرے سوالات اس طرح ہیں کیا کورونا مساجد اور سکولوں میں ہی پھلتا ہے، مارچ سے20جنوری تک آپ اور حکومت بتائیں گے سکولوں اور کالجوں کے کتنے طلبہ و طالبات مہلک بیماری کی وجہ سے اللہ کو پیارے ہوئے؟

کیا سکولوں سے چھٹی کی وجہ سے بچے اپنے گھروں تک محدود رہتے ہیں، کیا کورونا  مارکیٹوں اور شاپنگ مال اور کچہریوں، غلہ  منڈی، سبزی اور فروٹ منڈیوں میں نہیں پھیلتا، کیا سکول بند کرنے سے طلبہ و طالبات کو کورونا سے محفوظ کر لیا گیا ہے، یقینا ایسا نہیں ہے آپ کو علم ہے ایس او پیز پر سب سے زیادہ عمل درآمد تعلیمی اداروں اور مساجد میں ہوا ہے، آپ بھی تسلیم کریں گے اور آپ کا جواب بھی نہیں ہو گا، ہر جگہ احتیاط کرنا اور ایس او پیز پر عملدرآمد ضروری ہے، اب حکومتی اقدامات کو دیکھ لیں، پوری دُنیا ویکسین خریدنے کے لئے پاگل ہو رہی ہے، 60فیصد، 80فیصد، 90فیصد اثرات والی بھی ویکسین دھڑا دھڑا خریدی جا رہی ہے اور ہم اہل ِ پاکستان کی حفاظت اور انہیں کورونا سے بچاؤ کا زیادہ درد رکھتے ہیں، ہم ابھی ویکسین خریدنے کی منظوری کے مرحلے میں ہیں۔

گزشتہ روز ڈاکٹر فیصل سلطان کی پریس کانفرنس نے ملک بھر میں ویکسین مفت لگانے کی نوید سے خوشی ہوئی ہے۔ وہی بہت سے سوالات نے بھی جنم لیا ہے۔ ڈاکٹر فیصل فرماتے ہیں کہ پہلے مرحلے میں 10لاکھ افراد کے لئے18سال سے اوپر کے صحت مند افراد کو مفت ویکسین لگانے کو ترجیح دیں گے،18 سال سے کم عمر کے بچوں کو نہیں لگائیں گے، ساتھ ہی ماہر امراضِ بتاتے ہیں کہ18 سال سے کم عمر بچوں کو ضرورت نہیں ہے۔یہی رونا مَیں نے اپنے کالم میں رویا تھا،چھوٹے بچوں سمیت18سال تک کے بچے بچیوں کی قوتِ مدافعت زیادہ ہوتی ہے ان پر کورونا کم اثر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے جن ممالک میں لاکھوں افراد کورونا کا شکار ہوئے ہیں ان ممالک نے بھی سکول کالج بند نہیں کئے۔ ڈبلیو ایچ او کی بھی واضح ہدایات تھیں مگر ہماری ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے ملک کا پہلے سے موجود کمزور ترین نظام تعلیم تباہی کے آخری کنارے پہنچ گیا ہے، میری باتوں کی تصدیق یا تردید حکومتی فگر آنے کی صورت میں بہتر انداز میں ہو سکے گی،اگر حکومت18 سال سے کم عمر بچوں بالعموم اور سکولوں کے طلبہ و طالبات کی تعداد سے قوم کو آگاہ کرے۔

دس ماہ میں کتنے فوت ہوئے لمحہ فکریہ یہ بھی ہے سکولوں کو زبردستی بند کرنے کی وجہ سے تعلیمی ہرج ہی نہیں ہوا، والدین بھی ذہنی مریض بنے ہیں، کیونکہ بچے بچیاں گھر تو بیٹھے نہیں، شاپنگ، ہوٹلنگ اور دیگر مصروفیات میں ولدین کا بجٹ بھی ڈسٹرب کیا اور آن لائن ڈرامہ کی آڑ میں نیٹ پر فلمیں ڈرامے اور دیگر خرافات دیکھ کر اپنے آپ کو تباہ کرتے رہے، تعلیمی اداروں سے جڑے دیگر ایک درجن شعبے بھی بدحالی کا شکار ہوئے اور ان غریب خاندانوں کو اپنی زندگی کا بندھن قائم رکھنا محال ہو گیا۔ ان میں کینٹین ملازمین، سکولوں کے خاکروب، گارڈ، چھوٹے ملازمین سمیت اساتذہ بھی شامل ہیں جن کو نجی تعلیمی اداروں کے سربراہان نے بغیر تنخواہ کی ادائیگی کئے گھر میں بیٹھنے تک مجبور کر دیا۔

کورونا کی پہلی لہر میں سنجیدہ اقدامات کی دعویدار حکومت کے غیر سنجیدہ رویے کی وجہ سے دوسری لہر میں 90فیصد پاکستانی غیرسنجیدہ نظر آ رہے ہیں اس کی بنیادی وجہ گرانی اور عام استعمال کی اشیاء کی غریب آدمی کی پہنچ سے دور ہونا ہے، حکومت نے جس طرح پہلے مرحلے میں مسجدوں کو تالے لگائے، نماز جمعتہ المبارک کو دس افراد تک محدود کیا، وضو خانے بند کرائے، مساجد اور مدارس رحمت ِ خداوندی کے مراکز تھے انہیں عبرت کی جگہ بنانے کی کوشش کی،جس سے اللہ تعالیٰ مزید ناراض ہوا اور پھر دُنیا بھر میں کورونا کی مزید شکلیں سامنے آنے لگیں حالانکہ بزرگ فرماتے ہیں اے انسان اگر تم گناہ کرتے کرتے تھک جاؤ تو مساجد کا رُخ کرو، کیونکہ اللہ کی رحمت تھکتی نہیں، بلکہ پانچ دفعہ دن میں رحمت کے سائے میں آنے کی دعوت دیتی ہے، ہم نے وہ حکومت میں ہوں یا حکومت سے باہر جو مذاق قوم سے کیا ہے، اس کا علاج اللہ اور اس کے رسول صلی للہ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا ہے رجوع اللہ، اللہ اللہ کر کے تعلیمی ادارے کھولنے  میں وفاقی اور صوبائی وزیر روزانہ دوبارہ بند کرنے کی دھمکیاں دیتے ہیں، خدارا مذاق بند کریں ورنہ واقعی کچھ نہیں بچے گا۔ دُنیا میں سب سے بڑی حقیقت موت ہے اس سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے، سوائے اس کے ہم عارضی زندگی میں بدی زندگی کی تیاری کریں اور زندگی کے سفر کو خوف کی علامت بنانے کی بجائے اس کو خوبصورت بنانے کا عزم کریں اور اس کا راز قرآن عظیم الیشان میں پنہاں ہے،آیئے مل کر توبہ کریں اور دو عملی چھوڑ کر صرف اللہ کے ہو جائیں!

مزید :

رائے -کالم -