نیوزی لینڈ میں قرنطینہ سے پریشان قومی کھلاڑیوں کو اپنے ملک کا بائیو ببل ’راس‘ آ گیا مگر کیسے؟

نیوزی لینڈ میں قرنطینہ سے پریشان قومی کھلاڑیوں کو اپنے ملک کا بائیو ببل ...
نیوزی لینڈ میں قرنطینہ سے پریشان قومی کھلاڑیوں کو اپنے ملک کا بائیو ببل ’راس‘ آ گیا مگر کیسے؟
سورس:   Twitter

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) جنوبی افریقہ کیخلاف ٹیسٹ سیریز کیلئے منتخب ہونے والے پاکستانی کرکٹرز بائیو ببل میں ایڈجسٹ ہو گئے کیونکہ انہیں نیوزی لینڈ کے مقابلے میں یہاں زیادہ مناسب سہولتیں حاصل ہیں جبکہ کئی کھلاڑی اپنی فیملیز کیساتھ ہیں اور ان کی آمدورفت کیلئے مختلف راستہ بھی مختص کر دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق نیوزی لینڈ میں قرنطینہ کے نام پر جیل جیسے ماحول میں رہنے والے پاکستانی کرکٹرز اپنے ملک کے بائیو ببل میں اچھا وقت گزار رہے ہیں، سات کھلاڑیوں و آفیشلز کی فیملیز بھی ساتھ ہیں، ہوٹل میں پاکستانی اور جنوبی افریقی ٹیمیں الگ فلورز پر قیام پذیر ہیں، پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے تجربے سے سبق سیکھتے ہوئے اس بار الگ لفٹ بھی مختص کی گئی ہے۔

سٹیڈیم جاتے ہوئے اور واپس آتے وقت سوئمنگ پول کی سائیڈ والا عقبی راستہ استعمال ہوتا ہے جہاں دیگر ہوٹل گیسٹ سے سامنے کا امکان نہیں رہتا البتہ پول استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے، جم میں 2،2گھنٹے کے دو اوقات کار مختص کئے گئے ہیں، اس دوران جو کھلاڑی یا آفیشل جانا چاہے جا سکتا ہے۔

کھلاڑیوں کے ناشتے کیلئے بوفے کا فلور پر الگ اہتمام کیا جاتا ہے، البتہ ہوٹل میں موجودگی کی صورت میں لنچ اور ڈنر کمروں میں منگوا کر ہی کرنا ہوتا ہے، چونکہ تمام کھلاڑی وغیرہ کورونا ٹیسٹ کلیئر کرا کے بائیو ببل کا حصہ بنے ہیں اس لئے انہیں ایک دوسرے کے کمروں میں جانے کی اجازت ہے۔

صرف پہلے دن ٹیسٹ کے نتائج آنے تک اپنے کھلاڑیوں کو اپنے اپنے کمروں میں رہنے کا کہا گیا تھا،کمروں سے باہر ماسک پہنے بغیر جانا ممنوع ہے، پلیئرزکی انڈور تفریحی سرگرمیوں کیلئے ایک کمرہ بھی مختص کیا گیا ہے جس میں وہ سنوکر وغیرہ کھیل سکتے ہیں۔

الگ فلورز پر قیام کی وجہ سے اب تک پاکستانی اور جنوبی افریقی کرکٹرز کی کوئی باقاعدہ ملاقات نہیں ہوئی، البتہ آتے جاتے یا لفٹ میں کبھی کسی سے علیک سلیک ہو جاتی ہے، اہل خانہ کے ساتھ اور نسبتاً بہتر ماحول کی وجہ سے کھلاڑی بھی بائیوببل میں کسی پریشانی کا شکار نہیں ہیں۔

مزید :

کھیل -