ن لیگ براڈ شیٹ معاہدہ سامنے لے آئی،عدالتی کمیشن کے سربراہ سے بھی بڑا مطالبہ کردیا

ن لیگ براڈ شیٹ معاہدہ سامنے لے آئی،عدالتی کمیشن کے سربراہ سے بھی بڑا مطالبہ ...
ن لیگ براڈ شیٹ معاہدہ سامنے لے آئی،عدالتی کمیشن کے سربراہ سے بھی بڑا مطالبہ کردیا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے براڈ شیٹ معاہدہ میڈیا کے سامنے پیش کرتے ہوئےمطالبہ کیاہے کہ جسٹس شیخ عظمت سعید کمیشن کے سربراہ نہ بنیں۔

اسلام آباد میں مریم اورنگزیب،خرم دستگیراوراحسن اقبال کےہمراہ پریس کانفرنس  کرتےہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ جسٹس شیخ عظمت سعید سے گزارش کرونگاوہ سپریم کورٹ کے جج رہے ہیں،انکا معاشرے میں ایک مقام ہے،انکی  عزت پاکستان کے عوام کے دل میں ہونی چاہیے،ان  پر لازم ہے کہ وہ اس کمیشن کے سربراہ نہ بنیں،اس کمیشن کا سربراہ ایک ایسا غیر متنازعہ آدمی ہو جو حقائق عوام تک پہنچاسکے،براڈ شیٹ تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ عظمت سعید وہ شخص ہیں جو معاہدے کے وقت پنجاب میں نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل تھے،عظمت سعید شیخ کو خود کمیشن سے علیحدہ ہوجانا چاہیے کیونکہ اس کا سربراہ کوئی متنازعہ شخص نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے کہاکہ جون 2000 میں براڈ شیٹ معاہدے پر اس وقت کے چیئرمین نیب نے دستخط کیے، حکومت پاکستان اب تک ایک ہزار کروڑ روپے براڈ شیٹ کو ادا کرچکی، ایک  ہزار کروڑ روپے کی ادائیگی کے حوالے سے کوئی جواب دینے والا ہے کہ  کیوں پیسے بھیجے اور کس مقصد کےلیے بھیجے گئے؟براڈ شیٹ کے حوالے سے بہت سے پردہ نشینوں کے نام بھی آپ کے سامنے آئیں گے، اگریہ معاہدہ کسی سیاستدان نے کیاہوتا تواس وقت ہر جگہ یہ الزام لگایاجارہاہوتا کہ سیاستدان 1000کروڑ کی کرپشن کرگئےہیں، یہ معاہدہ ایک منظم کوشش کی داستان ہے جس میں سیاست ختم کرنےاور گنداکرنے کی کوشش کی گئی ہے،اسکی تحقیقات کوئی غیرمتنازعہ شخص کرے۔

سابق وزیراعظم نے  کہاکہ چیئرمین نیب کے دستخط والے معاہدے میں طارق فواد ملک سمیت 2 گواہ ہیں، جنہوں نے انگلینڈ پیسے بھیجنےکا فیصلہ کیا وہ کمیشن میں بیٹھے ہیں، وزرا اور سرکاری افسروں پر براڈ شیٹ سے حصہ مانگنے کا الزام لگا ہے،ملک میں تحقیقات کے لئے بنائے گئے کمیشنز کی تاریخ زیادہ عزت افزا نہیں،حمود الرحمان سے چینی کا کمیشن بننے تک صرف مجرموں کو چھپانے کی کوشش ہوئی۔

مزید :

قومی -