کوریا کا امریکہ اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعاون کا عزم

کوریا کا امریکہ اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعاون کا عزم
کوریا کا امریکہ اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعاون کا عزم

  

کوریا (رضا شاہ)جنوبی کوریا کے صدر نے خطے کے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مستحکم کرنے کے لئے سر جوڑ لئے ہیں کیونکہ وہ امریکی صدر کی نئی انتظامیہ کے ساتھ سفارتی ماحول میں زیادہ سے زیادہ ممکنہ تبدیلیاں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔

 صدر مون جےان نے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے امریکی صدر جو بائیڈن کے حلف اٹھانے کے فوراًبعد سیول کے سفارتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔ کوریا کے صدر نے مزید کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ سیول اور واشنگٹن اتحاد کو مستحکم کیا جائے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ باہمی تعاون کے ساتھ تعلقات کو مزید تقویت ملے تاکہ اقتدار کی یہ منتقلی اہم موڑ ثابت ہو سکے۔

کوریا کے صدر نے چین کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی امید ظاہر کی کیونکہ 2022 میں سیول اور بیجنگ کے سفارتی تعلقات کو قائم ہوئے 30 سال پورے ہو جائیں گے۔ جنوبی کوریا کے صدر نے جاپان کے بارے میں کہا ہے کہ دونوں پڑوسی ممالک کو اپنے تعلقات کو تعمیری اور مستقبل کی سمت کا تعین کرنے کی ضرورت ہے اور ماضی میں رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس سال کے آخر میں طے شدہ ٹوکیو اولمپکس شمال مشرقی ایشیامیں امن کے فروغ کے لئے دوطرفہ تعلقات اور پیش قدمی کی کوششوں کو بہتر بنانے کا ایک موقع ہوگا۔کوریا کے صدر نے روس کے ساتھ سٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کو فروغ دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

 جنوبی کوریا اس سال ماسکو کے ساتھ اعلیٰ سطح کے تبادلے کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے ، جس میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا سیول کا دورہ بھی شامل ہے اور توانائی اور ریلوے سمیت مختلف شعبوں میں فعال معاشی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے آسیان کے ممبروں کے ساتھ مزید شراکت داری اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے عالمی امور سے نمٹنے کے لئے کوششیں کرنے پر بھی ذور دیا۔ شمالی کوریا کے ساتھ جنوبی کوریا مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کے لئے کوششیں کرے گا۔ وزارت دفاع مستقل طور پر بین کوریائی فوجی بات چیت کرنے کی کوشش کرے گی اور صحت کی دیکھ بھال میں تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کرے گی۔

مزید :

بین الاقوامی -