پنجاب کارکردگی کے حوالے  سے سب سے آگے!

پنجاب کارکردگی کے حوالے  سے سب سے آگے!

  

عملی کارکردگی اور سیاسی بیان بازی کی جنگ میں فتح ہمیشہ زمینی حقائق اور عملی کارکردگی کی ہوتی ہے۔پاکستان میں اور خاص طور پر سب سے بڑے صوبے پنجاب میں وزیراعلی سردار عثمان بزدار کا تشخص ایک ایسے شخص کا ابھرا رہا ہے جو سستی شہرت اور بیان بازی کے مقابلے میں الجھنے کی بجائے ہمیشہ اپنے کام اور عوام کی خدمت پر فوکس کئے ہوئے ہیں۔ مخالفین نے انہیں وزیراعلی کے منصب پر نیا ہونے کے باعث ہمیشہ انڈر ایسٹیمیٹ کرنے کی غلطی کی اور سردار عثمان بزدار نے اپنے قائد وزیراعظم پاکستان عمران کے ویژن کو عملی جامعہ پہنانے کے لئے اپنی صلاحیتوں اور اپنی ٹیم کی قابلیت کا صحیح استعمال کرنے پر توجہ دئیے رکھی۔ جمہوریت کا حسن ہے کہ حکومت براہ راست عوام کے سامنے جواب دہ ہوتی ہے جو بھی حکومت شہریوں کی جان ومال کی حفاظت،فلاح وبہبود،معاشی ترقی وخوشحالی کے لئے جامع اقدامات کرتی ہے وہ عوام میں زیادہ مقبول ہوتی ہے۔ صوبہ پنجاب کے عوام خوش قسمت ہیں کہ انہیں سردار عثمان بزدار کی شکل میں ایسی سیاسی وجمہوری ذہن رکھنے والی قیادت نصیب ہوئی ہے جس نے برداشت، رواداری اور بھائی چارے کی سیاست کو پروان چڑھایا اور نفرت وانتظامی سیاست کے کلچر کو دفن کر دیا ہے۔ انہوں نے پارلیمانی روایات کو آگے بڑھاتے ہوئے شاندار جمہوری ماحول پیدا کیا ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ حکومت پنجاب نے عوامی فلاح کے تاریخی کام کئے ہیں جن میں دوسرے صوبوں نے بھی تقلید کی ہے۔

 حالات کے جبر اور عالمی سطح پر کرونا کے باعث ابھرنے والی مہنگائی کی لہر کے باوجود وزیراعلی پنجاب کی کارکردگی اپنے ہم عصر وزرائے اعلی سے کہیں بہتر رہی۔ چاروں صوبوں میں یہ رائے کسی نہ کسی رنگ میں ابھر کر سامنے آتی رہی ہے اور اب ایک تازہ ثبوت انتہائی قابل بھروسہ رائے شماری سے سامنے آیا ہے۔انسٹی ٹیوٹ آف پبلک اوپینین (IPOR) نے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی کی گزشتہ تین سال کی کارکردگی کے حوالے سے بڑی تعداد میں لوگوں سے رائے لی۔ یہ رائے تعلیم،صحت،نئے ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد اور سرکاری محکموں میں سروس ڈلیوری سمیت حکومتی سطح کے مختلف شعبوں کے حوالے سے لی گئی۔رائے عامہ کے غیر جانبدار اور آزاد ادارے انسٹی ٹیوٹ آف پبلک اوپینین کے مطابق وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی مجموعی کارکردگی باقی تینوں صوبوں یعنی خیبرپختونخواہ،بلوچستان اور صوبہ سندھ کے وزرائے اعلی سے بہتر رہی۔ 45فیصد رائے دہندگان نے سردار عثمان بزدار کو باقی تمام وزرائے اعلی سے بہترین کارکردگی کے حامل وزیراعلی قرار دیا۔ سردار عثمان بزدار نے تعلیم، صحت کی سہولتوں کی بنیاد پر بھی باقی تینوں وزرائے اعلی کو پیچھے چھوڑ دیا اور اس طرح وہ وزیراعظم کے اس اعتماد پر پورا اترنے میں بھی کامیاب رہے جو وہ ایک سے زیادہ بار ان پر کرتے چلے آرہے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے حقیقی معنوں میں سردار عثمان بزدار کو وسیم اکرم پلس قرار دیا اور انہوں نے اس بات کو سچ کر دکھایا۔وزیراعلی نے تمام شعبوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور عوام نے بھی انہیں پذیرائی دی ہے۔ مجموعی کارکردگی کے لحاظ سے سردار عثمان بزدار 45فی صد ہیں جبکہ کے پی کے وزیراعلی محمود خان کی بہترین کارکردگی کے حق میں 41فیصد،سندھ کے وزیراعلی مراد علی شاہ کے حق میں 38فیصد اور بلوچستان کے وزیراعلی عبدالقدوس بزنجو کو 32فیصد رائے دہندگان نے بہتر وزیراعلی قرار دیا۔اس میں کوئی شعبہ نہیں کہ گزشتہ تین برسوں میں پنجاب میں تعلیم کے حوالے سے بہت سے انقلابی اقدامات کئے گئے۔ اس پس منظر میں رائے عامہ کے حوالے سے نتائج اکٹھے کرنے والے اس انسٹی ٹیوٹ کے مطابق86فیصد رائے دہندگان وزیراعلی عثمان بزدار کی قیادت میں حکومت کی کارکردگی پر مطمئن نظر آئے۔ اس کے مقابلے میں کے پی کے کی حکومت کے حق میں 80فی صد،بلوچستان حکومت کے حق میں 62فیصد اور سندھ حکومت کے حق میں 58فی صد رائے دہندگان نے ظاہر کی۔

صحت کے میدان میں بھی پنجاب حکومت کے حق میں رائے دہندگان کارکردگی کا گراف سب سے بلند یعنی72فیصد ہے۔ اس سروے کے مطابق خیبر پختونخواہ67فی صد کے ساتھ دوسرے،صوبہ بلوچستان 56فی صد رائے دہندگان کی حمایت کے ساتھ تیسرے جبکہ 53فیصد رائے دہندگان کی حمایت کے ساتھ صوبہ سندھ چوتھے نمبر پر رہا۔ صوبے میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے ایک رائے لی گئی۔انسٹی ٹیونٹ آف پبلک اوپینین کے سروے کے مطابق ترقیاتی کاموں کے حوالے سے صوبہ پنجاب کی کارکردگی51فی صد رائے دہندگان کی حمایت کی بنیاد پر سب سے بہتر رہی اور اس کا کریڈٹ بھی یقینی طور پر صوبہ پنجاب کے انتظامی قیادت یعنی سردار عثمان بزدار کو جاتا ہے۔ صوبہ کے پی کے،بلوچستان اور سندھ بالترتیب 43,48 اور38فی صد رائے دہندگان کے ساتھ صوبہ پنجاب سے بہت پیچھے رہے۔ صوبے میں انتظامی مشینری کی عوامی خدمت کے لئے فرائض کی بجا آوری انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ چنانچہ سروس کی ڈیلیوری کا انحصار بھی وزیراعلی کی صلاحیت، انتظامی ہنر مندی اور سرکاری اہل کاروں سے ان کی استعداد کے مطابق زیادہ سے زیادہ کام لینے کی خوبی پر ہوتا ہے۔ صوبہ پنجاب اس لحاظ سے بھی خوش قسمت ثابت ہوا ہے کہ اسے عثمان بزدار جیسا باصلاحیت وزیراعلی ملا۔چنانچہ حالیہ سروے سے بھی اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ سروے کے مطابق پنجاب کے 61فی صد رائے دہندگان اپنے صوبے کے وزیراعلی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور اس حوالے سے باقی تینوں صوبوں میں نمایاں رہے۔

پوری دنیا کی طرح جب پاکستان اور صوبہ پنجاب میں کرونا کی وبا نے سر اٹھایا تو وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کامیاب حکمت عملی سے اس وبا سے عوام کو بچانے کے اقدامات کئے۔ ہسپتالوں میں خصوصی انتظامات کے ساتھ ساتھ ایکسپو سنٹرلاہور اور دوسرے مقامات پر تمام سہولتوں کے خصوصی سنٹرز بنوانے اور مریضوں کے علاج کے ساتھ ساتھ لاک ڈاؤن کی منصوبہ بندی کے حوالے سے وفاقی حکومت کی پالیسی پر سو فیصد عمل کرکے دکھایا جس سے پہلی،دوسری،تیسری اور چوتھی لہر کے دوران صوبہ پنجاب کے عوام کی جان کا تحفظ کیا گیا اور معمولات زندگی بھی زیادہ متاثر نہیں کئے۔اسی طرح کرونا ویکسی نیشن کے حوالے سے بھی پنجاب صوبہ پاکستان کی نیک نامی کا باعث بنا۔وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے ”نیا پاکستان صحت کارڈ“پروگرام کا آغاز کیا ہے۔31مارچ تک پنجاب کے ہر خاندان کے پاس نیا پاکستان صحت کارڈ ہوگا۔پنجاب کے مستقل رہائشی تمام خاندانوں کو 10لاکھ روپے تک کا کسی بھی منتخب سرکاری ونجی ہسپتال سے مفت علاج کروا سکیں گے۔پاکستان صحت کارڈ440ارب روپے کا تاریخ ساز فلاحی منصوبہ ہے جس سے پنجاب کے 3کروڑ خاندان اور ساڑھے11کروڑ عوام اس پروگرام سے مستفید ہوں گے۔بزدار حکومت کا یہ سب سے بڑا انقلابی قدم ہے جس کی جتنی ستائش کی جائے کم ہے۔ ساہیوال اور ڈی جی خان ڈویژن میں اس بے مثل پروگرام کا آغاز ہوچکا ہے۔ صحت کی سہولتو ں کو بہتر بنانے پر حکومت نے سب سے زیادہ توجہ دی ہے- ماضی میں شعبہ صحت کو نظر انداز کیا گیا -سابق حکومت میں شعبہ صحت کا بجٹ 169 ارب روپے تھا-موجودہ حکومت نے صحت کے بجٹ کو بڑھا کر 399 ارب روپے کر دیا ہے- پنجاب کی تاریخ میں شعبہ صحت کی بہتری کے لئے پہلی بار خطیر رقم مختص کی گئی ہے - پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار لاہور سمیت پسماندہ اضلاع میں 8مدراینڈ چائلڈ ہسپتال بن رہے ہیں۔ ملتان نشتر ٹو، ڈی جی خان میں کارڈیالوجی انسٹیٹیوٹ، رحیم یار خان میں شیخ زید ہسپتال ٹواورراولپنڈی میں انسٹی ٹیوٹ آف یورالوجی بن رہے ہیں - راولپنڈی اور بہاولپور میں ڈینٹل کالج بنائے جارہے ہیں۔ لاہور میں فیروزپور روڈ پر ایک ہزار بیڈ کا نیا ہسپتال کے قیام کا منصوبہ بنایا ہے۔ لاہور میں 3 ہسپتالوں کی 4 سو بیڈز کی نئی ایمرجنسیز بنے گی، 3 برس میں 25 ہسپتال بنائے ہیں اور 158 مراکز صحت کو اپ گریڈ کیا گیا ہے - چنیوٹ، حافظ آباد اور چکوال میں نئے ڈسٹرکٹ ہسپتالوں کے ساتھ ساتھ منڈی بہاؤالدین کے ڈی ایچ کیو ہسپتال کے نامکمل منصوبے کوتحریک انصاف کی حکومت نے پایہ تکمیل کو پہنچایا۔3 سال میں 78نئی صحت کی سہولتیں قائم کیں۔ ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پیکچ میں ہیلتھ کے 91نئے ترقیاتی منصوبے شامل کئے گئے ہیں۔مزدور اور محنت کش طبقے کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کے لئے نئے ہسپتال بنانے پر بھی توجہ دی گئی۔ PESSI کے آغاز سے52سال یعنی2018ء تک پنجاب میں 14سوشل سیکورٹی ہسپتال تھے۔ تین سال میں 9نئے ہسپتال بنائے۔اب صوبہ میں 23 سوشل سیکورٹی ہسپتال ہیں جہاں ہررجسٹرڈ مزدور اور محنت کش کو مفت علاج معالجے کی بہترین سہولتیں میسر ہیں۔

بزدار حکومت تعلیم کے شعبے کی بہتری اور فروغ تعلیم کے لئے سنجیدگی سے کام کررہی ہے۔حکومت پنجاب کااولین ترجیح ہر ضلع میں نئی یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں لارہی ہے اور اب تک 6نئی یونیورسٹیاں قائم کی جا چکی ہیں جبکہ مزید9 نئی یونیورسٹیوں کے قیام کی کابینہ منظوری دے چکی ہے۔سیالکو ٹ میں ایک عالمی معیار کی انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی قائم کی گئی ہے۔ حکومت نے 27نئے کالجز بنائے ہیں اور مزید 86کالجز بنائے جارہے ہیں۔تین سال میں 59ایسوسی ایٹ ڈگری کالجز بنائے گئے اور201گریجوایٹ کالجز میں بی ایس پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے۔ بزدار حکومت نے رحمت اللعالمین سکالر شپ کا اجراء کیا۔حکومت پنجاب نے اساتذہ کی ای ٹرانسفر پالیسی کا اجراء کیا ہے اور آن لائن ٹرانسفر سسٹم کے تحت ایک لاکھ کے قریب اساتذہ کے تبادلے ہوچکے ہیں۔ طلبا کی بہتر سمجھ بوجھ،تربیت اور رٹہ سسٹم سے نجات دلانے کے لئے میڈیم آف اسٹریکشن کو انگریز ی سے اردو میں تبدیل کیا گیا ہے۔

پنجاب حکومت نے لاہو رمیں 5 بڑے پراجیکٹ مکمل کیے ہیں۔ عبدالستار ایدھی انڈر پاس،لال شہباز قلندر انڈرپاس،باب لاہور، اہم سڑکوں پرٹریفک جام کے پوائنٹس کا خاتمہ اور مختلف مقامات پر شہریوں کے پیدل گزرنے کے لئے خصوصی پلوں کی تعمیرکے منصوبے مکمل ہوچکے ہیں۔صوبائی دارالحکومت میں 9ارب 16 کروڑ70 لاکھ روپے کی لاگت سے 3 بڑے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔چلڈرن ہسپتال کے قریب لاہور برج پر اضافی لین تعمیرکی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ 4ارب 90کروڑ روپے کی لاگت سے داتا گنج بخش فلائی اووربنایاجارہا ہے۔2ارب 54کروڑ 80لاکھ روپے سے شاہکام چوک فلائی اوورکا منصوبہ جلد مکمل ہوگا۔سگیاں روڈ کی تعمیر و توسیع پر3ارب 40 کروڑروپے لاگت آئے گی۔3ارب روپے کی لاگت سے مین بلیوارڈ گلبرگ تا والٹن روڈ ڈیفنس موڑ سنگنل فری کوریڈوربنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کریم بلاک علامہ اقبال ٹاؤن پر انڈرپاس اور فلائی اوور کی تعمیرپر2ارب 90 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق لاہور میں Lahore Techno  Polis  بنا رہے ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کے فروغ کیلئے 790ایکڑ اراضی پر قائم ہونے والے اس تاریخی منصوبے کا بنیادی مقصد نئی نسل کوعالمی معیار کی ٹیکنالوجی اورریسرچ بیسڈتعلیم اورہائی ٹیک مینوفیکچرنگ کے مواقع فراہم کرنا ہے۔Lahore Techno  Polis  کو سپیشل ٹیکنالوجی زون ایکٹ کے تحت تمام مراعات حاصل ہوں گی اور10سال کے لیے ٹیکس کی چھوٹ بھی ملے گی۔تمام اضلاع کے لئے علیحدہ علیحدہ ڈویلپمنٹ پیکج دیا جارہا ہے۔

بچت و کفایت شعاری، وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارنے سب کو پیچھے چھوڑ دیا-وزیر اعلی عثمان بزدارنے اپنے دور میں وزیر اعلی آفس کے اخراجات میں نمایاں کمی کی مثال قائم کی ہے - شہباز شریف کے دور حکومت کے آخری مالی سال2017-18ء میں وزیراعلیٰ آفس کے اخراجات میں قومی وسائل کا بے دریغ استعمال کیا گیا- شہباز شریف کے دور میں مالی سال 2017-18ء میں وزیراعلیٰ آفس کے مجموعی اخراجات23 کروڑ 90 لاکھ روپے تھے-وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے دور میں مالی سال 2020-21میں وزیراعلیٰ آفس کے مجموعی اخراجات 14کروڑ 30 لاکھ روپے رہے-شہبازشریف دور حکومت میں مالی سال2017-18ء میں گاڑیوں کی مرمت پر 4کروڑ 20 لاکھ روپے کے اخراجات ہوئے-وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے دور میں مالی سال-21 2020میں گاڑیوں کی مرمت کی مد میں ایک کروڑ50 لاکھ روپے خرچ ہوئے-شہبازشریف دور حکومت میں مالی سال2017-18ء میں انٹرٹینمنٹ اور تحائف کی مد میں 9 کروڑ روپے خرچ کئے گئے-وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے دور حکومت میں مالی سال 2020-21میں 4 کروڑ 40 لاکھ روپے انٹرٹینمنٹ اور تحائف کی مد میں خرچ ہوئے- شہبازشریف دور حکومت میں مالی سال 2017-18ء میں گاڑیوں کے ایندھن کی مد میں 3 لاکھ 72 ہزار لٹر پٹرول/ ڈیزل/موبل آئل استعمال کیا گیاجبکہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے دور حکومت میں مالی سال-21 2020 میں گاڑیوں کے ایندھن کی مد میں 2 لاکھ 28 ہزار لیٹر پٹرول/ڈیزل/موبل آئل استعمال ہوا- شہبازشریف دور حکومت میں مالی سال 2017-18ء میں گاڑیوں کے ایندھن کی مد میں 3 کروڑ 50 لاکھ روپے خرچ کئے گئے جبکہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے دور حکومت میں مالی سال 2020-21 میں گاڑیوں کے ایندھن کی مد میں 2 کروڑ 70 لاکھ روپے خرچ ہوئے-وزیراعلی عثمان بزدارنے وزیراعلیٰ آفس سمیت پنجاب بھر میں شاہ خرچیوں کا کلچرختم کردیا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ کی رپورٹ حکومت پنجاب خصوصا وزیراعلی سردار عثمان بزدار کی کارکردگی یقینا ایک اطیمنان بخش امر ہے۔ دوسرے صوبوں کی کارکردگی کے حوالے سے بھی پنجاب حکومت کی کارکردگی قابل تعریف ہے لیکن اس رپورٹ کے بعد وزیراعلی سردار عثمان کی ذمہ داریاں اور بڑھ جاتی ہیں اور ابھی ان کا سفر ختم نہیں ہوا۔ صوبے اور اس کے عوام کو ابھی بھی کئی مسائل کاسامنا ہے اور ان کے حالات کار کو بدلنے کے لئے ابھی اور مزید سخت محنت کی ضرورت ہے۔امید واثق ہے کہ سردار عثمان بزدار صوبے کی ترقی وخوشحالی اور لوگوں کے حالات کار کو بہتر بنانے کی جانب سے اپنے سفر کو مزید تیز رفتاری سے جاری رکھیں گے۔ صوبے کے عوام کو ان سے بہت سے توقعات وابستہ ہیں اور ان کی توقعات پر پورا اترنے کے لئے ضروری ہے کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔ انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپینین کی رپورٹ کی روشنی میں وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدا رکو ”ویل ڈن“ کہا جا سکتا ہے۔

٭٭٭

سردار عثمان بزدار نے تعلیم،صحت اور سروس ڈلیوری پر

 تینوں وزرائے اعلی کو پیچھے چھوڑ دیا

مزید :

ایڈیشن 1 -