لاہور میں بم دھماکہ

لاہور میں بم دھماکہ

  

لاہور کے انتہائی گنجان آباد علاقے انار کلی بازار اور لاہوری دروازہ کے سنگم پر واقع پان منڈی کے قریب بم دھماکے سے9سالہ بچے سمیت تین افراد شہید،اور29 زخمی ہو گئے۔پانچ کی حالت تشویشناک ہے۔بم موٹر سائیکل پر نصب کیا گیا تھا،اردگرد کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے، متعدد موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔ بلوچ آرمی نامی تنظیم نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے،جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ چند ہی روز پہلے بلوچ علیحدگی پسندوں کے دو گروپوں کی باقیات نے  مدغم ہو کر اس کی بنیاد رکھی ہے۔قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہیں،اور سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے چند افراد کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔پولیس حکام پُریقین ہیں کہ جلد وہ اس  واردات کا ارتکاب کرنے والوں تک جا پہنچیں گے،ان کے معاونین اور سہولت کار بھی دھر لیے جائی گے۔دعا کی جانی چاہیے کہ ایسا جلد ہو، اور دہشت گردوں کی ٹوٹی ہوئی کمر پر ایک کاری ضرب لگائی جا سکے۔

لاہور میں گذشتہ ایک سال پرسکون گذرا ہے۔دہشت گردی کی آخری واردات پچھلے سال جون میں جوہر ٹاؤن کے علاقے میں ہوئی تھی۔ حافظ سعید کی رہائش گاہ کے قریب ہونے والے حملے میں پولیس اہلکاروں سمیت تین افراد مارے گئے تھے،جبکہ24 زخمی ہوئے تھے۔عمارتوں اور املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا۔اس سانحے کے چند روز بعد ہی قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف نے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری اور انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملنے والے شواہد سے یہ بات ثابت ہو رہی ہے کہ ماسٹر مائنڈ کا تعلق بھارتی خفیہ ایجنسی سے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جس دن یہ حملہ ہوا،اُسی دن پاکستان کے تفتیشی نظام پر بھی ہزاروں سائبر حملے ہوئے،جن کا مقصد اس حملے میں ملوث نیٹ ورک سے توجہ ہٹانا تھا۔ ڈاکٹر معید یوسف نے کہا تھا: میں کسی ابہام کے بغیر وثوق سے کہنا چاہتا ہوں کہ اس سارے حملے کے تانے بانے انڈیا کی پاکستان کے خلاف دہشت گردی سے جڑے ہیں۔ملزموں کے خون اور ملنے والے دیگر آلات کے فرانزک آڈٹ سے بھی اس کی تصدیق ہو گئی ہے۔ اس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے عالمی برادری سے اپیل کی تھی کہ وہ اس ”بدمعاشی“ کے خلاف حرکت میں آئے۔عالمی برادری نے تو کسی خاص ردعمل کا مظاہرہ نہیں کیا،لیکن پاکستان کے تفتیشی اداروں نے کمال مہارت کا ثبوت دیتے ہوئے ملزموں کو بے نقاب کیا،چند ہی روز پہلے لاہور میں انسداد دہشت گردی کی ایک خصوصی عدالت نے چار ملزموں کو9،9 بار موت کی سزا سنائی ہے،جبکہ ایک خاتون معاون کو پانچ سال قید بامشقت کی  سزا دی گئی ہے۔ سیکیورٹی خدشات کے سبب اس مقدمے کی کارروائی جیل ہی میں جاری رہی اور مکمل کی گئی تھی۔

افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد توقع تھی کہ اب وہاں موجود دہشت گردوں کو محفوظ ٹھکانے میسر نہیں رہیں گے۔پاکستانی طالبان نے تو باقاعدہ جنگ بندی بھی کی تھی، لیکن اب وہ دوبارہ متحرک نظر آئے ہیں۔اسلام آباد میں پولیس اہلکاروں کو چند ہی روز پہلے جس طرح نشانہ بنایا گیا اس کے بعد وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا تھا کہ ٹی ٹی پی سے جنگ بندی ختم ہو چکی ہے۔ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے بھی ایک پریس کانفرنس میں ہر طرح کی صورت حال کا سامنا کرنے کے عزم کو دہرایا تھا۔ پاکستانی ریاست دہشت گردوں کا مقابلہ کر کے دکھا چکی ہے، اور اب بھی اس میں اہلیت اور صلاحیت ہے کہ انہیں کیفر کردار تک پہنچا سکے، جو عناصرپرامن مستقبل کے متلاشی ہوں، اور ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ چکے ہوں، ان کا معاملہ مختلف ہو جاتا ہے۔اسی لیے انہیں بات چیت کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ممکن ہے افغان طالبان کا اثرو رسوخ کام آئے اور پاکستانی طالبان ہوش کے ناخن لے لیں، لیکن لاہور کی تازہ واردات نے یہ خبر دی ہے کہ بلوچ علیحدگی پسند بھی اپنے وجود کا احساس دلانا چاہتے ہیں۔ افغانستان کی زمین تنگ ہونے کے بعد وہ اندرون ملک اپنی طاقت مجتمع کر رہے ہیں۔پاکستان کے خفیہ اداروں کو ان تک پہنچنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی،اور امید ہے کہ جلد ان کے گرد گھیرا تنگ کر دیا جائے گا۔یہ گمراہ اور بے راہ عناصر شہری آبادیوں کو نشانہ بنا کر بے تدبیری اور کوتاہ نظری کا ثبوت ہی فراہم کرتے ہیں۔اہل ِ پاکستان بھاری نقصانات اٹھانے کے باوجود بے حوصلہ نہیں ہوئے۔ہر حملے نے ان کے دفاعی عزم کو پختہ کیا ہے، اور انہوں نے اپنے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پُرجوش پشت پناہی کو جاری رکھا ہے۔پاکستان ایک جمہوری ملک ہے۔اس میں ہر شخص کو اپنے جذبات کے اظہار کا موقع میسر ہے۔وہ اپنے نقطہ نظر کا اظہار کر سکتا ہے،اپنے مطالبات پیش کر سکتا ہے،ان کے حق میں رائے عامہ ہموار کر سکتا ہے،یہاں طاقت کے ذریعے اپنی بات منوانے کی کوشش خود کشی کے سوا کچھ اور نہیں ہے،جو جذباتی یا لاابالی لوگ کسی کے ورغلانے میں آ کر بے گناہ شہریوں کی جانوں اور املاک کو نقصان پہنچاتے ہیں،وہ اپنے آپ کو ایسے گڑھے میں دھکا دے  رہے ہوتے ہیں،جس سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔خفیہ اداروں کے ساتھ ساتھ عوام سے رابطہ رکھنے والے سیاسی، مذہبی اور سماجی رہنماؤں اور کارکنوں پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنے اردگرد گہری نظر ڈالیں،اور ان عناصر کی سرکوبی میں اپنا کردار ادا کریں، جو جمہوری اور سیاسی عمل کو سبوتاژ کرنے کے در پے ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -