صدارتی نظام ناممکن،بحث فضول ہے

صدارتی نظام ناممکن،بحث فضول ہے
صدارتی نظام ناممکن،بحث فضول ہے

  

حیران ہوں کہ ہم بحیثیت پاکستانی کدھر جا رہے ہیں،اور کیسی قوم ہیں کہ اصل حقائق و مسائل کو چھوڑ کر فروعات کے بارے میں پُرجوش ہو جاتے ہیں۔ان دِنوں بھی سوشل میڈیا کی مہربانی سے قوم کو ایک ایسے مسئلے میں الجھایا جا رہا ہے،جس کا کوئی جواز نہیں اور جو ناممکن ہے۔چند روز قبل عزیزم سید ادیب علیمی نے امریکہ سے ایک پوسٹ ارسال کی جو ان کی ایک کتاب کے حوالے سے کسی سیمینار کی ویڈیو تھی، اور اس میں پاکستان میں صدارتی نظام کی ضرورت پر زور دیا جا رہا تھا کہ استاد محترم سید اکمل علیمی(مرحوم) کے ان بڑے صاحبزادے نے کتاب میں یہ تھیوری پیش کی تھی کہ پاکستان کے مسائل کا حل صدارتی نظام میں ہے۔ مَیں نے اسے نظر انداز کر دیا کہ موبی(ادیب) کی یہ اپنی سوچ ہے اور ہر کسی کو اپنے فہم کے مطابق یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی رائے رکھے اور اس کا اظہار بھی کرے۔میرا یہ نظر انداز کرنا کسی کام نہ آیا کہ اب نہ صرف سوشل میڈیا پر باقاعدہ میدان کارزار نظر آ رہا ہے،بلکہ حکمران جماعت اور اپوزیشن بھی اس میں الجھ گئی ہے۔جہاں تک ہمارے الیکٹرونک میڈیا کا تعلق ہے تو ان کے لئے ہر روز کوئی ایشو چاہئے تاکہ ٹاک شوز ہو سکیں، لیکن افسوس تو یوں ہوا کہ ہمارے قانون ساز ادارے کے اراکین نے بھی درست طور پر غور نہیں فرمایا اور اپوزیشن کی طرف سے صدارتی نظام کے خلاف قومی اسمبلی میں قرارداد جمع کرا دی گئی ہے۔حکومت کی طرف سے اس کی تردید کی گئی کہ صدارتی نظام کے حوالے سے کوئی امر زیر بحث یا غور ہے،اس کے جواب میں آج رانا ثناء اللہ کہہ رہے تھے کہ اگر حکومت کو بھی اعتراض نہیں ہے،اور وہ لوگ صدارتی نظام کے خلاف ہیں تو یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور ہونا چاہیے۔

یہ سب اپنی جگہ،لیکن مَیں یہ سوچ رہا ہوں کہ یہ نان ایشو کیوں اچھالا جا رہا ہے،اور اس پر غور کیوں نہیں کیا جاتا کہ1973ء کے متفقہ آئین کے ہوتے ہوئے صدارتی نظام لایا ہی نہیں جا سکتا۔1973ء کے اس آئین کی اصل روح ہی پارلیمانی نظام حکومت ہے اور1973ء میں جب ذوالفقار علی بھٹو نے قومی اسمبلی سے یہ آئین منظور کرا کے پارلیمانی طرزِ حکومت کا نفاذ کیا تو اس وقت وہ خود بھی صدر اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر تھے اور یہ ان کو وراثت میں ملا کہ کہ جنرل یحییٰ کو اقتدار سے ہٹا کر ان کو بنایا گیا تھا۔ذرا سا بھی غور فرمائیں تو جو اسمبلی1973ء کے آئین کو بنانے والی تھی وہ المیہ مشرقی پاکستان سے پہلے والی تھی، کہ نئے انتخابات کی بجائے70ء والے نتائج پر انحصار کیا گیا اور یہ اسمبلی آئین ساز اسمبلی کے طور پر وجود میں آئی تھی، اب جو اسمبلی آئین ساز تھی، اور اس نے پارلیمانی نظام حکومت والا آئین منظور کیا تھا تو اب اس نظام کو تبدیل کرنے کے لئے بھی آئین ساز اسمبلی ہی کی ضرورت ہے،کہ موجودہ اسمبلی کا وجود تو خود1973ء کے آئین کا مرہون منت ہے جو آئین ساز اسمبلی نے منظور کیا تھا۔

اس آئین کو ختم کر کے نئے آئین کے لئے نہ تو جنرل ضیاء الحق اور نہ ہی جنرل پرویز مشرف نے کوشش کی۔ اگرچہ ہر دو نے آئین کی روح کے خلاف ہی صدارتی طرز اختیار کیا تاہم آئین کو سردخانے میں رکھا، کسی نے آئینی طور پر صدارتی نظام کی کوشش نہ کی اور بالآخر1973ء کا آئین ہی بحال ہوا اور اسی کے تحت 2002ء سے2018ء تک کے انتخابات ہوئے اور اب 2023ء (مقررہ مدت) میں بھی عام انتخابات اسی آئین کے تحت ہوں گے، جو پارلیمانی ہے اور اسے تبدیل ہی نہیں کیا جا سکتا،اس لئے یہ بحث ہی فضول اور بے معنی ہے۔اس حوالے سے انرجی ضائع کرنا درست نہیں۔ میں صدارتی نظام کے دعویداروں سے دریافت کرتا ہوں کہ کیا وہ اس امر کے اہل ہیں کہ موجودہ آئین کو ختم کر کے اسی اسمبلی سے آئین ساز اسمبلی کے انتخابات کی منظوری حاصل کریں،اور انتخابات کرا کے نیا آئین بنا لیں۔حضرات محترم یہ سب ناممکن ہے۔یہ بھی طے شدہ ہے کہ اگر اس متفقہ آئین کو ختم کیا گیا تو پھر اس ملک کے لئے نیا آئین ہی نہ بن سکے گا، جہاں نیب کے چیئرمین کے نام پر اتفاق نہ ہو سکے،وہاں نیا آئین کیسے بن سکے گا۔میری درخواست ہے کہ قوم کو بھٹکانا چھوڑیں اور اصل مسائل کی طرف توجہ دیں۔

 کیا ہمارا مسئلہ صرف یہی ہے کہ ملک کو پارلیمانی نہیں، صدارتی نظام کی ضرورت ہے،حالانکہ اِس وقت ہم ایک بار پھر کورونا کی تازہ ترین لہر کی زد میں ہیں، معاشی حالت سنبھل نہیں رہی، حزبِ اقتدار دعوے کرتی اور اپوزیشن جھٹلا دیتی ہے،مہنگائی سانس نہیں لینے دے رہی، قدرتی وسائل سے مالا مالا ملک (دعوؤں کے مطابق) میں قدرتی گیس کی قلت اور پٹرولیم کی کمی ہے اس کے باعث درآمدی بل ناقابل برداشت حد تک پہنچ چکا ہے، تنخواہ دار طبقہ تو پس کر رہ گیا، سفید پوشی کے بھرم بھی ختم ہو چکے، بیماریاں بڑھ رہی ہیں،دھند سے جان نہیں چھوٹ رہی،بدعنوانی اور کرپشن کی کوئی حد مقرر نہیں،خود وزیراعظم اعتراف کرتے ہیں، ایسے مسائل کی موجودگی میں حل کی طرف توجہ دینے اور متفقہ قومی پروگرام بنانے کی بجائے آپ ایک نئی اور بیکار بحث میں قوم کو الجھا رہے ہیں۔یہ کہاں کی نیکی ہے؟

جہاں تک صدارتی نظام والی بات ہے تو عرض کیا کہ یہ بھی اصل حقائق سے نگاہ ہٹانے والی بات ہے،ضرورت تمام قومی مسائل پر اتفاق رائے کی ہے، یہاں محاذ آرائی اور ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنے کی روش ہے اس سے مسائل بڑھتے ہیں۔تازہ ترین افسوناک سانحہ نئی انار کلی لاہور میں پیش آیا ہے۔دہشت گردی میں جانی و مالی نقصان ہوا، وفاقی وزیر داخلہ کہتے ہیں،الرٹس تھے۔ سوال یہ ہے کہ کس کو آگاہ کیا گیا، کس نے تحفظ کرنا تھا۔ یہ خبر بھی ہے کہ پنجاب کو اطلاع دی گئی اسے درخوراعتنا نہ جانا گیا،اور اپوزیشن کے حوالے سے ہی بات ہوتی رہی، کیا اس دہشت گردی کا پس منظر بتایا جائے گا،جو سب کو معلوم ہے۔ افواج وزیرستان اور بلوچستان میں پھر سے نبرد آزما ہیں۔اسلام آباد میں پولیس والا مارا گیا اور اب لاہور نشانہ ہے۔بتا دیں کہ آپ مذاکرات کر رہے تھے، بتا دیں کہ ان کا کیا بنا تھا؟ میری پھر سے گذارش ہے کہ یہ ابلاغ(ہر نوع) کی تکنیک کو چھوڑیں،حقائق کا ادراک کریں،قومی اور عوامی مسائل مل کر حل کریں۔

مزید :

رائے -کالم -