اب گھبرا چکا ہوں مَیں!

 اب گھبرا چکا ہوں مَیں!
 اب گھبرا چکا ہوں مَیں!

  

سات سال قبل عمران خان نیازی نے وفاقی دارالحکومت کے ڈی چوک میں نواز حکومت کے خلاف احتجاجی دھرنے میں خطاب کے دوران امپائر کی انگلی اٹھنے کا متعدد بار اشارہ کیا۔ حالات بھی ایسے ہی دکھائی دے رہے تھے کہ دشمن وار کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ سانحہ اے پی ایس میں 132طالب علم بچوں سمیت 141جانیں چلی گئیں۔ پورا ملک سوگ میں ڈوب گیا۔ امپائر کی انگلی نہ اٹھی، پی ٹی آئی کا احتجاجی دھرنا جاتا رہا۔ سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کو 7سال ہو گئے۔ معصوم، نونہال اور پیارے پیارے بچوں کی یاد اور زخم آج بھی تازہ ہیں۔ دہشت گردوں کی اس وحشیانہ کارروائی میں 150کے قریب پھولوں سمیت اساتذہ اور دیگر لوگ شہید ہوئے، آج بھی سیاسی و سماجی تنظیمیں، سول سوسائٹی اور این جی اوز ان شہیدوں کے لئے قرآن خوانی اور دعائیہ اجتماعات کا اہتمام کرتی  اور اپنے پیاروں کو یاد کرتی ہیں۔

واقعہ میں ملوث دہشت گردوں کو پھانسی کی سزا ہونے کے باوجود جن ماؤں کے پھول، بیویوں کے شوہر اور بہنوں کے بھائی شہید ہوئے، وہ آج بھی ان کے غم میں نڈھال ہیں اور ملک کی فضا سوگوار ہے، دل غمگین اور ہر آنکھ نم ہے۔ ایسے واقعات کے سدباب کے لئے پوری قوم کا متحد ہونا بہت ضروری ہے، مگر ملک و ملت کا دشمن قوم کو متحدہ ہونے نہیں دے رہا، اس کا ثبوت ماہ دسمبر 2021ء میں شہر اقبال سیالکوٹ میں پیش آنے والا حالیہ سانحہ ہے جس میں بے لگام ہجوم نے ایک فیکٹری کے سری لنکن پروڈکشن منیجر کو انتہائی بے دردی سے ہلاک ہی نہیں کیا، بلکہ اس کی نعش کو آگ بھی لگا دی،جبکہ اس ہنگامے کو منتشر اور کنٹرول کرنے کے لئے آنے والی پولیس ایک جانب کھڑی تماشا دیکھتی رہی اور موقع پر مشتعل ہجوم کے لوگ جلتی ہوئی انسانی لاش کے ساتھ تصویریں بناتے رہے۔ رٹ قائم رکھنے والے اداروں کے ناکام ہونے پر بیرونی دنیا میں پراپیگنڈہ کیا گیا کہ ریاست رٹ قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

16دسمبر 2014ء سے قبل عمران خان نیازی کے حکومت مخالف طویل ترین احتجاجی دھرنوں کی فلم ذہن میں محفوظ ہے اور اب 16دسمبر کے اخبارات میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا بیان سامنے آیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے صف اول کے رہنما بھی عمران خان کی طرح بہکی بہکی باتیں کر رہے ہیں، وہ اس انتظار میں ہیں کہ حکومت کے اوپر سے مضبوط ہاتھ اٹھتے ہی پی ٹی آئی کی حکومت اور وزیراعظم عمران خان نیازی ایک دن بھی اقتدار میں نہیں رہ سکیں گے۔ انہوں نے شاید آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی سے ٹیلی فون پر چودھری شجاعت حسین کی خیر خیریت دریافت کرنے، نیک خواہشات کا اظہار کرنے اور میاں نواز شریف اور اسحاق ڈار کی طرف سے چودھری پرویز الٰہی سے ٹیلی فون پر چودھری شجاعت حسین کی خیریت پوچھنے اور چودھری شجاعت حسین اور سپیکر پنجاب اسمبلی کو جب بھی لندن تشریف لائیں، ملاقات کی دعوت دینے سے جوڑ دیا ہے،

حالانکہ ہم سب کو معلوم ہے کہ ملک کے سیاستدان بے شمار اختلافات ہونے کے باجود ایک دوسرے سے خوشی اور غمی کے موقع پر رابطے کے علاوہ بھی آپس میں سیاسی طور پر رابطے میں رہتے ہیں۔ ملک میں پارلیمانی نظام حکومت چل رہا ہے، اس نظام میں سیاست دانوں کو ایک دوسرے کی ضرورت رہتی ہے، سوائے عمران خان کے…… یہ ایک عام فہم سی بات ہے کہ حکومتیں ووٹ کے ذریعے اقتدار میں لائی جاتی ہیں۔ امپائر کی انگلی اٹھنے اور مضبوط ہاتھ حکومت کے سر سے اٹھنے سے حکومتیں نہیں جاتیں۔ جب کبھی حکومتیں جاتی ہیں تو ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے حکومت چھیننے کے غیر جمہوری طریقے سے جاتی ہیں، جس کی عوام اور سیاست دانوں نے کبھی حمایت نہیں کی۔50سال پہلے ڈھاکہ میں ہتھیار ڈالنے کی خبر بھی قوم نے انتہائی دکھ اور درد کے ساتھ سنی اور ہر چہرے پر اداسی چھا گئی تھی، گھر میں والدہ نے یہ کہہ کر کھانا نہیں پکایا کہ مشرقی پاکستان میں میرے بہن بھائیوں پر نہ جانے کیا بیت گئی ہے۔ والد محترم رانا سردار خان کمرے میں چارپائی پر بیٹھے ریڈیو پر کسی اچھی اور امید افزا خبر سننے کے لئے بے چین تھے، مگر مایوسی ہی رہی اوردشمن اپنے منصوبے میں کامیاب ہو گیا۔ 

ہم کس کس کے خلاف احتجاج کریں۔ فوج اور ملک کے سیاست دانوں نے ہی تو حکومت اور ریاست کو بحرانوں اور بھنوروں سے نکال کر ملک کو لے کر آگے بڑھنا ہے۔ ہم نے اگر 16دسمبر 1971ء کے واقعہ سے کچھ سیکھا ہوتا تو ہم دنیا کی معاشی، تعلیمی، اخلاقی، سیاسی اور سماجی دوڑ میں بہت آگے نکل جاتے، مگر ہم تو ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں جتے ہوئے ہیں۔ گوادر کے حالات سے قوم پریشان ہے۔ فاٹا کے حالات سنبھل نہیں پا رہے۔ فاٹا، حکومت اور ریاست کی پوری توجہ چاہتا ہے۔ ہمیں ماضی کی غلطیوں سے سیکھنے کی اب زیادہ ضرورت ہے۔ انجان سیاست دان برسراقتدار ہیں۔ 7ستمبر 1965ء کو تو مشرقی پاکستان کے میڈیکل اور  انجینئرنگ کالجوں کے طلبہ پاکستان پر حملہ کرنے کے خلاف بھارت مخالف نعرے لگا رہے تھے،پھر صرف 6سال بعد ہی ہمارے وہ بھائی ہم سے جدا ہو گئے۔ دراصل اس وقت کے مشرقی پاکستان کے ہمارے بھائی ہم سے اس لئے بچھڑے اور غیر مطمئن ہوئے، کیونکہ انہوں نے محسوس کرنا شروع کر دیا تھا کہ ملک کے غالب مغربی حصے کی طرف سے ان کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک ہو رہا ہے،

اس کے باوجود ہم نے ان کے تحفظات دور کرنے کی طرف توجہ نہیں دی، حالانکہ وہ تو اپنی سوچ اور عمل دونوں طرح سے پاکستان کے ساتھ تھے۔ پاکستان بنانے کی تحریک میں اے کے ایم فضل الحق اور حسین شہید سہروردی نے کلکتہ اور ڈھاکہ سے تحریک چلائی تھی، پھر جب حسین شہید سہروردی پاکستان کے وزیراعظم بنے تو انہیں بلاجواز ہٹا کر بنگالی بھائیوں کے دلوں میں نفرت کے بیج تو ہم نے خود بوئے تھے، انجام یہی ہونا تھا، پاکستان کے دونوں بازو کسی نہ کسی طے شدہ انتظام کے ذریعے  ایک ساتھ رہ سکتے تھے، مگر کھیل کھیلنے والوں نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ اب کھیل کھیلنے والے پھر سیاسی شطرنج کی بساط بچھا چکے ہیں، ملک کو مہنگائی نے مار دیا ہے، رشوت عام اور کرپشن روکنے والا کوئی نہیں ہے۔ ملک دیوالیہ ہونے کی باتیں ہو رہی ہیں اور ہم غلطی پر غلطی کئے جا رہے ہیں، عقل سے کام ہی نہیں لے رہے، خدا خیر کرے۔

مزید :

رائے -کالم -