”گواہی کون دے گا؟“

”گواہی کون دے گا؟“
”گواہی کون دے گا؟“

  

تاریخ ِ انسانی کے مختلف ادوار میں جہاں بھی مہذب معاشرے تشکیل پائے وہاں معاشرے کو پُر امن رکھنے کے لئے انصاف کے قیام کو ہمیشہ لازم سمجھا گیا۔ اور اس کے تسلسل سے بتدریج عدالتی نظام وجود میں آیا۔ایک بہترین اور مضبوط عدالتی نظام کے لئے لازم ہے کہ وہ شہریوں کے حقوق کو بلا رغبت و رعایت یا تعصب وعناد لاگو کرے۔انصاف کے تقاضے نبھانے کے لئے عدالتوں کو بہت حدتک مختلف نوعیت کی شہادتوں اور گواہوں کے بیانات پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔تاکہ زیرِ سماعت معاملہ کے درست یا غلط ہونے پر دلیل سے فیصلہ جا ری ہوسکے۔

رسولِ پاکؐ کے وقت سے وجود میں آنے والے مسلم معاشرہ کی اساس ہی عدل وانصاف پر رکھی گئی،جس کے قیام کے احکامات قرآن و حدیث کے ذریعے عام کیے گئے۔پھر آپ کی سنّتِ مبارکہ بطورِ منصف شہادت اور گواہی کے فلسفہ کو مزید تقویت بخشتی ہے۔

 حضرت علی ؑجب خلیفتہ المسلمین تھے، توآپ کی زِرہ گُم ہو گئی،جس پرایک یہودی سے تنازعہ پیدا ہو گیا۔ یہودی اپنی جگہ پرزِرہ کا مالک ہونے کا دعوے دار تھا۔حضرت علیؓ نے یہودی کو دعوت دی کہ وہ دونوں قاضی شریح کے پاس چلے جاتے ہیں اوردرپیش معاملہ پر اُس سے فیصلہ کراتے ہیں۔یہودی نے حضرت علیؓ کی پیشکش کو قبول کر لیا،اور وہ دونوں قاضی شریح کی عدالت میں چلے گئے۔قاضی صاحب نے حضرت علیؓ  کا بیان سننے کے بعد پوچھا،”آپؑ کے پاس کوئی گواہ ہے جو یہ کہہ سکے کہ زِرہ آپ ؑکی ہے“۔ آپؑ نے کہا،”ہاں میرا بیٹا حسینؓ  گواہ ہے“۔ حضرت امام حسین ؓنے گواہی دی کہ یہ زِرہ میرے بابا حضرت علیؓ کی ہے۔قاضی صاحب نے دوبارہ حضرت علیؓ سے دریافت کیا،”کیا آپؓ کے پاس کوئی دوسرا گواہ ہے؟“ تو آپؓ نے کہا،”نہیں میرے پاس کوئی دوسرا گواہ نہیں ہے“۔قاضی نے یہ کہتے ہوئے کہ گواہی نا کافی ہے،فیصلہ یہودی کے حق میں دے دیا۔حضرت علیؓ نے بِلا چُون وچراقاضی کا فیصلہ تسلیم کر لیا،اور وہاں سے جانے ہی لگے تھے کہ یہودی بولا،”آپؓ مسلمانوں کے خلیفہ ہونے کے باوجود، مجھے قاضی کے پاس لے کر آئے ہیں اور قاضی نے فیصلہ میرے حق میں دے دیا ہے۔ آپؑ نے صحیح معنوں میں اپنے رسولِ پاکؐ کی سنت کی پیروی کی ہے۔زِرہ آپؓ ہی کی ہے اور آپ ہی اس کے اصلی مالک ہیں۔یہ زِرہ آپؑ کے اونٹ کے سامان سے گر گئی تھی اور میں نے اُٹھا لی تھی“۔وہ یہودی حضرت علیؓ کی برداشت اور انصاف پسندی سے متاثر ہو کر دائرہ اسلام میں داخل ہو گیا۔

آج کے ترقّی یافتہ دور کوزمانہ بعد اَز جدیدیت کا نام دیا جاتا ہے، لیکن اِس دورِ تفاخر میں بین الاقوامی سطح سے لے کر ایک عام معاشرتی سطح تک، عدم انصاف کی ریل پیل ہے۔ دن کی بیّن روشنی میں ظلم و زیادتی پر مبنی واقعات رُونُما ہوتے رہتے ہیں،جنہیں جیتی جاگتی آنکھوں سے لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔اوراُن کی حرکتی تصاویربنا کر سماجی رابطوں کے مختلف صفحات پربھی چڑھاتے رہتے ہیں۔اس ظلم و زیادتی پرٹیلی ویژن چینلز،اخبارات،رسائل اور دیگر ذرائع ابلاغ انصاف کی فراہمی کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا تے ہیں۔لیکن جونہی معاملہ عدالتی حد میں آتا ہے تو زور آور پیسے کے بل بوتے پر مہنگے ترین قانونی ماہر تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔اپنی طاقت اور دہشت کے بل بوتے پر مظلوم کو یا تو پیسے کا لالچ دے کر چُپ رہنے پر قائل کرلیتے ہیں یا اُس کو اور اُس کے گواہوں کو مقدمے کی پیروی کرنے اور گواہی دینے سے باز رکھنے کے لئے خوف پر مبنی حربے اختیار کرتے ہیں۔

جس کے نتیجہ میں کبھی مدعی مظلوم کے حق میں بیان دے دیتا ہے اور کبھی گواہان آنکھوں دیکھے واقعات سے انجان ہونے کا اقرار کرتے ہیں اور اپنے پہلے دیئے گئے بیان کو غلط فہمی کا سبب گردانتے ہیں۔اس کی مثال ماضی قریب میں اسلام آبادمیں ایک لڑکے اور لڑکی کو ہراساں کرنے کے واقعہ کی ہے۔جہاں پورے سوشل میڈیا نے ان کی ہراساں کیے جانے کی ویڈیوز دِکھائیں، مختلف یوٹیوبر زنے اپنی ویڈیوز بناکر مقبولیت حاصل کی۔ تمام ٹیلی ویژن چینلز نے ویڈیوز کو پیش کرنے کے ساتھ ساتھ تبصرے کیے اورایسا دھندہ کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔لیکن چند دن پہلے منظر نامہ ہی اُلٹ ہو گیا۔متاثرہ لڑکی اپنے بُنیادی بیان سے ہی مُکر گئی۔اسی طرح آئے روز ہمارے اردگرد ایسے واقعات تسلسل سے رُونُما ہوتے رہتے ہیں،جہاں گواہ گواہی سے انحراف کو ترجیح دیتے ہیں۔

معاشرے میں جُرم کی بے باک رفتار جہاں اور بہت سے اسباب کی وجہ سے ہے، وہاں عدم تحفّظ کی بُنیاد پر گواہوں کے یا تو دستیاب نہ ہونے یا مُکر جانے کے باعث ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ معاشرتی لالچ،خوف اور دہشت کی وجہ سے گواہوں کے مُکر جانے کے باعث کوئی بھی عدالت کسی گواہ کو کوئی خاص گواہی دینے پر مجبور نہیں کر سکتی۔اور جب گواہان ہی دستیاب نہ ہوں،یا مختلف نوعیت کے دباؤ کے تحت گواہی دینے سے گریزاں ہوں تو عدالت گواہی کو فرض کر کے فیصلے جاری نہیں کر سکتی،کیونکہ گواہوں کے بیانات اور تصدیق کے باعث معاملے کے سچ یا جھوٹ ہونے کا فیصلہ ہونا ہوتا ہے۔جہاں آج چشمِ دید گواہ جان کے خوف یا کسی سماجی مجبوری کے تحت گواہی کو چھپاتے یا دینے سے اعتراض کرتے ہیں وہاں پیسے کے لالچ اور سماجی تعلق داری کو نباہنے کے لئے جھوٹی گواہی دینے کا دور دورہ ہے۔جس کے سد ِباب کے لئے قانون سازی اَشد ضروری ہے،قطعئِ نظر اس کے کہ قرآن کریم نے جھوٹی گواہی کو شِرک کے برابر ٹھہرایاہے اور شِرک گناہوں میں سب سے بڑا گناہ ہے۔

جب تک گواہوں کو تحفّظ فراہم کرنے کا طریقہئ کار وضح نہیں ہو گا، اسلامی اخلاقی اصولوں کے مطابق گواہی کی اہمیت کے بارے میں لوگوں کے اندر احساس پیدا نہیں کیا جاسکے گا،تب تک جُرائم پیشہ افراد جُرم کی نوعیت اور اس کے ارتکاب کا فیصلہ خود کرتے رہیں گے۔اور چشم دید گواہان گواہی دینے سے دور بھاگتے رہیں گے،سچی بات ہے ایسے میں گواہی کون دے گا۔

مزید :

رائے -کالم -